اگر آپ مچھلی کھانے کے شوقین ہیں تو یہ صرف ذائقے کے لیے ہی نہیں بلکہ کئی اہم غذائی اجزا حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ تاہم مچھلی کی تمام اقسام میں غذائیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض مچھلیوں میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، پروٹین، وٹامن ڈی اور وٹامن بی 12 زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں جو جسم کی بہترین نشوونما اور تندرستی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ اس لیے انہیں متوازن غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ مچھلی کا استعمال دل کی صحت کے لیے بہت مفید مانا جاتا ہے کیونکہ اس میں موجود اومیگا تھری جسم میں ٹرائگلیسرائڈز نامی چربی کو کم کرنے اور بلڈ پریشر کو منظم رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ تاہم صرف مچھلی کھانے کو ہائی بلڈ پریشر کا علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر کسی شخص کو بلڈ پریشر کا مسئلہ ہے تو اسے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق دوا اور دیگر احتیاطیں جاری رکھنی چاہئیں۔ وزن کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے مچھلی کو وزن کم کرنے والی کوئی جادوئی غذا نہیں کہا جا سکتا، لیکن اس میں موجود پروٹین وزن کو بہتر انداز میں سنبھالنے والی خوراک کا حصہ بن سکتا ہے۔ پروٹین کھانے کے بعد پیٹ زیادہ دیر تک بھرا ہوا محسوس ہوسکتا ہے، جس سے بار بار کھانے کی خواہش کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اگر مچھلی کو سبزیوں اور دیگر متوازن غذاؤں کے ساتھ مناسب مقدار میں کھایا جائے تو یہ صحت مند غذا کا حصہ بن سکتی ہے۔ وٹامن ڈی اور بی 12 بھی ملتے ہیں مچھلی کے فوائد صرف اومیگا تھری تک محدود نہیں۔ کچھ اقسام میں وٹامن ڈی اور وٹامن بی 12 بھی اچھی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لیے اہم ہے جبکہ وٹامن بی 12 خون کے خلیات بنانے اور اعصابی نظام کے درست کام میں مدد دیتا ہے۔ سالمن، سارڈین اور میکرل بہتر انتخاب اومیگا تھری حاصل کرنے کے لیے سالمن کو غذائیت سے بھرپور مچھلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں اومیگا تھری کے ساتھ ای پی اے اور ڈی ایچ اے بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ پروٹین بھی اچھی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ سارڈین سائز میں چھوٹی مچھلی ہے لیکن غذائیت کے اعتبار سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس میں اومیگا تھری کے ساتھ کیلشیم بھی پایا جاتا ہے اور بڑی مچھلیوں کے مقابلے میں اس میں پارے کی مقدار کم ہونے کا امکان بتایا جاتا ہے۔ میکرل بھی اومیگا تھری، ای پی اے اور ڈی ایچ اے کا اچھا ذریعہ ہے۔ اس میں موجود ڈی ایچ اے دماغی صحت کے لیے بھی اہم غذائی جزو سمجھا جاتا ہے۔ مچھلی پکانے کا طریقہ بھی اہم ہے مچھلی مچھلی کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لیے اسے کھانے کے ساتھ اسے پکانے کا طریقہ بھی صحت کے لیے اہم ہے۔ اگر مچھلی کو بہت زیادہ تیل میں تلا جائے تو کھانے میں غیر ضروری چربی اور کیلوریز بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے اسے کم تیل میں پکانا، بھاپ میں تیار کرنا یا ہلکے انداز میں پکانا بہتر انتخاب ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی خریدتے اور پکاتے وقت صفائی اور اچھی طرح پکانے کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ کیا روزانہ مچھلی کھانا ضروری ہے؟ صحت مند رہنے کے لیے ہر روز مچھلی کھانا ضروری نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ خوراک میں مختلف اقسام کی صحت مند غذائیں شامل کی جائیں۔ مچھلی متوازن غذا کا ایک حصہ ہوسکتی ہے، لیکن کوئی ایک غذا تیزی سے وزن کم کرنے یا کسی بیماری کا علاج کرنے کی ضمانت نہیں دیتی۔ اچھی غذا کے ساتھ روزانہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور صحت مند معمولات بھی مجموعی صحت کے لیے اہم ہیں۔
ہر قسم ایک جیسی نہیں، صحت کے لیے کون سی مچھلی بہتر ہے؟
RELATED ARTICLES



