76.3 F
Pakistan
Monday, September 7, 2026
HomeBreaking Newsخود غرضی اور خود پرستی۔۔۔ ”میں“ اور”ہم“

خود غرضی اور خود پرستی۔۔۔ ”میں“ اور”ہم“

چوپال سجی ہوئی تھی، سب براجمان تھے۔۔۔نتھو اور پھتو میں آج پرزوروں کی بحث جاری تھی۔چوپال میں تیلا پہلوان(فرضی نام) آئے اور پرجوش اندازمیں سب کو اسلام علیکم کہا۔۔۔ سب نے اس کا جواب دیا۔۔۔ تیلا پہلوان بولے۔۔۔ بھائیو! کس بات پر دونوں جھگڑرہے ہو۔نتھو بولا۔۔ پہلوان جی۔۔۔ ہم دونوں میں آج خود غرضی اور خود پرستی پر بحث چل رہی ہے۔ میں اس کو سمجھارہا ہوں کہ یہ”میں“ کچھ نہیں ہوتا بلکہ”ہم“ اہم ہوتا ہے لیکن پھتو ہے کہ مانتا ہی نہیں ہے۔ابھی باتیں ہوہی رہیں تھی کہ چپ سائیں کی آمد ہوئی۔۔۔ سب احتراما خاموش ہوگئے۔۔ چپ سائیں اپنی جگہ پر بیٹھ گئے،نتھو اور پھتو نے پانی دیا۔ چپ سائیں نے پانی پیا۔۔۔۔ تیلی پہلوان نے کہاکہ سائیں جی آج نتھو اورپھتو میں بہت دلچسپ مکالمہ ہورہا تھا۔۔۔ چپ سائیں نے پوچھا بتاؤ بچوں بھلا کس بات پر۔۔۔ اس پر نتھو اور پھتو دونوں بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔۔ ہم دونوں آج خود غرضی اور خود پرستی پر بات کررہے تھے اور معاملہ ”میں“ اور”ہم“ تک جا پہنچا۔۔۔ خیر آپ بتائیں اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔۔۔چپ سائیں بولے۔۔بچوں بات توواقعی دلچسپ ہے۔۔۔ہم سب آج کے دور میں میں اور ہم میں الجھ کرر ہ گئے ہیں اوراس میں بھی کوئی دورائے نہیں ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ خود غرضی اور خود پرستی بڑھتی جارہی ہے۔ ہم سب کو صرف اپنی اپنی پڑی ہے اور ہم اجتماعیت کوبھول کر انفرادیت کے قائل ہوتے جارہے ہیں۔ بھائیو! سبق تو اجتماعیت کا ہے لیکن ہم اجتماعیت کو بھول کر انفرادیت اورخود غرضی کی طرف بڑھ گئے ہیں۔دوستو! میں ایک مثال یہ دوں گاکہ ایک کوئی شخص سایہ دار درخت کاٹتے ہوئے تھک جائے تو اس کے سائے میں ہی بیٹھے گااور سانس لینے کے بعد دوبارہ اسی کو کاٹنا شروع کرے گا۔۔۔ افسوس۔۔۔ پہلے لفظوں میں مٹھاس کم ہوتی ہے، پھر رویوں میں خلوص، پھر رشتوں میں مفاد داخل ہوجاتا ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں زندہ ہیں جہاں کامیابی کا مطلب آگے نکل جانا ہے، چاہے پیچھے کتنے ہی لوگ کیوں نہ رہ جائیں۔ خوشحالی کا مطلب اپنے گھر کی آسائش ہے۔پڑوس میں چاہے کسی کے چولہے میں آگ نہ جل رہی ہو۔دوستو! خود غرضی کوئی ایک دن میں پیدا ہونے والی بیماری نہیں ہے۔ جب ایک معاشرے کے افراد کی اکثریت اسی مقام پر پہنچ جائے تو پھر معاشرہ بظاہر آباد، مگر اندر سے ویران اور کھوکھلاہو جاتا ہے۔ ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو اس ویرانی کے آثار صاف دکھائی دیتے ہیں۔ہم میں سے ہر شخص شکوہ کرتا ہے کہ معاشرہ خراب ہو گیا ہے، لیکن بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس معاشرے کا ایک حصہ ہم خود بھی ہیں۔ خود غرضی کے ساتھ ایک اور رویہ بھی ہماری زندگی میں تیزی سے جگہ بنا رہا ہے، اور وہ ہے خود پرستی۔بھائیو! خود غرض شخص اپنے مفاد کا اسیر ہوتا ہے، جبکہ خود پرست شخص اپنی ذات کااسیر ہے۔۔ خود پرست انسان کو ہر محفل میں اپنی موجودگی نمایاں چاہیے۔ایسا شخص دوسروں کی تعریف سن لیتا ہے، مگر دل سے قبول نہیں کر سکتا۔ اسے اپنی غلطی ماننے میں اپنی توہین محسوس ہوتی ہے اور جھک جانے کو شرمندگی محسوس کرتا ہے۔چپ سائیں بات کرتے کرتے چپ کرگئے۔۔ توقف کے بعد دوبارہ گویا ہوئے کہ دوستو! ہم دوسروں کو اپنی زندگی کا بہترین ایڈیشن دکھاتے دکھاتے شاید اپنی اصل زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور ایک کھوکھلی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی تمام تعریفیں تو ایسی خوبیوں کے حامل شخص کو مل جاتی ہیں مگر میں اس میں خلوص، محبت اور تعلق کی کمی ہوتی ہے۔ خود غرضی رشتوں کو خاموشی سے کھا جاتی ہے۔ بھائیو! ہم کہتے ہیں زمانہ بدل گیا ہے۔ زمانہ شاید اتنا نہیں بدلا جتنا ہم نے خود کوبدل لیا اور ہم سے میں میں دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے۔دوتو! ہم نے مصروفیت کے نام پر اپنوں کی خبرگیری کم کر دی ہے۔ ہم نے اپنی ترجیحات میں آسائش، دولت، شہرت اور کامیابی تو شامل کر لی، مگر انسانیت کو کہیں پیچھے چھوڑدیا۔ اور المیہ یہ ہے کہ ہمیں اس پر افسوس بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔افسوس حضرت انسان کسی کے آنسو پونچھ سکتا ہے یا نہیں، کسی بھوکے کو کھانا دے سکتا ہے یا نہیں، کسی مایوس شخص کو امید دے سکتا ہے یا نہیں لیکن ہم اور میں کی بحث جاری ہے اور جا رہی رہے گی۔۔ کسی کی غلطی پکڑ لینا ذہانت نہیں، اسے اصلاح کا موقع دینا انسانیت ہے۔صاحبو! ہمیں ”میں“ اور ”تم“ کے درمیان ایک پل اور رابطہ بنانا ہوگا۔ آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم دوسروں کو خود غرض کہیں بلکہ اس امر کی ہے کہ ہر شخص رات کو سونے سے پہلے چند لمحے اپنے گریبان میں جھانکے اور خوداحتسابی کے عمل سے گزرے۔صاحبو! آئیے آج سے ایک چھوٹی سی کوشش کریں اور خود میں تبدیلی لاتے ہیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد کریں، کسی ناراض شخص کو منانے میں پہل کریں، والدین کے لیے وقت نکالیں، کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہوں۔بھائیو! شاید ہماری ایک چھوٹی سی نیکی کسی دوسرے انسان کے لیے پوری دنیا کی امید بن جائے۔ ہمیں اصلاح کا آغاز دوسروں سے نہیں بلکہ خود سے کرنا ہے کیونکہ معاشرہ کوئی الگ وجود نہیں، ہم اکائی ہے اور اکائیوں سے معاشرے کاجنم ہوتا ہے۔دوستو! آئیے خود غرضی کے اس شور میں انسانیت کی آواز کو دوبارہ سنیں اپنے دل کے دروازے کھولیں اور یہ عہد کریں کہ ہم دنیا سے صرف لینے والے نہیں، کچھ دینے والے بھی بنیں گے۔اصلاح کا راستہ اصلاح کے لیے ہمیں کسی غیر معمولی واقعے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ دوستو! رشتے وقت مانگتے ہیں، توجہ مانگتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اخلاص مانگتے ہیں۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر اختلاف کو جھگڑے میں بدلنا ضروری نہیں اور ہر غلطی کو دوسروں کے سامنے اچھالنا بھی کوئی کمال نہیں۔ عبادات انسان اور اللہ کے درمیان تعلق مضبوط کرتی ہیں، لیکن انسانوں کے حقوق کا معاملہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ہمیں اپنے دل سے یہ سوال بار بار کرنا چاہیے کیا میں کسی کے لیے آسانی ہوں یا مشکل؟۔دوستو! جہاں انا اور رشتہ آمنے سامنے آجائیں وہاں رشتے بچائیں۔ جہاں غصہ اور برداشت آمنے سامنے ہوں، وہاں برداشت کا انتخاب کریں۔ قابل ذکر یہ ہے کہ جہاں ”میں“ اور ”ہم“ میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہو، وہاں ”ہم“ کو ترجیح دیں۔ جب انسان اپنے اندر کے خود غرض، متکبر اور خود پرست شخص کو شکست دیتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اصل کامیابی دنیا کو اپنے قدموں میں جھکانے میں نہیں، بلکہ اپنے کردار سے دلوں میں جگہ بنانے میں ہے۔۔۔ رہے نام اللہ کا!

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments