مصنف: صادق حسینقسط: 37”حضور چائے تیار ہے۔“ مانجھی کی آواز سن کر پرویز چونکا اور پھر کھانے کے کمرے میں جا کر بے بازو کی کرسی پر بیٹھ گیا۔اس وقت نشاط باغ میں پرویز کی گل نواز سے مڈبھیڑ ہو گئی، ایک طویل مدت کے بعد اچانک ملاقات ہونے پر دونوں دوست پلٹ کر کالج کی فضا ء میں جا پہنچے”پلیزنٹ سرپرائز“ گل نواز نے گلے ملتے ہوئے کہا۔”وہاٹ اے تھرل۔“ پرویز نے یہ کہتے ہوئے گل نواز کو اپنے بازوؤں کی لپیٹ میں لے کر اسے زمین سے اٹھا لیا۔وہ کافی دیر تک چنار کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر گپ شپ کرتے رہے۔ پھر بیئر کی بوتلیں لے کر شکارے میں بیٹھ گئے، ہلکا ہلکا ابر چھایا ہوا تھا۔ ہوا میں خنکی پیدا ہو چکی تھی۔ بیئر کا سرور جمنے لگا۔ پرویز خواب و خیال کی فصیل پھاند کر پھر جیتی جاگتی دنیا میں آ گیا، جہاں شکارے کی چھت سے رنگ برنگ کے موتیوں کی جھالریں لرز رہی تھیں۔ دائیں، بائیں اور پشت پر اُجلے اُجلے کمانی دار گدے رکھے ہوئے تھے، اس کے سامنے گل نواز کا مسکراتا ہوا چہرہ تھا۔ زندگی حرکت کر رہی تھی۔ اس کا ذہن کروٹ بدل کر قرینے پر آ گیا۔ پرویز کو احساس ہوا کہ اب سے پہلے جو کچھ ہوا ماضی تھا اور اس کے متعلق سوچنا بے معنی ہے اب، اب ہے اُسے زندہ رہ کر بسر کرنا چاہئے۔ چنانچہ اس نے جی کھول کر زندگی سے بھرپور قہقہے لگائے، کم گفتاری کے ڈھرے سے ہٹ کر خوب خوب باتیں کیں، عمر خیام کی رباعیاں گنگنائیں، گل نواز کے تازہ رومان کا قصہ مزے لے لے کر سنا، گل و نواز نے بتایا کہ اس کی رضیہ سے پہلی ملاقات سری نگر سے آٹھ میل دور پان پور میں زعفران کے کھیتوں میں ہوئی تھی۔ جب چاندنی رات میں زعفران کے ننھے ننھے پودوں پر زرد زرد پھول دعوت نظارہ دے رہے تھے۔ فضا ء میں بھینی بھینی خوشبو مچل رہی تھی اور جب گل نواز نے کہا ”میں رضیہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔“ گل نواز یہ فقرہ اب بہت پرانا ہو چکا ہے۔ تمہیں اپنی رضیہ کو کھو کر بھی جینا پڑے گا، تم جیسے ہزاروں اپنی رضیہ کو کھو کر جی رہے ہیں اور پھر جب انہیں دوسری رضیہ مل جاتی ہے تو وہ پہلی رضیہ کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ رضیہ اپنے پہلے گل نواز کو کبھی نہ بھول سکے گی۔ زعفران کے ابھرتے اور ڈوبتے ہوئے کھیتوں کی مہک اس کے دماغ میں ہمیشہ محفوظ رہے گی، وہ مرد کی فطرت ہے یہ عورت کی۔“”اماں چھوڑو اس فلسفے کو ذرا آنکھیں تو سینک لو۔“ گل نواز نے سامنے اشارہ کرتے ہوئے کہا، مقابل سے آتے ہوئے شکارے میں ایک فربہ عورت گدوں سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ وہ نوجوان کو اپنی طرف متوجہ پا کر ایک شوخ مسکراہٹ اس کے موٹے موٹے ہونٹوں پر کھیل گئی۔”وہاٹ اے سپورٹ۔“ گل نواز نے فقرہ کسا اور پھر نئی بیئر کی بوتل کا کاگ اڑا کر پانی میں پھینک دیا، گلاس ترچھا کر کے بوتل کا منہ اس میں رکھ دیا۔ جھاگ اٹھنے لگے۔ مست مست بو ہوا میں پھیل گئی، پرویز دل میں سوچنے لگا ”ششی جیتے جی مر گئی۔ زینت مر مر کر زندہ رہ رہی ہے اور گل نواز کی رضیہ مر کر زندہ رہے گی اور زندہ رہ کر مرتی رہے گی۔“(جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ موسیقارمورچے جما کر بیٹھ جاتے، فلم دیکھتے جاتے تھے اور منظر کی مانگ کے مطابق مختلف دھنیں بجاتے رہتے جس سے کچھ رونق میلا لگا رہتا
ہلکا ہلکا ابر چھایا ہوا تھا، ہوا میں خنکی پیدا ہو چکی تھی، خواب و خیال کی فصیل پھاند کر پھر جیتی جاگتی دنیا میں آ گیا، رنگ برنگ موتیوں کی جھالریں لرز رہی تھیں
RELATED ARTICLES



