81.3 F
Pakistan
Sunday, June 14, 2026
HomeTechnologyیوکرین کے اے آئی ’ٹرمینیٹر‘ ڈرونز

یوکرین کے اے آئی ’ٹرمینیٹر‘ ڈرونز

یوکرین کی دفاعی صنعت کے ایک سینیئر عہدے دار الیگزینڈر کوخانوسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے روسی فوجیوں کو مارنے کے لیے پہلی بار انسانی نگرانی کے بغیر مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ’ٹرمینیٹر‘ ڈرونز استعمال کیے۔ ڈرون بنانے والے کوخانوسکی نے بتایا کہ محاذ جنگ پر ایک تجرباتی آزمائش کے دوران اے آئی کے زیر کنٹرول ڈرونز استعمال کیے گئے تھے۔ انہوں نے یوکرینی سفارت خانے کے زیر اہتمام ایک تقریب میں سائنسی جریدے نیو سائنٹسٹ کو بتایا کہ دو سال قبل ہونے والے اس تجربے کے بعد اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر استعمال نہیں کیا گیا۔ کوخانوسکی کے مطابق ’ہم نے اسے آزمایا تھا۔ یہ صرف ایک تجربہ تھا۔ ہم نے اسے بعد میں وسیع پیمانے پر استعمال نہیں کیا۔‘ اس تجربے میں کواڈ کاپٹر ڈرونز کو پروگرام کیا گیا تھا کہ وہ محاذ جنگ کی جانب پرواز کریں اور تقریباً 10 منٹ میں تین سے پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ’ٹرمینیٹر موڈ‘ فعال کر دیں، جس میں ایک اے آئی ماڈل اہداف کو تلاش کر کے ان پر حملہ کرے گا۔ کوخانوسکی نے کہا ’ہم صرف اسے روانہ کرتے ہیں اور ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں جو کچھ بھی ملے گا، سب تباہ ہو جائے گا۔ ’اس مخصوص علاقے میں جو کچھ بھی ڈرون کو نظر آئے گا، وہ مار دیا جائے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان ڈرونز سے کسی قسم کا رابطہ نہیں تھا، نہ ویڈیو دیکھی جا سکتی تھی اور نہ ہی ان کی کارروائی کو براہ راست مانیٹر کیا جا سکتا تھا۔ چونکہ یہ معلوم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ خودکار ڈرون نے کیا دیکھا یا کس ہدف کو نشانہ بنایا، اس لیے تجربے کے بعد انسانی پائلٹوں کے زیر کنٹرول ڈرونز علاقے میں بھیجے گئے تاکہ نتائج کی جانچ کی جا سکے۔ کوخانوسکی کے مطابق حملے کے شکار ہونے والوں میں ’چند فوجی اور ایک ٹرک‘ شامل تھے۔ اگرچہ حملوں کی کوئی ویڈیو ریکارڈنگ موجود نہیں، تاہم یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ انہی خودکار ڈرونز نے انہیں مارا تھا۔ دنیا بھر کی افواج میں اے آئی کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔ یہ انٹیلی جنس ڈیٹا کے وسیع ذخیرے میں اہداف کی شناخت اور بعض ہتھیاروں کے افعال کو خودکار بنانے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن اب تک کسی نہ کسی مرحلے پر انسان فیصلہ سازی کے عمل میں شامل رہتا ہے۔ دفاعی کمپنیوں کے ذرائع کے مطابق یوکرینی حکومت فی الحال اہداف کو نشانہ بنانے کے آخری مرحلے میں اے آئی کے استعمال پر پابندی عائد کرتی ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے کے کئی مراحل میں مختلف نظام مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) کوخانوسکی کا کہنا ہے کہ حکومت اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں سے آگاہ ہے اور دفاعی کمپنیوں کے ساتھ اس بارے میں بات چیت جاری ہے کہ آیا قوانین میں نرمی کی جانی چاہیے یا نہیں۔ 2023 میں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ اے آئی سے لیس یوکرینی حملہ آور ڈرونز بغیر انسانی مدد کے اہداف تلاش کر کے ان پر حملے کر رہے تھے۔ تاہم اس وقت ان کا استعمال ٹینکوں اور دیگر گاڑیوں کے خلاف کیا جا رہا تھا نہ کہ پیدل فوج کے خلاف اور کسی انسانی موت کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ اگرچہ ایسے خودمختار ہتھیاروں پر کوئی عالمی پابندی نہیں جو انسانی مداخلت کے بغیر جان لے سکتے ہوں۔ تاہم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے گذشتہ سال ان پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا ’ہماری دنیا میں مہلک خودمختار ہتھیاروں کے نظام کی کوئی جگہ نہیں۔‘ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایسے ہتھیار بین الاقوامی انسانی اور انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں کیونکہ یہ جنگ میں انسانی فیصلہ سازی کو ختم کر دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ خودکار نظام غلطی سے اپنے ہی فوجیوں یا سازوسامان کو نشانہ بنا سکتے ہیں یا شہریوں پر حملہ کر سکتے ہیں۔ کوخانوسکی کے مطابق یوکرین کے موجودہ قوانین کی وجہ سے ’ٹرمینیٹر‘ منصوبہ اس تجربے کے بعد آگے نہیں بڑھ سکا۔ ڈرون مصنوعی ذہانت روس یوکرین جنگ روس یوکرین یوکرین کی دفاعی صنعت کے ایک سینیئر عہدے دارکے مطابق یوکرین نے روسی فوجیوں کو مارنے کے لیے پہلی بار انسانی نگرانی کے بغیر اے آئی سے چلنے والے ’ٹرمینیٹر‘ ڈرونز کا تجربہ کیا تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو اتوار, جون 14, 2026 – 09: 15 Main image:

آٹھ مئی، 2026 کو جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں یوکرینی فوج کی گاڑیاں ایک ایسی سڑک پر جا رہی ہیں جسے ڈرون حملوں سے تحفظ کے لیے جال سے ڈھانپا گیا ہے (ہینڈ آؤٹ/اے ایف پی)

ٹیکنالوجی type: news related nodes: ٹی ٹی پی کے ڈرون سپلائی نیٹ ورک کا رکن گرفتار: سندھ پولیس اسرائیلی ڈرونز نے بیروت کے لوگوں کا آسمان سے تعلق بدل دیا چین کے اے آئی نے ایک دہائی پرانا ریاضی کا مسئلہ حل کر لیا مصنوعی ذہانت کے استعمال پہ معذرت کیسی؟ SEO Title: یوکرین کا پہلی بار روس کے خلاف اے آئی ’ٹرمینیٹر‘ ڈرونز کا استعمال: رپورٹ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments