83.5 F
Pakistan
Thursday, June 11, 2026
HomeBusinessیقینی بنا رہے ہیں کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی‘ پاکستان نہ...

یقینی بنا رہے ہیں کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی‘ پاکستان نہ پہنچے: انڈین وزیر

ایک سینیئر انڈین وزیر نے کہا ہے کہ گذشتہ سال ایک بڑے آبی معاہدے کی معطلی کے بعد انڈیا اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کی جانب پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انڈیا نے گذشتہ سال کشمیر میں ہونے والے ایک حملے کے بعد، جس میں 26 اموات ہوئیں تھیں، پاکستان کے ساتھ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔ حکمران جماعت کے ایک وفاقی وزیر نے تصدیق کی کہ انڈیا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی‘ پاکستان نہ پہنچے۔ دونوں ممالک دہشت گردی اور سرحد پار جھڑپوں کے معاملے پر ایک سال سے زائد عرصے سے سفارتی تعطل کا شکار ہیں۔ انڈین وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے منگل کو کہا: ’یہ فیصلہ اب بھی برقرار ہے، بلکہ معاہدے کو معطل رکھا گیا ہے۔ اور جب سے وزیراعظم نریندر مودی نے یہ فیصلہ کیا ہے، ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ پانی کا ایک قطرہ بھی وہاں نہ جائے۔ وزیراعظم کی ہدایات کے تحت وزیر داخلہ امت شاہ بھی ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں اور ہم اس پر فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔‘ انڈیا اور پاکستان اس معاہدے کے فریق ہیں جو چھ دریاؤں کے پانی کے استعمال کو منظم کرتا ہے۔ ان دریاؤں کے منبع انڈیا میں واقع ہیں لیکن سندھ طاس کے مشترکہ نظام کے باعث ان کا پانی پاکستان تک پہنچتا ہے۔ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت سندھ طاس کے چھ دریاؤں کو دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا۔ تین مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کو دیے گئے جبکہ تین مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج انڈیا کے حصے میں آئے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انڈین سرزمین سے نکلنے والے اس آبی نظام کا پانی لاکھوں پاکستانیوں کے لیے زندگی کی حیثیت رکھتا ہے، جو پن بجلی کی پیداوار، پینے کے پانی اور زرعی مقاصد کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں۔ معاہدے کے مطابق انڈیا سالانہ 4 کروڑ 30 لاکھ ایکڑ فٹ پانی پاکستان جانے دینے کا پابند ہے۔ یہ پاکستان کے مجموعی سطحی آبی وسائل کا تقریباً 80 فیصد بنتا ہے، جو اس کی زراعت، شہروں اور پن بجلی کی پیداوار کے لیے نہایت اہم ہے۔ معاہدے کے تحت انڈیا کو مغربی دریاؤں کا محدود استعمال غیر صرفی مقاصد، جیسے پن بجلی کی پیداوار، کے لیے کرنے کی اجازت تھی، تاہم اسے اس انداز میں ان دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی سے روکا گیا تھا جس سے پاکستان کی پانی تک رسائی متاثر ہو۔ پاکستان نے انڈیا پر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار آبی گزرگاہوں کے بہاؤ میں تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو ’اقدامِ جنگ‘ تصور کیا جائے گا۔ انڈیا نے گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید محدود کرنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ انڈین سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ کشمیر حملے میں سرحد پار مداخلت کے شواہد ایک خصوصی سکیورٹی کابینہ اجلاس میں پیش کیے گئے، جس کے بعد یہ اقدامات کیے گئے۔ انڈیا کا ردِعمل جموں و کشمیر کے ضلع پہلگام کی وادی بیسرن میں ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا۔ یہ خطہ کئی دہائیوں سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہا ہے اور متعدد جنگوں، شورشوں اور سفارتی تنازعات کا میدان بھی رہا ہے۔ یہ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد انڈیا میں شہریوں پر ہونے والا بدترین حملہ تھا، جس نے کشمیر میں نسبتاً قائم سکون کو بھی متاثر کیا، جہاں حالیہ برسوں میں انڈیا مخالف شورش میں کمی کے باعث سیاحت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ ایک کم معروف عسکریت پسند تنظیم ’کشمیر ریزسٹنس‘ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ انڈین سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ کشمیر ریزسٹنس، جسے ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان میں قائم عسکری تنظیموں جیسے لشکرِ طیبہ اور حزب المجاہدین کا ایک محاذ ہے۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ کشمیر میں عسکریت پسندی کی حمایت کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ وہ صرف وہاں کی تحریک کو اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے۔ حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ سرحدی تنازعے کے بعد نئی دہلی نے اعلان کیا تھا کہ وہ معاہدے میں اپنی شرکت اس وقت تک معطل رکھے گا ’جب تک پاکستان قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی انداز میں سرحد پار دہشت گردی کی حمایت ترک نہیں کرتا۔‘ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے کیونکہ اس میں ایسا کوئی طریقۂ کار موجود نہیں، جو انڈیا کو یکطرفہ طور پر اس سے دستبردار ہونے کی اجازت دیتا ہو۔ سندھ طاس معاہدہ گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے اہم ترین نکات میں شامل رہا ہے اور جنگ جیسی صورتِ حال پیدا ہونے پر سب سے پہلے متاثر ہونے والے معاملات میں شمار ہوتا ہے۔ اسی ماہ کے آغاز میں پاکستان نے اس وقت انڈیا پر پانی کو ’ہتھیار‘ بنانے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا، جب نئی دہلی نے دریائے چناب کے اپنے زیرِ انتظام حصے پر دو نئے منصوبوں کا اعلان کیا۔ سندھ طاس معاہدہ انڈیا انڈین حکمران جماعت کے ایک وفاقی وزیر نے تصدیق کی کہ انڈیا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی‘ پاکستان نہ پہنچے۔ ارپن رائے جمعرات, جون 11, 2026 – 08: 15 Main image:

15 مئی 2025 کی اس تصویر میں دریائے چناب پر بنے بگلیہار ڈیم کا ایک عمومی منظر (اے ایف پی/ سجاد حسین)

ایشیا type: news related nodes: انڈیا کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ’قانونی و سیاسی جرم‘: پاکستان انڈیا نے سندھ طاس کمیشن کی بجائے سفارتی ذرائع سے سیلاب کی وارننگ دی سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے سرخ لکیر ہے: شہباز شریف دریائے چناب میں پانی کی کمی، پاکستان کی انڈیا سے وضاحت طلب SEO Title: یقینی بنا رہے ہیں کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی‘ پاکستان نہ پہنچے: انڈین وزیر copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/asia/india/india-pakistan-indus-water-treaty-modi-b2993159. html show related homepage: Show on Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments