70.6 F
Pakistan
Saturday, September 12, 2026
HomeTechnologyواٹس ایپ ہیک ہوجائے تو پی ٹی اے کا بتایا گیا یہ...

واٹس ایپ ہیک ہوجائے تو پی ٹی اے کا بتایا گیا یہ طریقہ آزمائیں

واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہوجانا یا کسی غیر متعلقہ شخص کے ہاتھوں اس تک رسائی چلے جانا صارف کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم ایسی صورت میں گھبراہٹ کے بجائے فوری اور درست اقدامات کرکے اکاؤنٹ دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جتنی جلدی صارف اپنے اکاؤنٹ کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کرے گا، اتنا ہی غیر مجاز استعمال کا خطرہ کم کیا جاسکے گا۔ واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں صارفین کی رہنمائی کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی خصوصی آگاہی جاری کی ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی اے نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں واٹس ایپ اکاؤنٹ کی ریکوری کا طریقہ کار آسان انداز میں سمجھایا گیا ہے تاکہ صارفین کسی غیر مجاز شخص کی جانب سے اکاؤنٹ استعمال کیے جانے کی صورت میں بروقت کارروائی کرسکیں۔ صارف کو جیسے ہی علم ہو کہ اس کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہوچکا ہے یا اس کا کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں چلا گیا ہے تو اسے چاہیے کہ سب سے پہلے واٹس ایپ کو موبائل فون سے اَن اِنسٹال کرکے دوبارہ انسٹال کرے۔ ایپ دوبارہ انسٹال کرنے کی بعد اسی موبائل نمبر سے واٹس ایپ پر لاگ اِن یا رجسٹریشن کا عمل مکمل کریں جو پہلے سے اکاؤنٹ کے ساتھ منسلک ہے۔ موبائل نمبر درج کرنے کے بعد واٹس ایپ اُس نمبر پر ایک تصدیقی کوڈ بھیجے گا۔ صارف کو موصول ہونے والا یہ کوڈ ایپ میں درج کرنا ہوگا، جس کے بعد اکاؤنٹ دوبارہ صارف کے موبائل پر فعال ہوسکتا ہے۔ اگر کسی دوسرے شخص نے اسی نمبر کے ذریعے اکاؤنٹ استعمال کررکھا ہو تو دوبارہ تصدیق کا عمل مکمل کرنے سے اکاؤنٹ کا کنٹرول اصل صارف کے پاس واپس آجائے گا۔ اکاؤنٹ واپس حاصل کرنے کے بعد سیکیورٹی کو مزید مضبوط کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے واٹس ایپ کی ٹو اسٹیپ ویریفکیشن سہولت فعال کریں۔ اس اضافی سیکیورٹی کے ذریعے اکاؤنٹ کو غیر مجاز رسائی سے بچانے کے لیے ایک مزید حفاظتی مرحلہ شامل ہوجاتا ہے۔ اگر دوبارہ تصدیق کے باوجود واٹس ایپ اکاؤنٹ بحال نہ ہو مسلسل کوئی غیر مجاز رسائی کا سامنا ہو تو ایسی صورت میں واٹس ایپ کی سپورٹ سروس سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ایسے معاملے میں جتنی جلدی کارروائی کی جائے گی، اکاؤنٹ اور اس سے منسلک ذاتی معلومات کو مزید نقصان سے بچانے کے امکانات اتنے ہی بہتر ہوں گے۔ صارفین کو خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ واٹس ایپ کا تصدیقی کوڈ کسی بھی شخص کے ساتھ کبھی شیئر نہ کریں۔ بعض اوقات جعل ساز خود کو دوست، رشتہ دار یا کسی ادارے کا نمائندہ ظاہر کرکے صارف سے یہ کوڈ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ یہ کوڈ کسی دوسرے شخص کے ہاتھ لگ جائے تو وہ آسانی سے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ اسی طرح واٹس ایپ پر موصول ہونے والے مشکوک لنکس، نامعلوم فائلز اور غیر متوقع پیغامات کو کھولنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہیکرز اکثر فشنگ کے ذریعے صارف کو ایسے لنک پر کلک کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو بظاہر کسی معروف ویب سائٹ یا سروس سے متعلق معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے ذریعے صارف کی معلومات یا اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس ڈیجیٹل دور میں اپنے موبائل فون اور دیگر اہم اکاؤنٹس کی سیکیورٹی کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ضروری سیکیورٹی اپ ڈیٹس انسٹال رکھیں، مشکوک ایپلی کیشنز سے گریز کریں۔ باقاعدگی سے سیکیورٹی اسکین کرنے سے بھی خطرات کم کیے جاسکتے ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments