72.2 F
Pakistan
Saturday, September 19, 2026
HomeTechnologyچینی کمپنی روبوٹ کا چیٹ جی پی ٹی جیسا 'دماغ' بنانے کو...

چینی کمپنی روبوٹ کا چیٹ جی پی ٹی جیسا ‘دماغ’ بنانے کو تیار

چین میں انسان نما روبوٹس تیار کرنے والی ایک کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی میں پیش رفت کے باعث اگلے سال تک ایسے روبوٹس سامنے آسکتے ہیں جو عام بول چال کی زبان میں دی گئی ہدایات سمجھ کر کئی مختلف کام خود انجام دے سکیں گے۔ تاہم ماہرین کے مطابق روبوٹس کو گھروں میں روزمرہ کے پیچیدہ کام قابلِ اعتماد انداز میں کرنے کے قابل بنانا اس سے کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہوگا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب چینی کمپنیوں نے انسان نما روبوٹس کے ہارڈویئر میں نمایاں ترقی کی ہے۔ یہ روبوٹس دوڑنے، رقص کرنے اور حتیٰ کہ بیک فلپ جیسے مشکل جسمانی حرکات کرنے کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ اب توجہ روبوٹس کے اس حصے پر مرکوز ہو رہی ہے جو انہیں سمجھنے، فیصلہ کرنے اور کام انجام دینے کی صلاحیت دیتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس شعبے کو ’’ایمبوڈیڈ اے آئی‘‘ کہا جاتا ہے۔ چین کی روبوٹک ٹیکنالوجی کمپنی اسپرٹ اے آئی کے شریک بانی اور چیف سائنٹسٹ گاؤ یانگ نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ روبوٹک نظام میں سب سے کمزور کڑی اس وقت اس کا ’’دماغ‘‘ ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کو توقع ہے کہ 2027 کے وسط تک روبوٹس کی صلاحیت ایک ایسی سطح تک پہنچ جائے گی جہاں انسان ان سے عام زبان میں بات کرکے کسی کام کی ہدایت دے سکیں گے اور روبوٹ اس کام کو مکمل کرنے کے لیے مناسب جسمانی اقدامات کی ایک پوری ترتیب خود انجام دے سکے گا۔ یہ تصور مصنوعی ذہانت کی دنیا میں چیٹ جی پی ٹی کی کامیابی سے جوڑا جا رہا ہے۔ 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے عام صارفین تک پہنچنے کے بعد جنریٹو اے آئی تیزی سے مقبول ہوئی تھی۔ اب روبوٹ بنانے والی کمپنیاں بھی ایسی ہی پیش رفت کی توقع کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں روبوٹ صرف مخصوص کام کرنے والی مشینوں کے بجائے مختلف حالات میں کئی طرح کے کام انجام دینے کے قابل ہوسکیں۔ اسپرٹ اے آئی اپنے روبوٹس کو تربیت دینے کے لیے حقیقی دنیا سے حاصل ہونے والے ڈیٹا پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ کمپنی کے ساتھ ملک بھر میں تقریباً ایک ہزار کنٹریکٹرز کام کرتے ہیں جو گھروں اور فیکٹریوں میں مختلف انسانی حرکات ریکارڈ کرنے کے لیے ڈیٹا جمع کرنے والے آلات استعمال کرتے ہیں۔ بیجنگ میں کمپنی کے ایک تربیتی مرکز میں نوجوان افراد سینسرز پہن کر مختلف کاموں کی مشق کرتے نظر آئے۔ ان میں فریج کھولنا، سیف کا تالا کھولنا اور چاقو سے سبزیاں کاٹنے جیسی حرکات شامل تھیں۔ اس طرح روبوٹ کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انسان مختلف اشیا کے ساتھ کس طرح حرکت کرتے اور کام کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کے روبوٹس نے مخصوص اور نسبتاً منظم ماحول میں سادہ کاموں کے دوران تقریباً 90 فیصد کامیابی حاصل کی ہے۔ گاؤ یانگ کا کہنا ہے کہ اگلے ایک سے دو سال صنعتی شعبے میں روبوٹس کے استعمال کے لیے ابتدائی اہم مرحلہ ہوں گے، جبکہ اس کے بعد تجارتی مقامات پر بھی انہیں نسبتاً آسان کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم گھروں میں ان کا استعمال اس سے کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔ اسپرٹ اے آئی اس وقت اپنے ’’موزی‘‘ نامی پہیوں والے انسان نما روبوٹس میں سے درجنوں کو بیٹری بنانے والی کمپنی ’ای اے ٹی ایل‘ اور آن لائن ریٹیل کمپنی ’جے ڈی ڈاٹ کام‘ کی پیداواری سرگرمیوں میں استعمال کر رہی ہے۔ ’جے ڈی ڈاٹ کام‘ اس کمپنی میں سرمایہ کاری بھی کر چکی ہے۔ تقریباً 300 افراد پر مشتمل اس چینی اسٹارٹ اپ نے 2024 میں قیام کے بعد سے 670 ملین ڈالر سے زیادہ سرمایہ حاصل کیا ہے اور اس کی موجودہ مالیت تقریباً 20 ارب چینی یوآن یعنی 2. 9 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ تاہم روبوٹس کو مکمل طور پر قابلِ اعتماد بنانے میں اب بھی کئی مشکلات موجود ہیں۔ بوتل کا ڈھکن کھولنے جیسے بظاہر معمولی کام بھی روبوٹس کے لیے مشکل ہوسکتے ہیں، جبکہ ایسے کام کرنا جن سے روبوٹ پہلے واقف نہ ہو، ایک الگ چیلنج ہے۔ اسپرٹ اے آئی روبوٹس کی تربیت میں حقیقی دنیا سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کو ورچوئل سمیولیشن پر ترجیح دیتی ہے۔ کمپنی کے مطابق سمیولیٹرز سخت اور ایک جیسی اشیا کے ساتھ کام کرنے کے لیے مؤثر ہیں، لیکن بجلی کی لچک دار تار جیسی اشیا کے ساتھ حقیقی دنیا میں ہونے والی حرکات کو ورچوئل ماحول میں درست طور پر نقل کرنا مشکل ہے۔ کمپنی کے مطابق مختلف انداز اور حرکات پر مشتمل حقیقی دنیا کا الگ الگ نوعیت کا ڈیٹا روبوٹ کے ماڈلز کو زیادہ تیزی سے بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ چین کے بعض دیگر روبوٹ تربیتی مراکز میں مطلوبہ درستگی کے ساتھ ایک صاف اور درست حرکت حاصل کرنے کے لیے ایک ہی عمل کو 50 سے زیادہ مرتبہ دہرانا پڑتا ہے۔ روبوٹس کی بڑھتی ہوئی خودمختاری کے ساتھ ان کی حفاظت بھی ایک اہم سوال بنتی جا رہی ہے۔ گاؤ یانگ کے مطابق فی الحال روبوٹس کے اے آئی ماڈلز اتنے پختہ نہیں کہ ان کے بے قابو ہوجانے کا خطرہ سب سے بڑا مسئلہ سمجھا جائے، لیکن مستقبل میں جب یہ مشینیں گھروں، دکانوں اور دیگر مصروف جگہوں پر انسانوں کے ساتھ براہ راست کام کریں گی تو حفاظتی اقدامات کی اہمیت بہت بڑھ جائے گی۔ اسپرٹ اے آئی کے مطابق اس کے روبوٹس میں پورے جسم کی قوت کو کنٹرول کرنے کا نظام موجود ہے۔ اگر روبوٹ کو ماحول کے ساتھ غیر معمولی یا بہت زیادہ قوت کا سامنا ہو تو ہنگامی بریک خودکار طور پر فعال ہوجاتی ہے۔ روبوٹک اے آئی کے شعبے میں اگلا بڑا مرحلہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ مشینیں انسان کی بات سمجھ سکیں، بلکہ یہ بھی ہوگا کہ وہ غیر متوقع حالات میں محفوظ انداز سے فیصلے کریں اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کے لیے خطرہ نہ بنیں۔ اس لیے روبوٹس کی ’’ذہانت‘‘ میں پیش رفت کے ساتھ ان کی حفاظت اور انسانی نگرانی بھی مزید اہم موضوع بنتی جا رہی ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments