جناب الطاف حسن قریشی مرحوم کو کون نہیں جانتا۔ انھیں بابائے صحافت بھی کہا جاتا تھا۔وہ پاکستان کی صحافتی دنیا کی ایک لاثانی ہستی تھے۔ان جیسا نہ کوئی تھا اور نہ ہی کوئی ہے۔وہ03۔ مارچ 1932کو ضلع حصار، متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ اورقیام پاکستان کے بعد لاہور آگئے۔ ماہنامہ”اردو ڈائجسٹ“ ان کی پہچان تھا۔ یہ عظیم ہستی مورخہ 16۔مئی 2026 کوہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی۔ ان کی رحلت پر ملک کے سینکڑوں دانشوروں نے انھیں خراج تحسین پیش کیا، لیکن جماعت اسلامی پنجاب کے امیر جناب ڈاکٹر طارق سلیم نے ان پر کتاب: ”نظریاتی صحافت کا سرخیل: الطاف حسن قریشی“ لکھ کر جو معرکہ سر انجام دیا اس کا کوئی جواب نہیں۔ اس کتاب کو علامہ عبدالستار عاصم کی قلم فاؤنڈیشن نے شائع کرکے ڈاکٹر صاحب کی محنت کو چار چاند لگا دیے۔اس عظیم شاہکار کی فلیٹیز ہوٹل، لاہور میں تقریب رونمائی تھی۔تقریب کی صدارت کے فرائض جناب لیاقت بلوچ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے ادا کیے۔ مجھے بھی اس تقریب میں نہ صرف مدعو کیا گیا تھا بلکہ مذکورہ کتاب پر اظہار خیال کا موقع بھی ملا۔ قومی سطح پر نیا ٹیلنٹ سامنے لانے کا منصوبہ ، محسن نقوی کی ہدایت پر سکول کرکٹ کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ جہاں تک کتاب کے مصنف ڈاکٹر طارق سلیم کا تعلق ہے ہم اپنے پاس سے ان کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے۔اس کے لیے پاکستان کے معروف صحافی، کالم نگار، مصنف اور دانشور فاروق عادل کی تحریر، جو کتاب میں موجود ہے، کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ وہ”دل جیت لینے والا“ کے عنوان کے تحت مصنف کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں: ”ڈاکٹر طارق سلیم کون ہیں، یہ جاننے سے پہلے ایک واقعہ سن لیجیے۔احباب کی نشست میں بات سیاست کی طرف چلی گئی۔پھر اس میں اختلاف پیدا ہوا۔اختلاف کرنے والوں میں ان سطور کا لکھنے والا بھی شامل تھا۔چاہیے تو یہ تھا کہ روایت کے مطابق قطع تعلق ہو جاتا۔اور لوگ بدمزہ ہو کر ایک دوسرے سے منھ موڑ لیتے۔لیکن ہوا اس کے برعکس۔اختلاف کا نشانہ بننے والی کشادہ پیشانی سلوٹوں سے محروم رہی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ کی کرن چمکی۔پھر اس میں اضافہ ہوتا گیا۔یہ شخص اٹھ کر میرے پاس آیااور بغل گیر ہوگیا۔اس شخص کا کہنا تھا کہ آپ کے اختلاف نے مجھے دکھی نہیں آسودہ کیا۔یہ شخص”ڈاکٹر طارق سلیم“تھا۔اب ہم اپنے اصل موضوع یعنی کتاب کی طرف آتے ہیں۔ اس کتاب میں جماعت اسلامی کے 09 اکابرین اور33 قومی دانشوروں کی تحریریں شامل ہیں۔جناب سہیل وڑائچ، جناب اوریا مقبول جان او رجناب سید خالد یزدانی کی طرف سے قریشی صاحب کے کیے گئے تین انٹرویوز اورجناب الطاف حسن قریشی کی 21سدا بہار تحریریں بھی شامل کی گئی ہیں۔ جو یقینامصنف کی محنت شاقہ، قریشی صاحب سے ان کی لگن،محبت اور عقیدت کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ کراچی: مسجد کے باہر نمازی بن کر گاڑیاں چوری کرنے والا 57 سالہ ملزم گرفتار زیر نظر کتاب میں ملک کے مایہ ناز لکھاریوں کی طرف سے جناب الطاف حسن قریشی مرحوم کی شان میں نچھاور کیے جانے عقیدت کے پھولوں کو جمع کیا گیا ہے۔ ان سب دانشوروں کے احساسات و جذبات کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنا، اسے ایک کتابی شکل دینا اوران یادداشتوں کو مستقبل کے علمی سرمائے کے طور محفوظ بنا نا یقینا مصنف کا قاًبل ستائش کارنامہ ہے۔ ہم بھی اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔لیکن کالم کی تنگی دامان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے صرف چنددانشوروں کے احساسات و جذبات مشتے از خروارے قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ کتاب کے مصنف قریشی صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں: ”میں نے قریشی صاحب کو صرف پڑھا نہیں، ان کے لفظوں میں زندگی کی حرارت محسوس کی۔ان کے جملے کاغذ پر نہیں بلکہ دل کے اندر اترتے ہیں۔۔۔ان کے ہاں اختلاف میں بھی تہذیب، تنقید میں بھی شائستگی اور مزاحمت میں بھی وقار۔ یہی وصف بڑے لوگوں کی پہچان ہے۔ عظیم دانشور اور پاکستان کے مایہ ناز سیاستدان جناب لیاقت بلوچ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ”الطاف حسن قریشی: عہد وفا کی داستان“ کے عنوان کے تحت ان الفاظ میں قریشی صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں: ”ان کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض واقعات کے راوی نہیں بلکہ تاریخ کے نباض تھے۔۔۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اداریے اور کالم وقتی تبصرے نہیں بلکہ فکری دستاویزات کی حیثیت رکھتے تھے“۔ ٹرمپ نے بھارت، چین پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بل پر دستخط کردیے ملک کے سینئر دانشور، صحافی بے بدل، کالم نگار، اینکر پرسن، ماہنامہ قومی ڈائجسٹ اور روزنامہ پاکستان، لاہور کے چیف ایڈیٹر اور، قریشی صاحب کے دیرینہ ساتھی ”مٹی میں چراغ“ کے عنوان کے تحت قریشی صاحب سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں: ”الطاف صاحب ایک فرد نہیں ادارہ تھے۔۔ ایک تحریک تھے۔ ایک عہد تھے، بلکہ عہد ساز تھے۔انھوں نے اپنا زمانہ آپ بنایا۔ان کے قلم نے دلوں پر حکمرانی کی۔ان جیسا دوسرا کوئی موجود نہیں۔۔انھوں نے اپنے قارئین کی تربیت کی۔انھیں بات کہنے کا سلیقہ سکھایا۔ تہذیب و شائستگی سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی مثال قائم کی“۔ملک کے بے باک صحافی اور کالم نگار جناب حامد میر صاحب اپنے کالم بعنوان ”الطاف صحافت“ میں لکھتے ہیں: ”بعض معاملات میں ان کا نقطہ نظر مجھ سے مختلف ہوتا لیکن آئین کی بالا دستی پر ہمیشہ مجھ سے اتفاق کرتے۔وہ مارشل لا کے سخت خلاف تھے۔مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے1999میں اقتدار پر قبضہ کیاتو کچھ دنوں بعد الطاف حسن قریشی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول کور کمانڈر لاہور تھے۔انھیں کہا گیا کہ الطاف حسین قریشی کو گرفتار کر لیا جائے۔کیوں کہ وہ 12۔اکتوبر1999 کی فوجی بغاوت کی مخالفت کر رہے تھے۔ خالد مقبول صاحب کے علاوہ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل احسان الحق نے بھی قریشی صاحب کی گرفتاری کے خلاف رائے دی۔۔۔جب جنرل مشرف اقتدار کے جوبن پر تھے تو ان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بھوت سوار ہوا۔الطاف حسن قریشی ان صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مخالفت کی۔2019 میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس پرانے پراجیکٹ کو دوبارہ شروع کیا تو میں نے روزنامہ جنگ میں کالم لکھا۔ الطاف حسن قریشی صاحب نے میری تائید میں کالم لکھا“۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال میں کالج کی مسلمان وائس پرنسپل کو گھنٹوں محصور رکھ کر زبردستی استعفیٰ لے لیا گیا لفظوں کے کھلاڑی، دانشور، تاریخ کے حافظ روزنامہ نوائے وقت کے کالم نگار جناب دلاور چودھری اپنے الفاظ کا جادو جگاتے ہوئے لکھتے ہیں: ”الطاف حسن قریشی صاحب محض ایک شخص نہیں بلکہ وہ انسان تھے جس میں کئی ”عہد“ چھپے ہوتے ہیں۔اقبال نے ان جیسے بلند پایہ درویشوں کے لیے ہی تو کہا تھاکہ”گم اس میں ہے آفاق“۔ الطاف حسن قریشی ایک خوبصورت انسان، عہد ساز صحافی، بہترین دوست اور انتہائی شفیق بزرگ تھے“۔الغرض ہم تو یہی کہیں گے کہ ڈاکٹر طارق سلیم صاحب نے یہ کتاب لکھ کر فرض کفایہ ادا کر دیا۔اسے جناب الطاف حسن قریشی کی ذات پر لکھا جانے والا ایک انسائیکلو پیڈیا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔اور پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر صاحبہ کی اس بات میں بھی کافی وزن ہے جو انھوں نے کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی کہ: ”یہ کام تو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کو کرنا چاہیے تھا لیکن ڈاکٹر طارق سلیم صاحب بازی لے گئے“۔ ایران کیخلاف جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں پینٹاگون کے اعدادو شمار سے کہیں زیادہ ہیں: امریکی اخبار



