82 F
Pakistan
Saturday, July 4, 2026
HomeBreaking Newsیہاں لباس کی قیمت ہے، آدمی کی نہیں....

یہاں لباس کی قیمت ہے، آدمی کی نہیں….

چوپال سجی ہوئی تھی، سب براجمان تھے۔ چپ سائیں اخبار کے مطالعے میںمصروف تھے۔ چپ سائیں کی خاموشی کی وجہ سے سب ایک دوسرے سے اشاروں کنایوں میں حال دل بیان کررہے تھے۔ اسی اثنا سلیم قینچی والا(فرضی نام) کی چوپال آمد ہوئی، باآواز بلند سب سے سلام دعا کی(سلیم صاحب شاعر ہونے کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ قینچی والا لکھتے تھے)۔۔۔ چپ سائیں نے بھی اخبار دوسری طرف رکھ دیا اور کہا کہ ۔۔ بھائی سلیم خیرتو ہے! ۔۔۔ بولے سائیں جی۔۔ آج میں استاد بشیر بدر صاحب کا ایک شعر پڑھ رہا تھا۔۔۔اس کا پہلا مصرعہ میرے دل ودماغ پر نقش ہوگیا۔۔۔۔۔ یہ ہمارے معاشرے کی حقیقت بھی ہے اور اس کے معنی بہت گہرے ہیں۔۔۔۔میں نے سوچا چوپال کا رخ کروں۔۔ آپ سے اصلاح پاؤں۔۔۔ کچھ معرفت کی باتیں بھی سننے کو ملیں گی۔۔۔ چپ سائیں گویا ہوئے۔۔۔ سلیم بھائی کچھ بولیں تو سہی۔۔ ۔۔۔ بشیر بدر صاحب کا شعر کا مصرعہ ہے کہ”یہاں لباس کی قیمت ہے، آدمی کی نہیں۔۔“سلیم قینچی والا دوبارہ چپ کر گئے۔۔۔ بولے۔۔۔ چپ سائیں جی۔۔ اب آپ بتائیں۔۔ چپ سائیں بولے ۔ ۔ ۔ ۔ دوستو! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں پر حقیقت میں ہے تو ایسا ہی ہے۔۔۔۔آج کے معاشرے میں اگر کسی حقیقت نے انسان کی قدر و قیمت کے پیمانے کو سب سے زیادہ بدل دیا ہے تو وہ ظاہری شکل و صورت اور لباس کی چمک دمک ہے۔بھائی دوستو! انسان کی اصل پہچان اس کا کردار، علم، اخلاق اور نیت ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے موجودہ معاشرتی ڈھانچے میں ان خوبیوں کی بجائے ظاہری حلیہ زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر کسی شخص کا لباس مہنگااور صاف ستھرا ہو تو اس کے لیے دروازے خود بخود کھلنے لگتے ہیں، اس کی بات کواہمیت اور اسے عزت دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص سادہ لباس میں ہو، مگر علم و دانش اور اخلاق میں بلند ہو، تو اکثر اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔یہ رویہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرتی مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔بھائی دوستو! اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ اپنی اصل صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے بجائے ظاہری دکھاوے پر زیادہ توجہ دینے لگتے ہیں۔اگر ہم اس مسئلے کی جڑ تک جائیں تو ہمیں مادیت پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان نظر آتا ہے۔ آج کا دور برانڈز، فیشن اور سٹیٹس کا دور بن چکا ہے۔چوپال کے بچوں اور دوستو! مگر سوال یہ ہے کہ اس سوچ کو بدلا کیسے جائے؟ اس کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنے ذاتی رویوں میں تبدیلی لائیں۔ ہمیں انسان کو اس کے کردار سے پرکھنا ہوگا، نہ کہ اس کے لباس سے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مہنگا لباس اچھا انسان ہونے کی ضمانت نہیں، اور سادہ لباس کم علمی یا کم اخلاقی کی علامت نہیں۔چپ سائیں بات کرتے کرتے چپ کرگئے ۔۔۔۔ توقف کے بعد گویا ہوئے کہ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی اس کا دوسرا پہلو بھی ہے ۔گھر اور تعلیمی ادارے اگر بچوں کو یہ سکھائیں کہ انسان کی اصل قدر اس کے اخلاق اور عمل میں ہے تو آنے والی نسلیں اس فرق کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گی۔ صاحبو! اسلامی تعلیمات بھی ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ انسان کی عزت اس کے تقویٰ، علم اور کردار سے ہے، نہ کہ اس کے لباس یا دولت سے۔ چپ سائیں بولے۔۔ نتھو اور پھتو ۔۔۔میرے بچوں۔۔۔ میں کچھ دن قبل موبائل پر ایک کلپ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اس بات سے متعلق تھا۔۔ اسی وجہ سے یاد آگیا۔۔۔ سب چپ سائیں کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔ چپ سائیں نے کہاکہ۔۔۔ کلپ میں ایک مفلوک الحال شخص ایک بڑے ہوٹل میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن اسے محافظ روک دیتے ہیں اور کہتے ہیں بھائی۔۔۔ یہاں آپ کی جگہ نہیں ہے۔۔۔ وہ مفلوک حال شخص ۔۔خاموشی سے چلا جاتا ہے۔۔۔۔ کچھ دیر کے بعد وہی شخص ۔۔۔ بہترین اورمہنگے لباس میں دوبارہ اس بڑے ہوٹل میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے، گیٹ پرکھڑے محافظ اسے سلیوٹ کرتے ہیں اور اندر جانے کے لیے دروازہ بھی کھول دیتے ہیں۔۔ چپ سائیں بولے۔۔ دوستو! وہ شخص جب اندر داخل ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ۔۔۔ محافظوں میں وہی مفلوک الحال ہوں۔۔ جس کو کچھ دیر پہلے آپ لوگوں نے اس کے ظاہری حلیے کی وجہ سے داخل نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔دراصل میں ایک بزنس مین ہوں دیکھنا چاہتا تھا کہ لباس اور شخصیت کاکیا اثر ہوتا ہے؟۔۔۔ چپ سائیں بولے۔۔۔ بھائیو! ۔۔۔میرا خیال ہے کہ سب کو سلیم قینچی والے کی طرح اس کی بات کا جواب مل گیا ہوگا۔اگر ہم واقعی ایک منصفانہ اور مہذب معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ لباس کی قیمت ہے، آدمی کی نہیں۔ ہمیں انسان کی اصل قدر اس کی انسانیت میں تلاش کرنی ہوگی۔بھائیو! ۔۔۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا، یعنی وہ مخلوق جو عقل، شعور اور اخلاقی انتخاب کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن جب انسان کی قدر اس کے کردار کے بجائے اس کے لباس، برانڈ، گاڑی یا ظاہری انداز سے ہونے لگے تو معاشرتی توازن بگڑ جاتا ہے۔۔۔۔یہ رویہ صرف انفرادی نہیں بلکہ ایک اجتماعی بیماری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔۔۔صاحبو! یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ لوگ اکثر دوسروں کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کو عزت دینی ہے۔ یوں ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں ظاہری لباس انسان کی قدر کا پیمانہ بن جاتا ہے۔اس مسئلے کا ایک اور پہلو نفسیاتی بھی ہے۔ جب کسی شخص کو بار بار اس کے لباس یا ظاہری حالت کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے تو وہ خود بھی اسی سوچ کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ کامیابی کا راز علم یا کردار میں نہیں بلکہ ظاہری چمک میں ہے۔ اس صورتحال کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ اصل انسان سے دور ہو جاتا ہے۔ لوگوں کے درمیان تعلقات مفاد، دکھاوے اور ظاہری حیثیت پر قائم ہونے لگتے ہیں۔ سچائی، خلوص اور اخلاقی قدریں کمزور پڑ جاتی ہیں۔دوستو! اس مسئلے کا حل صرف تنقید نہیں بلکہ عملی تبدیلی ہے۔ ہمیں یہ عادت ڈالنی ہوگی کہ ہم لوگوں کو ان کے عمل، اخلاق اور رویے کی بنیاد پر پرکھیں۔اسلامی تعلیمات بھی ہمیں یہی سکھاتی ہیں کہ انسان کی اصل عزت اس کے تقویٰ، کردار اور علم میں ہے۔ صاحبو! ۔۔۔ میں آج چوپال میں یہ سکھانا چاہتا ہوں کہ ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ جب ہم انسان کو اس کے اندرونی اوصاف کی بنیاد پر پہچاننا شروع کریں گے تو نہ صرف افراد کی عزت بحال ہوگی بلکہ ایک حقیقی، منصفانہ اور مہذب معاشرہ بھی وجود میں آئے گا۔۔۔رہے نام اللہ کا! ۔۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments