77.2 F
Pakistan
Monday, September 21, 2026
HomeCrimeہنگو، فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے، دو افسران...

ہنگو، فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے، دو افسران سمیت چھ اہلکار جان سے گئے: پاکستان فوج

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ اتوار کو خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے قافلے اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے۔ بیان کے مطابق فائرنگ کے دوران دو افسران سمیت چھ اہلکار بھی جان سے گئے۔ عسکریت پسندوں کی موت سے متعلق فوج کے بیان میں کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا: ’نتیجتاً انڈین سرپرستی یافتہ فتنۂ خوارج سے تعلق رکھنے والے آٹھ خوارج جہنم واصل ہوئے۔‘ آئی ایس پی آر کے مطابق جان سے جانے والوں میں کیپٹن ابوذر فاروق اور لیفٹیننٹ شیراز بابر شامل ہیں۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کیپٹن ابوذر فاروق کی عمر 23 سال تھی اور ان کا تعلق ضلع گوجرانوالہ سے تھا، جبکہ لیفٹیننٹ شیراز بابر 22 سال کے تھے اور ضلع چکوال کے رہائشی تھے۔ دونوں افسران کے بارے میں فوج نے کہا: ’دونوں بہادر افسران اپنے دستوں کی قیادت آگے بڑھ کر کر رہے تھے، شدید فائرنگ کے دوران بہادری سے لڑے اور اپنے چار جوانوں کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا۔‘ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں کسی اور عسکریت پسند کی موجودگی کے پیشِ نظر صفائی کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت مہم جاری رکھے ہوئے ہیں، جسے قومی ایکشن پلان پر وفاقی ایپکس کمیٹی نے منظور کیا تھا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) مہم جاری رکھنے کے عزم کے بارے میں پاکستان فوج نے کہا: ’غیر ملکی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کی لعنت کو ملک سے ختم کرنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔ ہمارے بہادر سپاہیوں کی یہ قربانیاں قوم کے تحفظ کے ہر قیمت پر عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘ ہنگو میں اتوار کی جھڑپ ایسے وقت ہوئی ہے جب رواں سال ملک میں عسکریت پسندی سے جڑا تشدد بلند سطح پر ہے۔ اس سے پہلے 30 جولائی کو ہنگو کی ایک پولیس چوکی پر حملے میں کم از کم 11 پولیس اہلکار جان سے گئے تھے۔ پولیس کے بیان کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے دھماکا خیز مواد سے لیس کواڈ کاپٹر استعمال کیے اور پھر چوکی پر گھات لگا کر حملہ کیا جب کہ آٹھ اگست کو آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہنگو میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کے دوران سات عسکریت پسند مارے گئے۔ جب کہ رواں ماہ آئی ایس پی آر کے مطابق 15 سے 17 ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا میں مختلف کارروائیوں میں 10 عسکریت پسند مارے گئے۔ پاکستان افواج پاکستان خیبر پختونخوا ہنگو عسکریت پسندی پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق کیپٹن ابوذر فاروق اور لیفٹیننٹ شیراز بابر اپنے چار جوانوں سمیت جان سے گئے۔ علاقے میں باقی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو اتوار, ستمبر 20, 2026 – 21: 45 Main image:

19 جنوری 2014 کو بنوں میں سکیورٹی قافلے پر بم حملے کے بعد پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار علاقے کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں (اے ایف پی / کریم اللہ)

پاکستان type: news related nodes: ہنگو میں آپریشن، کیپٹن حمزہ اکرم جان سے گئے ہنگو حملے میں ڈی ایس پی سمیت 8 اہلکار جان سے گئے: پولیس ہنگو کے بازار میں مارٹر حملہ، بچوں سمیت چھ افراد چل بسے: پولیس ہنگو میں دھماکہ، ایس پی سمیت تین پولیس اہلکار جان سے گئے SEO Title: ہنگو، فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے، دو افسران سمیت چھ اہلکار جان سے گئے: پاکستان فوج copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments