77.6 F
Pakistan
Tuesday, June 23, 2026
HomeEntertainmentکیا کیئر سٹارمر کی سوشل میڈیا پابندی کامیاب ہو سکتی ہے؟

کیا کیئر سٹارمر کی سوشل میڈیا پابندی کامیاب ہو سکتی ہے؟

کیئر سٹارمر نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ ناقدین اور مداح دونوں ہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ سٹارمر کی نسبتاً مختصر وزارتِ عظمیٰ کے لیے ایک موزوں ’ورثہ‘ (لیگیسی) ثابت ہو گی۔ لیکن اس عملی اور نظریہ مخالف ’سٹارمرازم‘ کی اس یادگار کا نتیجہ آخر کیا نکلے گا؟ پابندی میں کیا کچھ شامل ہے؟ سوشل میڈیا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا ارادہ ایک ایسی عمومی قانون سازی کے ذریعے ’صارف سے صارف تک کے پلیٹ فارمز‘ کے پورے شعبے کا احاطہ کرنے کی بجائے مخصوص پلیٹ فارمز کے نام لینے کا ہے، جس سے نادانستہ طور پر کچھ کمیونیکیشن ایپس بھی لپیٹ میں آ سکتی ہیں جبکہ دیگر بچ جائیں۔ چنانچہ سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام، ایکس (ٹوئٹر) اور فیس بک سب کو ہدف بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا ریگولیشن کے اس پہلو میں وٹس ایپ اور سگنل کو شامل کرنے کا ’کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘ حکومت ’نقصان دہ فیچرز جیسے کہ لائیو سٹریمنگ اور 16 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ اجنبیوں کی گفتگو‘ کو بھی ختم کرنا چاہتی ہے اور فحش مواد کے استعمال کو روکنے کے لیے نئے اقدامات پر بھی مشاورت کر رہی ہے۔ یہ کیسے ہوگا؟ ہمیں اگلے مہینے مزید تفصیلات معلوم ہوں گی جب ’ٹیک سیکرٹری‘ لِز کینڈل جیسے وزرا اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آسٹریلیا کی پابندی کے ملے جلے تجربے سے سیکھیں گے اور والدین، اراکینِ پارلیمنٹ اور ٹیک کمپنیوں سے مزید رائے لیں گے۔ بنیادی زور اس بات پر ہے کہ پلیٹ فارمز کے لیے عمر کی تصدیق کا نظام قائم کرنا لازمی قرار دیا جائے، جیسے کہ بینک کی تفصیلات یا چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) کے ذریعے، جو کہ آزمودہ ٹیکنالوجی ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ آیا کوئی مجرمانہ یا دیوانی ذمہ داری صرف پلیٹ فارمز پر عائد ہوتی ہے یا اس میں متعلقہ بچے اور/یا ان کے والدین بھی شریک ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں، کیا کسی بچے یا والدین کو سزا دی جا سکتی ہے، پابندی لگائی جا سکتی ہے یا ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بن سکتا ہے اگر وہ کسی ذمہ دار پلیٹ فارم کے قانونی طور پر نافذ کردہ کنٹرولز سے جان بوجھ کر بچنے کی کوشش کریں؟ View this post on Instagram A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) کیا یہ قانون کام کرے گا؟ فطری بات ہے کہ ذہین بچے کسی بھی قانون، سکول کے ضابطے یا پابندی کا توڑ تلاش کر ہی لیں گے، جیسا کہ وہ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر سکول کی سائیکل شیڈز کے پیچھے سگریٹ نوشی کرنا یا کم عمری میں موٹر سائیکل چلانا روایتی آزمائشی مراحل رہے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) دوسری طرف، قانون تو قانون ہوتا ہے اور سٹارمر کا کہنا ہے کہ یہ معاشرے کے لیے ایک معیار مقرر کرتا ہے کہ کیا قابلِ قبول ہے اور کیا نہیں، جیسے کہ گندگی پھیلانے کے قوانین یا بارز میں کم عمر نوجوانوں کو مشروبات فراہم کرنا۔ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ ٹیک کمپنیوں پر سختی سے عمل درآمد کرانے اور ان پر مناسب بھاری جرمانے اور دیگر سزائیں عائد کرنے سے اس کا نفاذ آسان ہو جائے گا، لیکن اگر بچوں کے یوٹیوب وغیرہ پر چوری چھپے داخل ہونے پر کوئی خاص نقصان یا سزا نہ ہوئی، تو یہ قانون جلد ہی ایک بے جان کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جائے گا۔ کیا ٹیک کمپنیاں اس پر عمل کریں گی؟ کچھ کمپنیاں مزاحمت کر سکتی ہیں اور چونکہ وہ زیادہ تر امریکی ہیں، اس لیے انہیں وائٹ ہاؤس کے ساتھ ساتھ کھرب پتی ایلون مسک کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔ جب مارچ میں اصل مشاورت شروع کی گئی تھی، تو ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ مکمل پابندی اس کا حل نہیں ہے (جیسا کہ والدین کے کچھ گروپس کا بھی ماننا ہے)۔ ٹیک کمپنیاں بھاری خطرات کی وجہ سے برطانیہ سے مکمل طور پر دستبردار ہو سکتی ہیں اور برطانیہ میں اپنی سرمایہ کاری کم کر سکتی ہیں، جس سے برطانیہ کو ’اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی سپر پاور‘ بنانے کے عزائم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کچھ، ممکنہ طور پر مسک، صارفین کو قانون کو نظرانداز کرنے کی ترغیب دے کر جوابی کارروائی کر سکتے ہیں، مثال کے طور پر اپنے سٹار لنک سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے، جس کی نگرانی کرنا اور بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ کیا یہ ایک موزوں’سٹارمر لیگسی‘ ہے؟ جی ہاں، طنزیہ انداز میں دیکھیں تو یہ ایک اور یو ٹرن ہے، جو مہینوں کی تکلیف دہ اور بے نتیجہ مشاورت کے بعد پیدا ہوا، مبہم طور پر عوامی پسند کا حامل ہے اور اتنا سست رفتار ہے کہ اگلے سال جب تک یہ نافذ العمل ہوگا، وہ جا چکے ہوں گے اور ان کے جانشین کو اسے منسوخ کرنے کی کوئی وجہ مل سکتی ہے۔ لیکن غیر طنزیہ طور پر بھی ’جی ہاں‘، اگر یہ اپنے بیان کردہ مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ ’مواقع کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور ہر بچے کو خوش و خرم اور بھرپور زندگی کے لیے تیار کیا جائے۔‘ سٹارمر شکر گزار والدین کا شکریہ قبول کرنے کے لیے شاید اس وقت تک موجود بھی رہیں۔ اس دوران وہ سوشل میڈیا پر اپنی قسمت کے بارے میں ڈوم سکرولنگ (منفی خبریں پڑھنا) جاری رکھ سکتے ہیں۔ برطانیہ سوشل میڈٰیا پابندی کیئر سٹارمر برطانیہ میں سوشل میڈیا پر مجوزہ پابندی نے کئی سوالات کھڑے کرتی ہے، بشمول یہ کہ کیا یہ اب بھی وزیراعظم اور اس سے بھی اہم بات، ملک کے بچوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ شان اوگریڈی منگل, جون 23, 2026 – 06: 45 Main image:

13 جون 2024 کو برطانیہ کی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے رہنما کیئر سٹارمر مانچسٹر میں لیبر پارٹی کے انتخابی منشور کے اجرا کے موقع پر سٹیج پر تقریر کر رہے ہیں (اے ایف پی)

نقطۂ نظر type: news related nodes: برطانیہ کی بچوں پر آسٹریلیا سے زیادہ سخت سوشل میڈیا پابندیاں برطانیہ کے اگلے وزیراعظم کیئر سٹارمر کون ہیں؟ سوشل میڈیا تمباکو نوشی سے کہیں زیادہ خطرناک؟ نوجوانوں کے سوشل میڈیا پر پابندی ضروری SEO Title: کیا کیئر سٹارمر کی سوشل میڈیا پابندی کامیاب ہو سکتی ہے؟ copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/news/uk/politics/politics-explained/starmer-social-media-ban-under-16s-musk-b2996044. html? loginSuccessful=true show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments