پاکستان میں فری لانسنگ اور آئی ٹی ایکسپورٹس تیزی سے معیشت کا اہم حصہ بن رہی ہیں اور پاکستانی نوجوان دنیا میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ فری لانسرز کی برآمدی آمدن گذشتہ نو ماہ میں 850 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ سالانہ 30 سے 40 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ آئی ٹی ایکسپورٹس اور فری لانسنگ اب مجموعی طور پر ہر سال پانچ ارب ڈالرلا رہے ہیں۔ اس سال پہلی مرتبہ پاکستان کے فری لانسرز ملک کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد لائیں گے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مستقبل میں فری لانسنگ اور آئی ٹی پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں؟ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں بجلی کی قیمت ایشیا کے کسی بھی ملک کی نسبت زیادہ ہے۔ ایسے حالات میں مینوفیکچرنگ کی بجائے آئی ٹی اور فری لانسنگ کا شعبہ ایسا ہے جس میں کم بجلی کے استعمال سے برآمدات میں تیزی سے اضافہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے کیوں کہ ملک میں وسائل کی کمی ہو سکتی ہے لیکن ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ اسی ڈیجیٹل دنیا میں پاکستان کے 26 سالہ صالح آصف کی کامیابی نے نوجوانوں کے لیے نئی مثال قائم کی ہے، جن کے اے آئی پر مبنی کوڈنگ پلیٹ فارم ’کرسر‘ کو ایلون مسک 60 ارب ڈالرز میں خریدنے کو تیار ہیں۔ یہ رقم پاکستان کے ڈالرز ذخائر سے پانچ گنا زیادہ ہے اور صالح آصف صرف 26 سال کی عمر میں پاکستان کے چوتھے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔ ان سے پہلے پاکستانی نژاد ریحان جلیل کے اے آئی گورننس ٹولز ’ویم‘ کو ایک ارب 70 کروڑ ڈالرز میں خریدا گیا تھا۔ پاکستان سے جنم لینے والے یا پاکستانی ٹیلنٹ سے جڑے سٹارٹ ایپس میں تقریباً 10 سے 20 ایسے نمایاں نام ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر کسی نہ کسی شکل میں پہچان حاصل کی ہے۔ پاکستانی سٹارٹ اپ ’کریم‘ کو ’اوبر‘ نے 3. 1 ارب ڈالر میں خریدا۔ ’دراز‘ نے پاکستان سے آغاز کیا اور پھر اسے چین کی بڑی کمپنی علی بابا نے خریدا۔ اسی طرح ائیر لفٹ، بائکیا، ساداپے، ٹرک اٹ ان، بازار ٹیکنالوجیز جیسے پلیٹ فارمز نے بی ٹو بی ای کامرس اور لاجسٹکس کے شعبے میں بین الاقوامی فنڈنگ حاصل کر کے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا سٹارٹ اپ نظام اب محض ابتدائی مرحلے میں نہیں رہا۔ آئی ٹی اور فری لانسنگ روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ یہ شعبہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد دے رہا ہے کیونکہ یہ براہِ راست ڈالر میں آمدن پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، تقریباً 60 سے 64 فیصد افراد کی عمر 30 سال سے کم ہے اور یہی ڈیموگرافک فائدہ اس شعبے کی ترقی کو مزید رفتار دے سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ کئی مشکلات بھی موجود ہیں۔ فری لانسرز کو غیر مستحکم انٹرنیٹ، بجلی کے مسائل اور ادائیگیوں کے پیچیدہ نظام کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ واضح پالیسیوں اور سہولتوں کی کمی بھی اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ آئی ٹی اور فری لانسنگ ملکی معیشت میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پالیسی میں نرمی لائے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان سالانہ تقریباً پانچ ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کر رہا ہے جبکہ انڈسٹری ماہرین کے مطابق اصل رقم تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ آئی ٹی کمپنیاں صرف اتنے ڈالرز پاکستان لا رہی ہیں جتنی ان کو ضرورت ہے۔ باقی ڈالرز وہ بیرون ممالک میں رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ اگر کوئی انٹرنیشنل ادائیگی کرنی ہو یا کوئی سرمایہ کاری کرنی ہو تو پاکستان سے ڈالرز بیرون ملک منتقل کرنے میں کافی مشکلات آتی ہیں۔ سٹیک ہولڈرز نے کئی مرتبہ سٹیٹ بینک سے درخواست کی ہے کہ جو رقم آئی ٹی ایکسپورٹ کی مد میں آئے، اتنی رقم کو بغیر کسی رکاوٹ کے بیرون ملک بھیجنے کی اجازت دی جائے۔ پہلے تو سٹیٹ بینک بالکل اجازت نہیں دے رہا تھا، اب 50 فیصد کی اجازت دی گئی ہے۔ اگر 100 فیصد کی اجازت مل جائے تو آئی ٹی ایکسپورٹس کی مد میں دوگنا ڈالرز پاکستان آ سکتے ہیں۔ پاکستان سے سٹارٹ اپ بیچنے پر تقریباً 29 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس لاگو ہو جاتا ہے۔ اس لیے سٹارٹ اپس بیرون ملک کمپنی کھول کر خرید و فروخت کر لیتے ہیں اور وہ ڈالر بھی پاکستان نہیں آپاتے۔ آئی ٹی پر کیپیٹل گین ٹیکس کو ختم کرنے سے ملکی معاشی ترقی میں مدد مل سکتی ہے۔ آئی ٹی ماہرین کی تنخواہوں پر ٹیکس بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ماہانہ پانچ لاکھ روپے تنخواہ لینے پر ٹیکس تقریباً 90 ہزار روپے ہے اور پانچ لاکھ کی فری لانسنگ پر ٹیکس صرف 15 ہزار روپے ہے۔ اس فرق کو ختم کیے جانے کی ضرورت ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) دنیا بھر میں آئی ٹی سروسز کی بڑی خریداری سرکار کرتی ہے لیکن پاکستان میں سرکار نے آئی ٹی سافٹ ویئر کے لیے سخت اصول بنا رکھے ہیں جن کی وجہ سے مقامی ڈویلپرز کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ انٹرنیشنل سٹارٹ ایپس خریدنے میں بھی سرکار نے بہت مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔ ایران امریکہ کشیدگی میں دبئی متاثر ہوا ہے۔ پاکستان آئی ٹی اور فری لانسرز کے لیے ایمنسٹی سکیم متعارف کروا سکتا ہے۔ ماضی میں جب دبئی نے نو فیصد ٹیکس لگایا تھا تو آئی ٹی کمپنیاں پرتگال اور یورپ منتقل ہوئی تھیں۔ پاکستان نے وہ موقع ضائع کیا، اب نیا موقع ملا ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ ایسا راستہ ہے جو پاکستان کو قرضوں کے چکر سے نکال سکتا ہے۔ آئی ٹی میں بہتری سے صرف آئی ٹی ایکسپورٹس نہیں بڑھتیں بلکہ اے آئی سے ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدی صنعتوں کی کارکردگی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر بہتر پالیسیوں سے برین ڈرین روک لیا جائے تو ملکی معاشی ترقی کی سمت درست کی جا سکتی ہے۔ یہ وقت فیصلہ کرنے کا ہے، یا تو نوجوانوں کو اکیلا چھوڑ دیں، یا پھر ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ کیونکہ پاکستان کا مستقبل کسی فیکٹری میں نہیں، کسی بندرگاہ میں نہیں، بلکہ ایک نوجوان کے ہاتھ میں موجود لیپ ٹاپ میں چھپا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ فری لانسنگ فری لانسر آئی ٹی انٹرنیٹ پاکستانی فری لانسرز کی آمدن ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کو ہے لیکن غیر مستحکم انٹرنیٹ اور ٹیکسوں کی بھرمار اس ترقی کی راہ میں دیوار ہیں۔ میاں عمران احمد ہفتہ, اپریل 25, 2026 – 06: 30 Main image:
19 نومبر، 2015 کو کراچی میں ایک آن لائن کمپنی کے دفتر میں ملازمین کام کر رہے ہیں(اے ایف پی)
معیشت type: news related nodes: انٹرنیٹ چل رہا ہے، وی پی این کارپوریٹ، فری لانسرز کے لیے: پی ٹی اے فری لانسرز کو پاکستان میں کن مسائل کا سامنا ہے؟ فری لانسرز کے لیے ڈیجیٹل نومیڈ ویزا کیا ہے اور یہ کیسے ملتا ہے؟ آئی ٹی کی تعلیم دینے والی چوٹی کی 10 پاکستانی جامعات کون سی؟ SEO Title: کیا ڈیجیٹل معیشت پاکستان کو قرضوں سے نجات دلا سکتی ہے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



