84.9 F
Pakistan
Sunday, June 14, 2026
HomeEntertainmentکیٹ اور میگن کے درمیان کشمکش جس سے اکثر خواتین گزرتی ہیں

کیٹ اور میگن کے درمیان کشمکش جس سے اکثر خواتین گزرتی ہیں

ہفتے کو کاٹس وولڈز میں پیٹر فلپس اور ہیریئٹ سپرلنگ کی شاہی شادی میں جب شہزادہ اور شہزادی ویلز خود گاڑی چلاتے ہوئے پہنچے تو حاضرین نے پُرجوش استقبال کیا۔ تمام نظریں کیٹ پر مرکوز تھیں جو کریم رنگ کے نفیس لباس، چوڑی کناروں والی ٹوپی اور ہلکے رنگ کی ہائی ہیلز میں ملبوس تھیں۔ وہ گاڑی سے اتریں تو ایسا محسوس ہوا جیسے ان سے کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی اور وہ شاہی ادارے کی سب سے محبوب شخصیت ہیں۔ لیکن جہاں بہت سے لوگ اس مثالی تصویر کو حقیقت مانتے ہیں، وہیں ایک نئی کتاب اس عوامی تاثر کے پیچھے موجود اصل کیٹ کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ’تقسیم کرو اور حکومت کرو: شاہی خواتین اور ان کی کشمکش‘ نامی کتاب میں مصنفہ کیتھرین میئر کا موقف ہے کہ کیٹ کے لیے پائی جانے والی عوامی پسندیدگی صرف ان کی محتاط عوامی شبیہ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی پیداوار بھی ہے جسے وہ ’وراثتی شاہی مردانہ غلبہ‘ قرار دیتی ہیں۔ اس نظام میں شاہی خواتین کو ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کیا جاتا ہے، جیسا کہ کیٹ اور میگن کے معاملے میں ہوا۔ میئر اپنی کتاب میں، جو 17 جون کو جاری ہوگی، لکھتی ہیں ’مردانہ بالادستی کا ایک حربہ یہ ہے کہ خواتین کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا جائے۔ ’گویا وہ ایک جھولے کے دو سروں پر بیٹھی ہوں، جہاں ایک کے اوپر جانے کے لیے دوسری کا گرنا ضروری ہو۔ کیٹ اور میگن کے ساتھ بھی یہی ہوا۔‘ وہ مزید کہتی ہیں ’بے عیب کیٹ کو خامیوں والی میگن کے مقابل پیش کیا جاتا ہے اور یہ صورت حال دونوں خواتین کے لیے نقصان دہ ہے، چاہے کیٹ نے اپنی عوامی شبیہ کی تشکیل میں بڑی ذہانت سے کردار ادا کیا ہو۔‘ میئر کے مطابق اس ’وراثتی شاہی مردانہ غلبے‘ کی دیگر متاثرین میں بادشاہ ہنری ہشتم کی بیویاں، ملکہ الزبتھ اول، ملکہ سکاٹ لینڈ میری، شہزادی ڈیانا اور ملکہ کیملا بھی شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر خواتین اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر کیٹ اور میگن جیسی کشمکش کا سامنا کرتی ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جو مردانہ غلبے پر قائم ہو، اکثر اسی قسم کی تقسیم کا تقاضا کرتا ہے۔ جب خواتین متحد ہوں تو وہ ایک طاقتور قوت بن جاتی ہیں لیکن تقسیم ہو جائیں تو انہیں آسانی سے کمزور کیا جا سکتا ہے۔ ’اچھی‘ اور ’بری‘ عورت کی یہ تقسیم صرف شاہی خاندانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ گھریلو تعلقات، دفاتر، کلاس رومز اور دوستیوں تک سرایت کر جاتی ہے۔ اگرچہ کیٹ اور میگن کے درمیان حقیقی اختلافات، دل آزاری اور خاندانی دوریاں موجود رہی ہیں لیکن ممکن ہے وہ کبھی کبھار پیچھے مڑ کر اس بیانیے کو دیکھتی ہوں جو ان پر مسلط کر دیا گیا۔ 15 جون، 2024 کو شہزادی کیٹ مڈلٹن وسطی لندن میں ’ٹروپنگ دی کلر‘ تقریب میں شرکت کے لیے آتے ہوئے (اے ایف پی) جب میگن کی منگنی کا اعلان ہوا تو 2017 سے 2018 کے وسط تک انہیں اور کیٹ کو ایک مثالی جوڑی کے طور پر پیش کیا گیا لیکن جلد ہی ان کی شخصیات سے لے کر لباس تک ہر چیز موازنے کا موضوع بن گئی۔ ایسا لگتا تھا کہ دونوں کے لیے بیک وقت کامیاب ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔ ایک کے ابھرنے کا مطلب دوسری کا پیچھے رہ جانا تھا۔ اس قسم کی اچھائی اور برے کی تقسیم ہماری عام زندگیوں میں بھی سرایت کر جاتی ہے؛ یہ زہریلے خاندانی تعلقات، کام کی جگہوں، کلاس رومز – اور ہماری دوستیوں تک پھیل جاتا ہے۔ دو باصلاحیت خواتین کے لیے بیک وقت کامیابی کی گنجائش کم سمجھی جاتی ہے اور طاقت کے بدلتے توازن کے ساتھ ایک کی ترقی دوسری کی قیمت پر ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وقت کی طرح ایک پرانی کہانی ہے۔ شہزادی مارگریٹ نے اپنی بہن ملکہ الزبتھ دوم کے ساتھ تعلق کے بارے میں ایک مرتبہ کہا تھا ’جب دو بہنیں ہوں اور ان میں سے ایک ملکہ ہو، جو عزت اور ہر اچھی چیز کی علامت ہو تو دوسری لازماً تمام تخلیقی بدگمانیوں اور شرارتوں کا مرکز بن جاتی ہے، یعنی بری بہن۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) 1980 کے اواخر اور 1990 کے ابتدا میں اخبارات اکثر شہزادی ڈیانا اور سارہ فرگوسن کو ایک دوسرے کے مقابل پیش کرتے تھے۔ ڈیانا کو ’مقدس‘ اور سارہ کو ’گناہ گار‘ قرار دیا جاتا تھا، یہاں تک کہ ڈیانا نے سب کچھ بدل دیا اور اپنی غیر متوقع اور غلط حرکتوں کے ساتھ ایک ولن بن گئیں، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہزادہ ہیری نے اپنی یادداشتوں ’سپیئر‘ میں لکھا کہ کیٹ اس بات پر پریشان رہتی تھیں کہ میڈیا انہیں نئی آنے والی میگن کے ساتھ مسلسل موازنہ اور مقابلے میں دھکیل رہا تھا۔ تاہم زیادہ نقصان اکثر (شاہی خاندان) کے باہر سے آنے والی میگن کو اٹھانا پڑا۔ انہیں ’ڈچس ڈفیکلٹ‘ مشکل مزاج، ناقابل اعتماد اور ذاتی مفادات کے لیے سرگرم خاتون کے طور پر پیش کیا گیا – جو کچھ نہیں تھیں۔ اس بیانیے کے ذریعے کیٹ کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔ میگن نے اوپرا کو ایک انٹرویو میں کہا تھا ’لوگ ایک ہیرو اور ایک ولن کی کہانی چاہتے ہیں۔ جو کچھ میں نے دیکھا وہ اس تقسیم کا تصور ہے جہاں اگر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو آپ کو اسے نفرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ’اور اگر تم اس سے محبت کرتے ہو، تو تمہیں مجھ سے نفرت کرنے کی ضرورت نہیں۔‘ ان کے کردار اب پتھر پر لکھی لکیر بن گئے ہیں، ایک اچھی اور ایک بری بھابھی۔ شروع سے ہی حریف کے طور پر پیش کیے گئے۔ ہماری کہانی طے کر دی گئی تھی: ہم ایک تکلیف دہ مقابلہ جاتی تعلق میں تھے جو اپنے اتار چڑھاؤ میں ایک سوپ اوپیرا کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ یہ سب ہمارے بچپن میں شروع ہوا، جب میرے والد نے ہمیں کنٹرول کرنے کے لیے تقسیم کرنے والے حربے استعمال کیے اور پھر ہم ان کی محبت اور پسندیدگی کے لیے مقابلہ کرنے لگے۔ پانچ سوتیلے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کے ناطے میں بہترین بچے کی پسندیدہ پوزیشن میں تھا، لیکن جیسا کہ کیٹ جانتی ہے، یہ ہمیشہ بہترین کارڈ نہیں ہوتا۔ اس نے میرے کندھوں پر ذمہ داری کا بھاری بوجھ ڈال دیا اور باقی خاندان میں ناراضگی پیدا کی۔ میگن، ڈچس آف سسیکس اور پرنس ہیری، ڈیوک آف سسیکس، نیو یارک ہلٹن میں چھ دسمبر، 2022 کو رابرٹ ایف کینیڈی ہیومن رائٹس ریپل آف ہوپ گالا میں شرکت کر رہے ہیں (اے ایف پی) ان کی بہن کو اس کے برعکس باغی اور اصول توڑنے والی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ کون زیادہ ہوشیار یا زیادہ پرکشش تھا؟ بچپن میں، میں ہمیشہ 1962 کی ہارر ڈراما ’واٹ ہیپنڈ ٹو بیبی جین؟‘ دیکھنے کی طرف بہت مائل محسوس ہوتی تھی۔ دو گوشہ نشین بہنوں کے بارے میں جو ایک خستہ حال ہالی وڈ کے محل میں رہتی ہیں – جہاں ایک کو اذیت دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اس تعلق سے آسانی سے جڑتی ہوں جہاں دو خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ بنا کر رکھیں۔ یہی جھولا دوستیوں اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔ کئی مرتبہ وہ خود دوسری خواتین کے ساتھ مقابلے میں الجھ گئیں اور بعد میں سمجھ سکیں کہ اس کے پیچھے اصل وجہ دوسروں کی جانب سے کی جانے والی چالاکی اور تقسیم تھی۔ خواتین کو ایک دوسرے کا حریف بنا کر رکھنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ صنفی عدم مساوات اور طاقت کے ان ڈھانچوں کو چیلنج نہیں کر پاتیں۔ ایک دوسرے پر توجہ مرکوز کر کے اور مقابلہ کر کے، ہم ان طاقت کے ڈھانچوں کو چیلنج نہیں کرتے جو ہمیں اپنی جگہ پر رکھ کر پروان چڑھتے ہیں۔ میرے خاندان میں یہ سب والد کی توجہ حاصل کرنے کے گرد گھومتا تھا لیکن دفاتر میں بھی ایسا ہوتا ہے جہاں ایک بااختیار مرد دو قابل خواتین کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔ مسلسل موازنہ خواتین کو دباؤ میں رکھتا ہے اور میرے اپنے معاملے میں اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہم میں بات چیت تک نہیں ہوتی۔ ایسے تعلقات کو ختم کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ آس پاس کے لوگوں کو بھی فریق بنا دیا جاتا ہے۔ چاہے آپ بہنیں ہوں یا نند اور بھابھی، جب ایک کو اچھا اور دوسری کو برا قرار دیا جائے تو نتیجہ اکثر خواتین کو توڑ دیتا ہے۔ شہزادہ ہیری نے اپنی یادداشت میں کہا کہ کیٹ اور میگن کے درمیان مسلسل موازنہ دراصل میڈیا اور عوام کی جانب سے ان اور شہزادہ ولیم کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ تھا۔ میرے خاندان میں بھی مجھے اور میری بہن کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرکے خاندان کے بڑے مسائل سے توجہ ہٹا دی گئی۔ لیکن میں وہ اس رویے کے چکر سے نکلنے جو میری مرضی نہیں چاہتی ہوں۔ اب وقت ہے اس سے نکلنے اور اپنے لیے سکون تلاش کرنے کا۔ اس طرز کا رویہ دوزخ کا یکطرفہ ٹکٹ ہے اور حقیقت کبھی اتنی سادہ نہیں ہوتی جتنی دکھائی دیتی ہے۔ جیسا کہ مائر کہتی ہیں، جبکہ پرنسس آف ویلز نے میگن کے ساتھ اپنے اتار چڑھاؤ والے تعلقات میں کامیابی حاصل کی ’کون جانتا ہے کہ اگر ایسی جھڑپیں نہ ہوتیں تو کیٹ عوامی محبت میں کہاں کھڑی ہوتی؟‘ برطانیہ شاہی خاندان شہزادی کیٹ میگن مارکل ’اچھی‘ اور ’بری‘ عورت کی تقسیم صرف شاہی خاندانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ گھروں، دفاتر، کلاس رومز اور دوستیوں تک سرایت کر جاتی ہے۔ شارلٹ کرپس اتوار, جون 14, 2026 – 08: 30 Main image:

،برطانیہ کی کیٹ، ڈچس آف کیمبرج اور میگن ڈچس آف سسیکس 13 جولائی 2019 کو لندن میں ویمبلڈن چیمپیئن شپ کا سنگلز فائنل دیکھ رہی ہیں (اے ایف پی)

گھر type: news related nodes: ’وہ کوئی شہزادی ڈیانا نہیں، لیکن مجھے میگن مارکل پر افسوس ہوتا ہے‘ دنیا کی سب سے زیادہ ٹرول کی جانے والی شخصیت ہوں: میگن برطانیہ: سابق شہزادہ اینڈریو گرفتار کر لیے گئے ہنسی مذاق کرتی شہزادی کیٹ ابھی مشکلات سے نہیں نکلیں SEO Title: کیٹ اور میگن کے درمیان کشمکش جس سے اکثر خواتین گزرتی ہیں copyright: IndependentEnglish Display mode: meta header middle origin url: https: //www. independent. co. uk/life-style/royal-family/kate-meghan-royal-rivals-patriarchy-b2991756. html Translator name: ہارون رشید show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments