76.7 F
Pakistan
Saturday, September 5, 2026
HomeTechnologyٹیسلا کی سائبر کیب روبوٹیکسی کے خلاف امریکی روڈ سیفٹی ادارے کی...

ٹیسلا کی سائبر کیب روبوٹیکسی کے خلاف امریکی روڈ سیفٹی ادارے کی طرف سے تحقیقات شروع

امریکی وفاقی ادارے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے ٹیسلا کی نئی بغیر ڈرائیور چلنے والی روبوٹیکسی ’سائبر کیب‘ کی حفاظتی سرٹیفکیشن کے طریقہ کار کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ادارہ یہ جانچ رہا ہے کہ آیا ٹیسلا نے ان گاڑیوں کو وفاقی موٹر وہیکل سیفٹی قوانین کے مطابق قرار دیتے وقت درست طریقہ کار اور تکنیکی معلومات استعمال کی تھیں یا نہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ تحقیقات ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب ٹیسلا نے جمعرات کو ٹیکساس کے شہر آسٹن میں دو نشستوں والی سائبر کیب کی محدود تجارتی سروس شروع کی ہے۔ کمپنی نے بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر گاڑیوں کی تعداد کم رکھی جائے گی اور بعد میں اس سروس کو مزید گاڑیوں اور دوسرے مقامات تک پھیلایا جائے گا۔ سائبر کیب عام گاڑیوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں ڈرائیور کے لیے روایتی کنٹرول موجود نہیں ہیں۔ نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی کے مطابق اس گاڑی میں اسٹیئرنگ وہیل، بریک پیڈل، ایکسیلیریٹر پیڈل اور روایتی سائیڈ مررز شامل نہیں ہیں۔ یہی خصوصیات اب وفاقی حفاظتی ضوابط کے تحت تحقیقات کا اہم حصہ ہیں۔ (ٹیسلا کی بغیر ڈرائیور چلنے والی روبوٹیکسی ’سائبر کیب‘) امریکا میں گاڑی تیار کرنے والی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کو وفاقی موٹر وہیکل سیفٹی اسٹینڈرڈز کے مطابق ہونے کی خود تصدیق کریں۔ تاہم اگر کسی تصدیق شدہ گاڑی کے بارے میں یہ خدشہ پیدا ہو کہ وہ ان تقاضوں پر پوری نہیں اترتی تو نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی تحقیقات کر سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق موجودہ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ٹیسلا نے سائبر کیب کی سرٹیفکیشن کے لیے کیا بنیاد اختیار کی اور کن حفاظتی معیاروں کو اس گاڑی پر لاگو نہ ہونے کے قابل سمجھا گیا۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکی حکومت خود ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کے لیے موجودہ قوانین میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ جون میں نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی نے خودکار گاڑیوں میں لازمی بریک پیڈل سے متعلق موجودہ حکومتی تقاضے کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کے علاوہ ایسے دیگر ضوابط میں تبدیلیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے جن کے نتیجے میں مکمل خودکار گاڑیوں کو انسانی ڈرائیور کے لیے درکار بعض روایتی آلات کے بغیر سڑکوں پر چلانا آسان ہو سکتا ہے۔ تاہم نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی نے واضح کیا ہے کہ جب تک یہ قانونی تبدیلیاں مکمل نہیں ہوتیں، موجودہ حفاظتی معیار بدستور نافذ رہیں گے۔ نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی کے ایڈمنسٹریٹر جوناتھن موریسن نے کہا کہ ادارہ خودکار گاڑیوں کی محفوظ تیاری اور استعمال کی حمایت کرتا ہے، لیکن وفاقی ریگولیٹر کی حیثیت سے اس کی ذمہ داری ہے کہ تمام متعلقہ قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ٹیکساس کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق جمعے کی صبح تک ریاست میں ٹیسلا کی 420 خودکار گاڑیاں رجسٹرڈ تھیں، جن میں 45 سائبر کیب شامل تھیں۔ موجودہ امریکی قانون کے تحت مکمل خودکار گاڑیوں کو نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی سے الگ منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی، بشرطیکہ ان میں قانون کے مطابق مطلوبہ انسانی کنٹرولز، جیسے اسٹیئرنگ وہیل، بریک پیڈل یا مررز، موجود ہوں۔ تاہم ایسی گاڑیوں کے لیے جن میں یہ روایتی کنٹرول موجود نہیں، نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی کو محدود تعداد میں خصوصی اجازت دینے کا اختیار حاصل ہے۔ قانون کے تحت نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایک گاڑی ساز کمپنی کی زیادہ سے زیادہ ڈھائی ہزار ایسی گاڑیوں کو سالانہ سڑکوں پر چلانے کی اجازت دے سکتا ہے جن میں مطلوبہ انسانی کنٹرول موجود نہ ہوں۔ جولائی میں ادارے نے ایمیزون کے ذیلی ادارے زوکس کو اس نوعیت کی اسٹیئرنگ وہیل سے محروم روبوٹیکسی کی محدود تجارتی سروس کی اجازت دی تھی۔ یہ خودکار ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اس طرح کی پہلی منظوری تھی۔ نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی کے مطابق ٹیسلا نے سائبر کیب کے لیے ایسی خصوصی استثنیٰ کی درخواست جمع نہیں کرائی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ تحقیقات میں یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ٹیسلا نے کس قانونی اور تکنیکی بنیاد پر سائبر کیب کو موجودہ حفاظتی معیاروں کے مطابق قرار دیا۔ ٹیسلا نے تحقیقات کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تحقیقات کا آغاز فی الحال اس بات کا حتمی فیصلہ نہیں ہے کہ ٹیسلا نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے، بلکہ امریکی حکام اب یہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سائبر کیب کی سرٹیفکیشن موجودہ وفاقی قوانین اور حفاظتی معیاروں کے مطابق تھی یا نہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments