کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پڑوسی خاتون پر تشدد کرنے والی ملزمہ مریم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ملزمہ مریم نے تشدد کے بعد متاثرہ خاتون کے خلاف ہی مقدمہ درج کرا دیا تھا، تاہم تحقیقات کے بعد ملزمہ اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ ڈیفنس فیز 6 کے خیابانِ بخاری میں ایک بااثر خاتون اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے بہن بھائی پر مبینہ تشدد کی وڈیو سامنے آئی تھی، جس کے بعد پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھے تھے۔ وڈیو میں ایک خاتون کو دو با وردی پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں دوسری خاتون پر ڈمبل سے حملہ کرتے، جب کہ بعد ازاں ایک سادہ لباس شخص کو سرکاری کلاشنکوف سے سی سی ٹی وی کیمرہ توڑتے دیکھا گیا تھا۔ بعد میں سامنے آنے والی فوٹیج میں متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو پولیس اہلکار گھسیٹ کر تھانے لے جاتے دکھائی دیے تھے، جس کے بعد متاثرہ خاندان کے خلاف مقدمے کے اندراج میں مبینہ جانبداری کے الزامات سامنے آئے تھے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی مکمل رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ارسال کی تھی۔ رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری سمیت چار پولیس افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے قانونی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی کورنگی کی جانب سے انتظامی غفلت برتی گئی، جس پر کارکردگی اور نظم و ضبط کے قواعد 2020 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی۔ ضلع کورنگی کے جن پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی، ان میں ایس ایچ او درخشاں راشد علی، تفتیشی افسر عمران درخشاں اور پولیس موبائل افسر آفتاب منگی بھی شامل ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی نے متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمے کو بی کلاس قرار دے کر خارج کرنے اور متاثرہ خاندان کی مدعیت میں تشدد کے واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش بھی کی تھی۔ رپورٹ میں وڈیو میں نظر آنے والی دو خواتین اور ایک مرد کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وڈیو میں متاثرہ خاندان کو تشدد کا نشانہ بنانے والے افراد ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کے قریبی رشتے دار ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے معاملے کی انکوائری کا حکم دیا تھا اور ایس ایس پی انویسٹیگیشن ساؤتھ کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات کے بعد اب ملزمہ مریم اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔



