71.1 F
Pakistan
Friday, September 18, 2026
HomeHealthگردوں کی بیماری کا مطلب ڈائیلاسس نہیں تو کیا ہے؟

گردوں کی بیماری کا مطلب ڈائیلاسس نہیں تو کیا ہے؟

گردوں کی بیماری کا نام سنتے ہی اکثر لوگوں کے ذہن میں ڈائلیسس کا خیال آتا ہے، لیکن ایسا ضروری نہیں۔ گردوں کی دائمی بیماری یعنی سی کے ڈی کا مطلب یہ نہیں کہ گردے مکمل طور پر فیل ہوچکے ہیں یا مریض کو لازماً ڈائلیسس کروانا پڑے گا۔ سی کے ڈی کئی مراحل میں ہوتی ہے۔ شروع کے مرحلے میں گردوں کو کچھ نقصان پہنچ سکتا ہے، لیکن وہ پھر بھی اپنا کام کافی حد تک کرتے رہتے ہیں۔ بیماری بڑھنے کی صورت میں گردوں کی کارکردگی مزید کم ہوسکتی ہے اور آخری مرحلے میں ڈائلیسس یا گردے کی پیوند کاری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بہت سے مریضوں کو ڈائلیسس کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اگر بیماری کا بروقت پتا چل جائے تو مناسب علاج، خوراک، ادویات، ورزش اور باقاعدہ چیک اپ کے ذریعے گردوں کی کارکردگی کو طویل عرصے تک بہتر رکھا جاسکتا ہے۔ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق امریکا میں 3 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بالغ افراد دائمی گردوں کی بیماری کا شکار ہیں، جبکہ بڑی تعداد کو اس بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔ گردوں کی بیماری خاموشی سے بھی بڑھ سکتی ہے یہ سوچنا درست نہیں کہ اگر کوئی شخص بالکل ٹھیک محسوس کررہا ہے تو اس کے گردے بھی بالکل ٹھیک ہوں گے۔ سی کے ڈی کے ابتدائی مرحلے میں اکثر کوئی واضح علامت سامنے نہیں آتی۔ اسی لیے شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے باقاعدگی سے خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کروانا اہم ہے۔ زیادہ پانی پینا ہر بیماری کا علاج نہیں ایک عام خیال ہے کہ زیادہ پانی پینے سے گردوں کی بیماری ختم ہوسکتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینا صحت کے لیے ضروری ہے، مگر صرف زیادہ پانی پینے سے گردوں کو پہنچنے والا پرانا نقصان ختم نہیں ہوتا۔ کچھ مریضوں میں، خاص طور پر بیماری زیادہ بڑھ جانے پر، پانی اور دیگر مشروبات کی مقدار بھی ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق رکھنا پڑ سکتی ہے۔ اس لیے ہر مریض کے لیے زیادہ پانی پینا ضروری نہیں۔ گردوں کی بیماری کا اثر پورے جسم پر پڑ سکتا ہے گردے صرف پیشاب بنانے کا کام نہیں کرتے بلکہ جسم میں کئی اہم چیزوں کا توازن برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ گردوں کی کارکردگی کم ہونے سے بلڈ پریشر، خون کے سرخ خلیوں اور کیلشیم، پوٹاشیم اور فاسفورس جیسے اجزا کا توازن متاثر ہوسکتا ہے۔ اس بیماری کے ساتھ دل کی بیماری اور فالج کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، اس لیے گردوں کے مریضوں کو صرف ایک خون کے ٹیسٹ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ مجموعی صحت کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ بیماری کی تشخیص کے بعد بھی علاج ممکن ہے سی کے ڈی کی تشخیص ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اب کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ بیماری کی وجہ اور مرحلے کے مطابق علاج کرکے اس کی رفتار کو سست کیا جاسکتا ہے اور پیچیدگیوں کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات استعمال کرنا، مناسب خوراک لینا، جسمانی سرگرمی برقرار رکھنا، بلڈ پریشر اور شوگر کو قابو میں رکھنا، سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنا اور باقاعدگی سے ٹیسٹ کروانا اہم ہے۔ دائمی اور اچانک گردوں کی خرابی میں فرق ماہرین کے مطابق دائمی گردوں کی بیماری اور اچانک گردوں کی خرابی ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ سی کے ڈی میں گردے طویل عرصے تک متاثر ہوتے ہیں، جبکہ ایکیوٹ کڈنی انجری یعنی اے کے آئی میں گردوں کی کارکردگی اچانک خراب ہوسکتی ہے۔ کچھ صورتوں میں اگر اے کے آئی کی وجہ بروقت معلوم کرکے علاج کیا جائے تو گردوں کی کارکردگی دوبارہ بہتر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق گردوں کی بیماری سامنے آنے کے بعد سب سے اہم بات یہ جاننا ہے کہ بیماری کی وجہ کیا ہے، اس کا مرحلہ کون سا ہے اور گردے کتنی اچھی طرح کام کررہے ہیں۔ خاص طور پر شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض باقاعدگی سے ٹیسٹ کروائیں تو گردوں کی بیماری کا جلد پتا چل سکتا ہے اور اس کی رفتار کو کم کرنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments