71.3 F
Pakistan
Wednesday, September 9, 2026
HomeCrimeفرانس کے میوزیم میں قیمتی پینٹنگ کی ہالی ووڈ اسٹائل میں چوری

فرانس کے میوزیم میں قیمتی پینٹنگ کی ہالی ووڈ اسٹائل میں چوری

فرانس کے شہر کانیے سر میر میں مشہور مصور پیئر آگسٹ رینوائر کے عجائب گھر میں فلمی انداز کی چوری کی واردات نے سب کو حیران کردیا۔ چور صبح سویرے باغ کی باڑ میں سوراخ کرکے میوزیم میں داخل ہوئے اور کھڑکی کے راستے اندر پہنچ کر رینوائر کی چار قیمتی پینٹنگز اٹھا لیں۔ تاہم پولیس کے فوری پہنچنے پر چور دو پینٹنگز باغ میں پھینک کر فرار ہوگئے، جبکہ دو پینٹنگز اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب رہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق واردات منگل کی صبح تقریباً 6 بجے سے کچھ دیر پہلے ہوئی۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ چوروں نے پہلے میوزیم کے باغ کی باڑ کاٹی اور پھر کھڑکی کے ذریعے عمارت کے اندر داخل ہوئے۔ الارم بجنے کے بعد پولیس کو واردات کا علم ہوا تو اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور چوروں کا پیچھا شروع کردیا۔ چوروں نے رینوائر کی چار پینٹنگز اپنے قبضے میں لی تھیں۔ ان میں ’مادام کولونا رومانو‘ اور ’ینگ وومن ایٹ دی ویل‘ شامل ہیں، جنہیں چور اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ دونوں پینٹنگز پیرس کے مشہور اورسے میوزیم کی ملکیت ہیں اور انہیں عارضی طور پر رینوائر میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔ چوروں نے مزید دو پینٹنگز ’مادام پشون‘ اور ’کوکو ریڈنگ‘ بھی اٹھائی تھیں۔ ’کوکو ریڈنگ‘ میں رینوائر کے کم عمر بیٹے کلاڈ کو دکھایا گیا ہے۔ پولیس کے پہنچنے اور تعاقب شروع کرنے پر چور یہ دونوں پینٹنگز میوزیم کے باغ میں چھوڑ کر فرار ہوگئے، جنہیں پولیس نے بعد میں برآمد کرلیا۔ مقامی میئر برائن میسون نے پینٹنگز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا، ’یہ انمول ہیں، آپ انہیں اس طرح آسانی سے فروخت نہیں کرسکتے۔‘ مارسیلے کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور اسے ایک منظم گروہ کی جانب سے چوری کے معاملے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ پولیس چوروں کی شناخت اور فرار ہونے والی دونوں پینٹنگز کی تلاش میں مصروف ہے۔ رینوائر میوزیم فرانس کے شہر نیس کے قریب ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔ یہ عجائب گھر اسی عمارت میں قائم ہے جہاں مشہور مصور پیئر آگسٹ رینوائر اپنی زندگی کے آخری برسوں میں رہے تھے۔ رینوائر کا انتقال 1919 میں ہوا تھا، جبکہ ان کی وفات کے بعد اس جگہ کو میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔ میوزیم میں رینوائر کی 13 پینٹنگز کے علاوہ تقریباً 40 مجسمے، فرنیچر اور تصاویر بھی موجود ہیں۔ رینوائر دنیا کے مشہور مصوروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے فن پاروں کی قیمت کروڑوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میوزیم سے چوری ہونے والی پینٹنگز کو نہ صرف مالی بلکہ تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے بھی انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔ واقعے کے بعد فرانس میں میوزیمز کی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ میئر برائن میسون نے فرانس بھر کے عجائب گھروں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، ”یہ واقعہ ہمارے لیے بیدار کرنے والا سگنل ہونا چاہیے کیونکہ ہمارے عجائب گھر اب فن پاروں کو نشانہ بنانے والے مجرموں کے نئے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔“ فرانس میں میوزیمز کی سکیورٹی پہلے ہی تنقید کی زد میں ہے۔ رواں سال موسم گرما میں فرانسیسی پارلیمنٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کئی عجائب گھروں کے پاس قیمتی فن پاروں اور ثقافتی اشیا کی حفاظت کے لیے مناسب وسائل موجود نہیں ہیں اور وہ چوری جیسے واقعات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں۔ فرانسیسی وزارت ثقافت کے 2024 کے ایک جائزے کے مطابق ہر چار میں سے صرف ایک ادارے کے پاس ہنگامی حالات اور خطرات سے نمٹنے کا باقاعدہ منصوبہ تھا، جبکہ تقریباً نصف اداروں میں ویڈیو نگرانی کا کوئی انتظام موجود نہیں تھا۔ یورپ میں فن پاروں کی چوری کے واقعات میں بھی اضافہ تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ یورپی پولیس ادارے یوروپول نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ فن پاروں کی چوری میں ملوث افراد پہلے کے مقابلے میں زیادہ پرتشدد طریقے اختیار کررہے ہیں۔ ادارے کے مطابق بعض روایتی جرائم پیشہ گروہوں کی جگہ ایسے افراد نے لے لی ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے عارضی طور پر اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ فرانس میں حالیہ عرصے میں کئی عجائب گھر چوروں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں پیرس کے لوور میوزیم میں بھی بڑی چوری ہوئی تھی، جس میں میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 88 ملین یورو مالیت کے زیورات چوری کیے گئے تھے۔ رینوائر میوزیم کے ایک پڑوسی لوک نے فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”اب وہ تمام میوزیمز کو نشانہ بنا رہے ہیں، ہمیں ردعمل دینا ہوگا۔“ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی آمد سے ان کی آنکھ بہت صبح کھلی اور کہا کہ میوزیم کا علاقہ کافی الگ تھلگ ہے۔ رینوائر میوزیم میں ہونے والی اس واردات نے فرانس میں قیمتی فن پاروں کی حفاظت پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ پولیس اب ان دونوں چوری شدہ پینٹنگز کی تلاش کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ چور میوزیم کی سکیورٹی میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھا کر اندر داخل ہونے اور وہاں سے قیمتی فن پارے لے جانے میں کیسے کامیاب ہوگئے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments