جنگیں عجیب ہوتی ہیں۔ نقشے پر چند لکیریں کھینچی جاتی ہیں چند شہر نشانے پر رکھے جاتے ہیں میزائل داغے جاتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر جملہ آتا ہے ’فریقین میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ہم جملہ پڑھتے ہیں چائے کا گھونٹ لیتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔لیکن ایک میزائل جب یمن سے سعودی عرب کی طرف جاتا ہے تو وہ اپنے ساتھ کئی سوال لے جاتا ہے۔ اسے کس نے بنایا ٹیکنالوجی کہاں سے آئی اسے روکنے میں کتنے کروڑ ڈالر خرچ ہوئے جس شہر پر یہ گرا وہاں کون رہتا تھا اور اگر اس حملے سے تیل کی تنصیب رک گئی تو اس کا اثر دنیا کے دوسرے سرے تک کیسے پہنچے گا۔ کہانی کیا ہے آئیں سمجھتے ہیں۔ یمن بظاہر ایک غریب ملک ہے، مگر اس کا جغرافیہ بہت قیمتی ہے۔ یہ بحرِ احمر کے اس دروازے پر بیٹھا ہے جہاں سے عالمی تجارت کا ایک اہم حصہ گزرتا ہے۔ باب المندب ایک تنگ سمندری راستہ ہے، مگر دنیا کی معیشت کے لیے اس کی اہمیت بہت بڑی ہے۔ یمن کی تباہی 2015 میں شروع نہیں ہوئی۔حوثی تحریک شمالی یمن کی زیدی برادری سے ابھری۔ ابتدا میں یہ مذہبی اور سیاسی بیداری کی تحریک تھی مگر وقت کے ساتھ ریاست سے مسلح تصادم میں بدل گئی۔ 2004 میں حکومت اور حوثیوں کے درمیان جنگ شروع ہوئی۔ پھر 2011 آیا۔ علی عبداللہ صالح اقتدار سے الگ ہوئے اور عبدربہ منصور ہادی صدر بنے۔ مگر ریاست کمزور، معیشت بیمار اور سیاسی ادارے تقسیم تھے۔ جنوب میں علیحدگی پسند جذبات موجود تھے اور حوثی اپنی طاقت بڑھا رہے تھے۔2014 میں حوثی صنعاء میں داخل ہوگئے۔ جنوری 2015 میں انہوں نے صدارتی محل پر قبضہ کرلیا اور صدر ہادی ملک سے باہر چلے گئے۔ 26 مارچ 2015 کو سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے یمن میں کارروائی شروع کردی۔یوں مقامی تنازع علاقائی طاقتوں کی کشمکش بن گیا۔یہاں ایران کا نام آیا۔ حوثیوں کے ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے اور مختلف بین الاقوامی تحقیقات اور حکومتوں نے ایرانی مدد یا ٹیکنالوجی کے شواہد پیش کیے۔ سعودی عرب نے اسے اپنی سرحد کے قریب ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے طور پر دیکھا۔لیکن حوثیوں کو صرف ایران کی پیداوار سمجھنا بھی مکمل تصویر نہیں۔ ان کی اپنی تاریخ، تنظیم، قبائلی روابط اور یمنی سیاسی مفادات ہیں۔ ایران کی مدد ختم بھی ہوجائے تو یمن کا بنیادی بحران ختم نہیں ہوگا، کیونکہ بیماری پہلے سے موجود ہے۔جنگ نے اسے صرف نمایاں کردیا۔پھر شہروں پر بم گرے، اسپتال بھرے اور بچے غذائی قلت کا شکار ہوئے۔ 377, 000 اموات کا مشہور عدد 2021 تک UNDP کے ایک ماڈل پر مبنی اندازہ تھا، جس میں براہ راست اور بالواسطہ اموات شامل تھیں۔اعداد کبھی کبھی بہت بے رحم ہوتے ہیں۔ تیل کی قیمت 106 ڈالرز فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ایک لاکھ انسان مر جائیں تو خبر بنتی ہے۔ ایک بچہ مرے تو ماں کا گھر قبر بن جاتا ہے۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی۔ حملوں میں کمی آئی، صنعاء ایئرپورٹ پر محدود پروازیں بحال ہوئیں اور حدیدہ کی بندرگاہ سے ایندھن کی ترسیل بہتر ہوئی۔ اکتوبر 2022 میں جنگ بندی ختم ہوگئی، مگر جنگ پہلے جیسی نہ رہی۔