پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ نے بتایا ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں متعدد صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جس کے بعد صحافی فخر الرحمٰن کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جمعے کی شب افضل بٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ڈاکومنٹ شئیر کیا ہے جس میں درج تفصیلات کے مطابق سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد میں درج ایف آئی آر نمبر 61/2026 کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس مقدمے میں 10 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ تاہم اس ایف آئی آر کی تصدیق تاحال سرکاری سطح پر متعلقہ ادارے اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے نہیں کی گئی ہے۔ اس ڈاکومنٹ کے مطابق یہ مقدمہ 20 اپریل 2026 کو شام چار بجے درج کیا گیا، جبکہ تفتیش سب انسپکٹر شہروز ریاض کی مدعیت میں شروع کی گئی۔ ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جعلی، گمراہ کن اور ریاستی اداروں کے خلاف مواد پھیلایا جس کے باعث عوام میں خوف و ہراس، بے چینی اور بدامنی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان افراد میں سے صحافی فخر الرحمٰن جو آج نیوز سمیت کئی اداروں میں کام کر چکے ہیں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ میسر معلومات کے مطابق نامزد افراد میں صحافی رضوان غلزئی، صابر شاکر، معید پیرزادہ، فخر الرحمٰن شامل ہیں۔ جبکہ یوٹیوبر عادل راجہ اور حیدر رضا مہدی شامل ہیں، اسی فہرست میں پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا لیڈ جبران الیاس، سبطین رضا اور عاقل حسین نامی افراد شامل ہیں۔ متن میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کی سرگرمیاں ’ریاستی اداروں کا تمسخر اڑانے، انہیں بدنام کرنے اور عوام کو اکسانے کی منظم کوشش کا حصہ ہیں۔‘ یہ مقدمہ پیکا ایکٹ 2016 (ترمیمی ایکٹ 2025) کی دفعات 20 اور 26 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں مختلف سوشل میڈیا لنکس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن کے ذریعے مبینہ طور پر یہ مواد پھیلایا گیا۔ ایجنسی کے مطابق واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس ضمن میں فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’ہم پیکا قانون کو کالا قانون قرار دے چکے ہیں اور اسی لیے اس میں ترامیم کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اسے منسوخ کیا جائے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’این سی سی آئی اے کو صحافیوں کے خلاف اتنی مقدمات کا اتنی تیزی سے مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ادارے کو روزانہ کی بنیاد پر 200 سے زائد شکایات موصول ہو رہی ہیں۔‘ انہوں نے صحافی فخر الرحمٰن سے ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی ’کچھ دیر قبل ان سے ملاقات ہوئی ہے۔ فخر الرحمٰن نے بتایا کہ انہیں 16 اپریل کو ادارے نے بلایا تھا لیکن جب مجھے نوٹس ملا تو طلبی کا وقت گزر چکا تھا اس لیے میں حاضر نہیں ہوا تھا۔‘ افضل بٹ نے مزید بتایا کہ ’فخر کے مطابق جب دوسری مرتبہ طلب کیا گیا اس دن اسلام آباد میں ٹریفک کے متبادل روٹس کی وجہ سے وہ حاضر نہیں ہو سکا تھا۔ فخر الرحمٰن نے بتایا کہ میں نے ٹویٹ ڈیلیٹ کرکے معذرت بھی کی تھی لیکن آج گھر میں چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔‘ افضل بٹ کے مطابق صحافی فخر الرحمٰن کو آج ڈیوٹی جج کی عدالت میں پیش کیا جانا متوقع ہے۔ دوسری جانب انڈپینڈنٹ اردو نے صحافی فخر الرحمٰن کے بیٹے حسیب سے بھی رابطہ کی کوشش کی ہے۔ تاہم خبر کی اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ سائبر کرائم پاکستان صحافی پولیس اسلام آباد ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جعلی، گمراہ کن اور ریاستی اداروں کے خلاف مواد پھیلایا جس کے باعث عوام میں خوف و ہراس، بے چینی اور بدامنی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ قرۃ العین شیرازی ہفتہ, اپریل 25, 2026 – 07: 45 Main image:
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی(سکرین گریب: فخر الرحمٰن ایکس اکاؤنٹ)
پاکستان type: news related nodes: جب صحافی کرکٹ بورڈ کی رہنمائی کرتے تھے: ’کرکٹر‘ میگزین کے ایڈیٹر کی یادیں بغداد میں خاتون امریکی صحافی اغوا، ایک اغواکار گرفتار: عراقی حکام 2025 میں صحافیوں کی دو تہائی اموات کا ذمہ دار اسرائیل: سی پی جے SEO Title: گمراہ کن مہم چلانے پر صحافی فخر الرحمٰن گرفتار: انسداد سائبر کرائم ایجنسی copyright: show related homepage: Hide from Homepage



