برطانیہ کی انسدادِ دہشت گردی پولیس گلوسٹر شائر میں امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال ایئر بیس فیئر فورڈ کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق تفتیش کاروں کو ایران کے ممکنہ ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ واقعے کے سلسلے میں 5 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ گلوسٹر شائر میں واقع فیئر فورڈ ایئر بیس کو نشانہ بنانے کے مبینہ منصوبے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے یا نہیں۔ یہ ایئر بیس امریکی فضائیہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی آپریشنز کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ برطانوی حکام نے دھماکہ خیز مواد سے متعلق قانون کی خلاف ورزی اور دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری کے شبہ میں 5 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق اتوار کی صبح سویرے بیس کی جانب بڑھتے ہوئے 3 مشتبہ ٹرکوں کی اطلاع ملنے کے بعد کارروائی شروع کی گئی۔ اس کے بعد مسلح افواج کو تعینات کیا گیا اور قریبی علاقے ویلفورڈ میں 5 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ واقعے کے بعد برطانوی فوج کی دھماکہ خیز مواد سے نمٹنے والی ماہر ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی تاکہ مشتبہ گاڑیوں کا معائنہ کیا جاسکے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر علاقے کے تقریباً 85 مکانات خالی کرا لیے گئے۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق تفتیش کار اس منصوبے کے پیچھے موجود فریق کے حوالے سے مختلف امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں روسی تخریب کاری کی کارروائی بھی شامل ہے۔ تاہم تفتیش سے واقف ذرائع کے مطابق فی الحال ایران سے منسلک محرک کو زیادہ اہم امکان سمجھا جا رہا ہے۔ اخبار کے مطابق اگر ایران سے تعلق کی تصدیق ہوجاتی ہے تو امکان ہے کہ نہ کہ کسی پراکسی گروپ کے ذریعے بلکہ یہ کارروائی براہ راست ایران سے منسلک عناصر نے کی ہو۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی ایران سے منسلک نیٹ ورکس پر بعض ایسے واقعات کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ایرانی تعلق کے امکان کو فیئر فورڈ کے مقام اور امریکی فوجی کارروائیوں میں اس کے کردار کے باعث اہم سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی فضائیہ نے ایرانی اہداف کے خلاف آپریشنز کے دوران اس ایئر بیس کو استعمال کیا ہے، جس کی وجہ سے ماضی میں اسے ایران کی جانب سے براہ راست دھمکیوں کا سامنا بھی رہا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے گزشتہ جولائی میں ایئر بیس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی سرزمین کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ایران کے لیے جائز ہدف ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد بڑا نقصان پہنچانے کی کوشش میں تھے۔ ٹرمپ نے برطانوی اور امریکی حکام کے درمیان تعاون کو بھی سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشتبہ افراد گرفتاری سے قبل طویل عرصے سے نگرانی میں تھے۔ واقعے کی جگہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں دھماکہ خیز مواد تلف کرنے والی ٹیم کا ایک روبوٹ 3 سفید ٹرکوں کا معائنہ کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ پولیس نے علاقے کے گرد وسیع سکیورٹی حصار بھی قائم کر رکھا ہے۔



