چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ ’ہائی روکس فٹنس ریس‘ کے دوران ایک خاتون ایتھلیٹ کو اچانک شدید پیٹ کی خرابی جیسے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث وہ ریس کے دوران رفع حاجت پر قابو نہ رکھ سکیں۔ اس کے باوجود انہوں نے مقابلہ ادھورا چھوڑنے کے بجائے ریس جاری رکھی اور آخرکار فنش لائن عبور کرکے کامیابی حاصل کرلی۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایتھلیٹ کی ہمت کے ساتھ ساتھ مقابلے کے حفاظتی اور طبی انتظامات پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔ ہائی روکس ایک انڈور فٹنس مقابلہ ہے جس میں شرکا کو دوڑ کے ساتھ مختلف جسمانی مشقیں بھی مکمل کرنا ہوتی ہیں۔ عام طور پر مقابلے میں ایک کلومیٹر کی آٹھ دوڑیں اور ان کے درمیان سلیڈ پش، سلیڈ پل، روئنگ اور برپی براڈ جمپس جیسی سخت مشقیں شامل ہوتی ہیں۔ ریس کے دوران جوآنا ویٹرژک کو شدید پیٹ کی خرابی جیسے جسمانی مسئلے کا سامنا ہوا۔ اس کے باوجود انہوں نے مقابلہ جاری رکھا اور سخت مراحل بھی مکمل کیے۔ واقعے کے بعد جسم کے گندگی لگے حصوں کی صفائی کی گئی، تاہم معاملہ سوشل میڈیا پر پہنچنے کے بعد اس بات پر بحث شروع ہوگئی کہ آیا انہیں فوری طور پر ریس سے ہٹا دینا چاہیے تھا یا نہیں۔ کچھ لوگوں نے ایتھلیٹ کے عزم اور حوصلے کو سراہا۔ ان کے مطابق ایک انتہائی مشکل لمحے کے باوجود مقابلہ مکمل کرنا غیر معمولی ذہنی اور جسمانی مضبوطی کی علامت ہے۔ خود ویٹرژک نے بھی سوشل میڈیا پر واقعے کے بعد لکھا کہ ’’جیت، جیت ہوتی ہے‘‘ اور حمایت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریس کے بعد وہ جلد صحت یاب ہوگئیں۔ دوسری جانب متعدد افراد نے اس فیصلے پر تنقید کی کہ آلودگی کے باوجود ریس جاری رکھی گئی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس صورتِ حال میں صرف متعلقہ ایتھلیٹ کی صحت کا معاملہ نہیں تھا بلکہ دوسرے شرکا کی صحت اور صفائی بھی متاثر ہوسکتی تھی۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ جب ہائی روکس معمولی نوعیت کی خلاف ورزیوں، حتیٰ کہ تھوکنے جیسے معاملات پر بھی جرمانے یا دیگر کارروائی کر سکتا ہے تو اس واقعے میں ریس کے حکام نے فوری مداخلت کیوں نہیں کی۔ کچھ افراد نے یہ بھی سوال کیا کہ آلودہ حصوں کو فوری طور پر بند کرکے وہاں موجود دیگر کھلاڑیوں کو خطرے سے کیوں نہیں بچایا گیا۔ آن لائن تبصروں میں بعض شرکا نے دعویٰ کیا کہ آلودگی کے نشانات ریس کے مختلف حصوں میں موجود تھے اور بعد میں وہاں سے گزرنے والے کھلاڑیوں کو اسی راستے اور بعض صورتوں میں اسی سامان کو استعمال کرنا پڑا۔ کچھ صارفین نے منتظمین سے معافی اور بعض نے رقم واپس کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ایک ریڈٹ صارف نے دعویٰ کیا کہ وہ ویٹرژک کے پیچھے ریس میں حصہ لے رہا تھا۔ صارف نے صورتِ حال کو انتہائی ناگوار قرار دیا اور کہا کہ راستے میں کئی مقامات پر فضلے کے نشانات موجود تھے۔ اس صارف سمیت بعض دیگر افراد کی رائے تھی کہ ایتھلیٹ کو ریس جاری رکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔ ہائی روکس انتظامیہ نے واقعے کے بعد ایک بڑے صفائی کے آپریشن کی تصدیق کی۔ منتظمین نے کہا کہ مقابلے میں حیاتیاتی آلودگی اور طبی ہنگامی صورتِ حال سے متعلق واضح طریقہ کار پہلے سے موجود ہیں، تاہم چین میں پیش آنے والے اس غیر معمولی واقعے کے دوران ایلیٹ مقابلوں اور بڑے پیمانے پر ہونے والی شرکت کے لیے بنائے گئے پروٹوکولز کے اطلاق میں ابہام پیدا ہوگیا۔ انتظامیہ کے مطابق کھیل کے پھیلنے اور مقابلوں کے مزید پیچیدہ ہونے کے ساتھ ایسے غیر متوقع حالات سامنے آسکتے ہیں جن کے لیے موجودہ قواعد اور طریقہ کار کا دوبارہ جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ ہائی روکس نے کہا کہ اسے معلوم ہے کہ اس معاملے پر شرکا اور شائقین میں سوالات، ناراضی اور مختلف آرا پیدا ہونا فطری ہے۔ منتظمین نے یہ بھی کہا کہ ایتھلیٹس سے اعلیٰ ترین سطح پر اپنی صلاحیت آزمانے کی توقع کی جاتی ہے اور ہمت، ثابت قدمی اور ہار نہ ماننے کا جذبہ اس کھیل کا اہم حصہ ہے۔ تاہم، انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو مقابلہ کرنے کے لیے مناسب حدود، طبی سہولیات اور حفاظتی فریم ورک فراہم کرے۔ اس معاملے میں ویٹرژک کی شہرت نے بھی سوشل میڈیا بحث کو مزید بڑھا دیا۔ انہیں ہائی روکس کی نمایاں ایتھلیٹس میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے متعدد ریکارڈز اور اسپانسرشپس کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ صارفین نے قیاس کیا کہ شاید مقابلہ ادھورا چھوڑنا ان کے لیے پیشہ ورانہ طور پر مشکل فیصلہ ہوتا۔ تاہم، اسی بحث میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کسی بھی ایتھلیٹ کی حیثیت یا کامیابی سے قطع نظر، ایسے حالات میں مقابلے کے منتظمین کو مداخلت کرنی چاہیے۔ ہائی روکس جرمنی سے شروع ہونے والا بین الاقوامی فٹنس ریسنگ سلسلہ ہے، جو اب مختلف ممالک میں منعقد ہوتا ہے۔ اس کے مقابلوں میں دوڑ اور طاقت و برداشت کی مشقوں کو ایک مقررہ فارمیٹ میں یکجا کیا جاتا ہے۔ بیجنگ میں ہونے والا مقابلہ اتوار کو اختتام پذیر ہوگیا، لیکن ریس کے دوران پیش آنے والا یہ غیر معمولی واقعہ اب بھی آن لائن بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔



