71.3 F
Pakistan
Thursday, September 10, 2026
HomeBreaking Newsوہی نظام، وہی چہرے اور نئے لنگوٹ

وہی نظام، وہی چہرے اور نئے لنگوٹ

ستر برس سے زائد کا سفر ہے۔ ایوب خان کی بنیادی جمہوریتیں آئیں، دعویٰ تھا کہ اقتدار عوام تک اترے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فیصلہ سازی چند بی ڈی ممبران کی مٹھی میں سمٹ گئی۔ پھر پارلیمانی نظام آیا، صدارتی نظام آیا، مارشل لا نے جمہوریت کو معطل کیا، اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کا نعرہ بلند ہوا، بلدیاتی ادارے بار بار بنائے اور توڑے گئے اور اب دوبارہ نئے صوبوں اور مزید بااختیار کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ہر دور میں ایک ہی وعدہ دہرایا گیا: اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی، وسائل کی منصفانہ تقسیم۔ مگر جو چیز کبھی نہیں بدلی، وہ ہے مراعات یافتہ طبقے کا معاشی کنٹرول۔ ہمارے ہاں کہاوت ہے کہ لنگوٹ بدلنے سے دست نہیں رکتے۔ نظام کا لباس بار بار بدلا گیا، رنگ بدلے گئے، ناموں کی تختیاں بدلی گئیں، مگر اندر کی بیماری جوں کی توں رہی، بلکہ گہری ہوتی گئی۔یہی نکتہ معیشت اور سیاست کو ایک ہی ڈوری میں باندھتا ہے۔ سیاسی نظام چاہے فوجی ہو یا جمہوری، مرکزی ہو یا صوبائی، ٹیکس کا ڈھانچہ ہمیشہ ایک ہی سمت جھکا رہا۔ کمزور پر بوجھ، طاقتور کو رعایت۔ زرعی آمدنی پر ٹیکس نہ لگنے کی جڑیں اُسی جاگیردارانہ سیاسی گٹھ جوڑ میں ہیں جو بنیادی جمہوریتوں کے دور میں مضبوط ہوا اور آج بھی ہر اسمبلی کے ایوان میں اپنی نشستیں سنبھالے بیٹھا ہے۔ کھاد کی صنعت کو ساڑھے چار سو ارب روپے کی سالانہ رعایت، ٹیکسٹائل کو بجلی سبسڈی اور رعایتی قرضے، سیمنٹ کو ہر بجٹ میں چھوٹ اور آئی پی پیز کو، چاہے وہ ایک یونٹ بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، سالانہ دو کھرب روپے سے زائد کیپیسٹی پیمنٹس، خزانے سے سیدھی رقم، کسی کارکردگی کے بغیر۔ یہ سب اُسی طبقے کے ہاتھوں ہوتا ہے جو ہر سیاسی نظام میں اپنی جگہ برقرار رکھتا ہے۔ کبھی بی ڈی ممبر کے روپ میں، کبھی رکنِ اسمبلی، کبھی سینیٹر اور کبھی کابینہ کے مشیر کی کرسی پر بیٹھ کر۔اور اب اُس تضاد کی بات جو شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ حکومت ہر بجٹ تقریر میں کفایت شعاری کا اعلان کرتی ہے، خزانے کی تنگی کا رونا روتی ہے اورعوام سے قربانی مانگتی ہے۔ لیکن اصل رویہ بالکل مختلف ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں وفاقی سول انتظامیہ کے اخراجات میں گزشتہ سال کے مقابلے ساڑھے بارہ فیصد اضافہ ہوا اور یہ چھ سو انتیس ارب روپے تک جا پہنچے۔ بالکل اُسی وقت جب حکومت ”اخراجات میں کمی” کا دعویٰ کر رہی تھی۔ سول حکومت چلانے کی لاگت جو چار سال پہلے پانچ سو سینتالیس ارب روپے تھی۔ اب نو سو اکہتر ارب روپے کے ہدف تک جا پہنچی ہے یعنی تقریباً دگنی۔ ایک تازہ بجٹ تجزیے کے مطابق قرض کی ادائیگی کے علاوہ حکومتی اخراجات کے لئے عوام سے وصولی انیس فیصد بڑھانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ دراصل کفایت شعاری کا مشورہ عوام کو دیا گیا ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ مراعات آخر تقسیم کیسے ہوتی ہیں؟ ایس آر اوز کے ذریعے، ایسے خاموش انتظامی احکامات جن پر پارلیمنٹ ووٹ دیتی ہے نہ کوئی کمیٹی چھان بین کرتی ہے اور نہ کوئی صحافی سوال اٹھا پاتا ہے۔ ایک ہی سال میں حکومت نے دو اعشاریہ چار کھرب روپے کی مراعات مختلف صنعتوں کو دیں۔ یہ رقم ملک کے پورے ترقیاتی بجٹ سے زیادہ اور صحت و تعلیم کے مجموعی اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔ حکومتی رپورٹ صرف یہ بتاتی ہے کہ فلاں شعبے کو رعایت ملی، یہ نہیں بتاتی کہ کون سی کمپنی، کس مالک کے نام پر یہ رقم لے گئی۔ یہ شفافیت کی کمی کوئی تکنیکی مجبوری نہیں۔ یہ سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے، ایک ایسا پردہ جو جواب دہی کو ہمیشہ کے لیے ٹال دیتا ہے۔اٹھارہویں ترمیم کے بعد امید تھی کہ صوبائی خودمختاری وسائل میں انصاف لائے گی، مگر صوبائی اسمبلیوں میں بھی وہی زمیندار اور صنعتکار طبقہ فیصلہ ساز رہا اور زرعی ٹیکس وہیں کا وہیں رہا، جیسے وقت رک گیا ہو۔ آج جب دوبارہ صوبوں کو بااختیار بنانے کی بات ہو رہی ہے، سوال یہی ہے۔ کیا یہ اختیار کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی ہے، یا مرکز سے صوبے اور صوبے سے اُسی مقامی اشرافیہ تک اقتدار کا ایک اور خاموش سفر؟اناسی برس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ بیس سے زائد آئی ایم ایف پروگرام گزر چکے، سیاسی نظام کئی بار مکمل طور پر تبدیل ہو چکا، مگر ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب آج بھی دس فیصد کے آس پاس اٹکا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ چھ سو تینتیس ارب روپے انکم ٹیکس دیتا ہے، جبکہ زراعت معیشت کا پانچواں حصہ ہے، ایک فیصد سے بھی کم ٹیکس دیتی ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ چھوٹے کسان کو حکومتی پالیسیوں نے تباہ کر دیا ہے۔ مہنگائی گیارہ فیصد سے تجاوز کر چکی، نوجوانوں میں بے روزگاری گیارہ فیصد سے زائد ہے اور کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان ایک سو چھیاسی ممالک میں ایک سو چھتیسویں نمبر پر کھڑا ہے۔ یہ کسی ایک حکومت کی ناکامی نہیں۔ یہ اُس تسلسل کی گواہی ہے جو بی ڈی سسٹم سے لے کر آج کے صوبائی نعروں تک قائم ہے۔ خول بار بار بدلتا رہا، مگر فیصلہ کرنے والے ہاتھ کبھی نہیں بدلے۔سوال یہ نہیں کہ اگلا نظام کیا ہو؟ صدارتی، پارلیمانی، مزید صوبائی، یا مزید مرکزی۔ سوال یہ ہے کہ جب تک ٹیکس کا بوجھ کمزور کے کندھوں پر اور مراعات کا فائدہ طاقتور کی تجوری میں جاتا رہے گا، کوئی بھی سیاسی خول عوام کی تقدیر نہیں بدلے گا۔ لنگوٹ جتنی بار بھی بدل لیا جائے، جب تک وہ اندرونی خرابی درست نہیں ہوتی مریض صحتیاب نہیں ہو سکے گا۔، یہ سفر وہیں کا وہیں رہے گا۔ اصل اصلاح نظام کے نام بدلنے میں نہیں بلکہ اُس ایک سوال کا جواب دینے میں ہے جسے دہائیوں سے ٹالا جا رہا ہے۔ فیصلے کون کرتا ہے، کس کے فائدے کے لیے اور کس کی جوابدہی کے تحت؟۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments