مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے اے آئی پروگرامز کی بڑھتی ہوئی خودمختاری اور ان کی سیکیورٹی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گوگل کے جیمنائی اے آئی ماڈل نے سائبر سیکیورٹی کی صلاحیتوں کی جانچ کے دوران انٹرنیٹ پر موجود معلومات استعمال کرتے ہوئے تین کمپنیوں کے محفوظ سسٹمز تک رسائی حاصل کر لی۔ یہ گوگل کے کسی اے آئی نظام کی جانب سے خودمختار طور پر ایسی کارروائی کرنے کا پہلا معلوم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعات رواں سال مئی میں ایک سائبر سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران پیش آئے۔ یہ جانچ ”ارریگولر“، نامی ایک آزاد کمپنی نے کی تھی، جو اے آئی کے نظاموں کی سائبر سکیورٹی صلاحیتوں کا جائزہ لیتی ہے۔ گوگل کی سکیورٹی انجینئرنگ کی نائب صدر ہیدر ایڈکنز کے مطابق، معمول کی جانچ کے دوران جیمنائی نے انٹرنیٹ پر موجود عوامی معلومات تلاش کیں اور ایسی لاگ اِن معلومات کا اندازہ لگایا جن کی مدد سے وہ تین ویب سائٹس تک پہنچ گیا۔ اے آئی ماڈل نے یہ سمجھا کہ یہ ویب سائٹس اس کے ٹیسٹ کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔ ایک معاملے میں جیمنائی نے مختلف پاس ورڈز کا اندازہ لگاتے ہوئے بالآخر ایک محفوظ نظام تک رسائی حاصل کی۔ دیگر دو واقعات میں ماڈل کو ایک عوامی آن لائن کوڈ ریپوزٹری میں لاگ اِن معلومات ملیں، جنہیں استعمال کرکے وہ محفوظ سسٹمز تک پہنچ گیا۔ گوگل کا کہنا ہے کہ تینوں واقعات میں جیمنائی نے خود ہی ہیکنگ کی کارروائی روک دی۔ کمپنی کے مطابق، متعلقہ تینوں اداروں کو واقعے سے آگاہ کردیا گیا اور ٹیسٹ کرنے والی کمپنی کے ساتھ مل کر اس کے طریقہ کار میں ضروری تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ ہیدر ایڈکنز نے کہا کہ یہ واقعات اس بات کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں کہ ’زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز‘ کو ذمہ دارانہ انداز میں کام کرنے کی تربیت دی جائے، خصوصاً اس وقت جب انہیں انٹرنیٹ اور کمپیوٹر سسٹمز تک زیادہ خودمختار رسائی حاصل ہو رہی ہے۔ ’ارریگولر‘ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ مسئلہ وہی نوعیت رکھتا ہے جو دیگر اے آئی کمپنیوں کے ٹیسٹ کے دوران بھی سامنے آیا تھا۔ ترجمان کے مطابق متعلقہ اے آئی لیبارٹریز کو جولائی کے آخر میں اس مسئلے سے آگاہ کردیا گیا تھا اور کمپنی کی جانب سے معلوم خامیوں کو چند ہفتوں کے اندر دور کردیا گیا۔ اس سے پہلے بھی میٹا، اینتھروپک اور اوپن اے آئی کے اے آئی ماڈلز کی سائبر سیکیورٹی جانچ کے دوران حقیقی کمپنیوں یا اداروں کے سسٹمز تک غیر مجاز رسائی کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ میٹا نے اگست میں واضح کیا تھا کہ اس کے معاملے میں کسی حفاظتی ’’سینڈ باکس‘‘ سے فرار یا انتہائی پیچیدہ سائبر حملہ شامل نہیں تھا۔ ’ارریگولر‘ نے بھی کہا تھا کہ وہ اے آئی کی سائبر سکیورٹی جانچ کو محفوظ بنانے کے لیے بہتر طریقہ کار تیار کر رہی ہے۔ ان واقعات نے اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی خودمختاری کے ساتھ ان کے حفاظتی انتظامات پر نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ ایسے ماڈلز اب صرف سوالات کے جواب دینے تک محدود نہیں رہے بلکہ انہیں انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کرنے، ویب سائٹس استعمال کرنے اور بعض صورتوں میں کمپیوٹر سسٹمز کے ساتھ براہ راست کام کرنے کی صلاحیت بھی دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے لیے بنیادی تشویش یہ ہے کہ اگر اے آئی ماڈل کسی ٹیسٹ یا کام کے دوران دستیاب معلومات کو غیر متوقع انداز میں استعمال کرکے محفوظ نظام تک پہنچ سکتا ہے تو حقیقی دنیا میں اس کی خودمختار صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے مزید مضبوط حفاظتی اقدامات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ گوگل کے مطابق جیمنائی نے ان تینوں واقعات میں کارروائی روک دی، جبکہ متعلقہ اداروں کو بھی آگاہ کردیا گیا۔ تاہم یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اے آئی کی سائبر سکیورٹی صلاحیتوں کی جانچ کے دوران واضح حدود، محفوظ ماحول اور مؤثر نگرانی پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
گوگل جیمنائی نے بھی حفاظتی دائرے سے نکل کر تین کمپنیوں کے سسٹمز ہیک کر لیے
RELATED ARTICLES