یہ امن نہیں تھا، صرف جنگ کی رفتار میں کمی تھی۔پھر 2026 میں دوبارہ کشیدگی بڑھی اور حملوں و جوابی کارروائیوں نے واضح کردیا کہ یمن کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔اور دنیا کی نظریں دوبارہ باب المندب پر چلی گئیں۔یمن کا ایک ڈرون ہزاروں میل دور کسی یورپی کمپنی کو اپنا جہاز کا راستہ بدلنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ راستہ لمبا ہوتا ہے، ایندھن اور انشورنس کی لاگت بڑھتی ہے، ترسیل میں تاخیر ہوتی ہے اور اثر بالآخر صارف تک پہنچتا ہے۔اسی لیے یمن صرف خانہ جنگی نہیں۔ یہ جغرافیے، علاقائی طاقت، عالمی تجارت اور سب سے بڑھ کر انسانوں کا مسئلہ ہے۔اس جنگ کو صرف شیعہ سنی تنازع ایران سعودی پراکسی وار یا حوثیوں کی بغاوت کہنا مکمل تصویر نہیں۔ اس میں مقامی محرومی، اقتدار کی جنگ، ریاستی کمزوری، قبائلی سیاست، مذہبی شناخت، علاقائی رقابت اور عالمی مفادات سب شامل ہیں۔اور سب سے پیچیدہ بات یہ ہے کہ یمن کے اندر بھی مستقبل کی ایک ہی تصویر نہیں۔ شمال جنوب قبائل، سیاسی دھڑے اور مسلح گروہ اپنے اپنے مفادات اور مطالبات رکھتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی دیرپا حل کے لیے صرف بیرونی طاقتوں کا اتفاق کافی نہیں یمن کے اندر سیاسی سمجھوتا بھی ضروری ہوگا۔اسی لیے ایک گروہ کو شکست دے کر مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ایک میزائل روک کر امن قائم نہیں ہوگا۔ایک صدر بدل کر ٹوٹی ہوئی سیاست درست نہیں ہوگی۔اس کے لیے سیاسی سمجھوتا، مضبوط ریاستی ادارے معاشی بحالی اور سب سے بڑھ کر امن کا ارادہ چاہیے۔مگر اس سب کے درمیان ایک ایسا ملک کھڑا ہے جس کے عام شہری نے سب سے زیادہ قیمت ادا کی ہے۔ایک یمنی ماں سے پوچھیں کہ اسے باب المندب میں عالمی تجارت کی کتنی فکر ہے۔وہ شاید کہے مجھے صرف یہ بتا دیں کہ میرا بچہ کل اسکول جائے گا یا نہیں۔یہی جملہ یمن کی پوری جنگ کو سمجھا دیتا ہے۔بڑی طاقتیں نقشے دیکھتی ہیں۔ جنرل میزائلوں کی رینج دیکھتے ہیں۔ حکومتیں سرحدیں دیکھتی ہیں کمپنیاں شپنگ روٹس دیکھتی ہیں۔لیکن ایک یمنی باپ اپنے بچے کا چہرہ دیکھتا ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی کے وکالت ناموں پر دستخط ، جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ڈراپ کردی گئی دنیا پوچھتی ہے کون جیت رہا ہے۔ یمن پوچھتا ہے جنگ کب ختم ہوگی۔ دنیا پوچھتی ہے کس کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ یمن پوچھتا ہے: ہمارے بچوں کا مستقبل کہاں ہے۔ شاید اسی فرق میں یمن کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔جنگ کے اختتام پر کوئی بھی طاقت دعویٰ کرسکتی ہے کہ اس نے دشمن کو شکست دے دی۔ مگر اگر ایک بچہ بھوکا ہے، ایک ماں بے گھر ہے، ایک باپ اپنے بیٹے کی قبر پر بیٹھا ہے اور ایک پورا ملک اپنے مستقبل سے بے خبر ہے تو سوال باقی رہتا ہے۔ جنگ نے آخر حاصل کیا کیا۔یمن میں شاید اصل لڑائی اس بات پر ہے کہ اس کا مستقبل بندوق طے کرے گی یا سیاست۔اور جب تک اس سوال کا جواب نہیں ملتا باب المندب کی لہریں چلتی رہیں گی میزائل آتے جاتے رہیں گے اور ایک یمنی بچہ شاید ہر رات ایک ہی دعا کرے گا۔ یا اللہ، کل صبح جنگ نہ ہو۔ ستھرا پنجاب پروگرام: قصور، فیصل آباد، اوکاڑہ کے ایم ڈی عہدوں سے فارغ



