ہمارے ہاں روزمرہ کے کھانوں میں چاول کا استعمال عام کیا جاتا ہے، لیکن جب کسی کو ہائی بلڈ پریشر (ہائی بی پی) کی شکایت ہو جاتی ہے تو اس کے ذہن میں یہ سوال ضرور آتا ہے کہ کیا بی پی کے مریض چاول کھا سکتے ہیں؟ بہت سے لوگ یہ مشورہ دیتے ہیں کہ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے چاول کھانا بالکل چھوڑ دینا چاہیے۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ سادہ چاول براہ راست ہائی بلڈ پریشر کا سبب نہیں بنتے، البتہ یہ ضروری ہے کہ انہیں درست مقدار اور مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے۔ چاول میں بنیادی طور پر کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سفید چاول بہت زیادہ مقدار میں اور باقاعدگی سے کھائے جائیں۔ خاص طور پر جب مجموعی غذا میں فائبر کم اور جسمانی سرگرمی بھی کم ہو۔ سفید چاول میں گلیسیمک انڈیکس زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے خون میں شوگر کی مقدار تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ طویل عرصے تک ضرورت سے زیادہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال انسولین کے خلاف مزاحمت اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ چاول کھانے والے ہر شخص کو ہائی بلڈ پریشر ہو جائے گا۔ کیا بی پی کے مریض چاول کھا سکتے ہیں؟ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے صرف ایک غذا کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔ روزانہ کی پوری خوراک اہم ہوتی ہے۔ اگر پلیٹ میں چاول کی مقدار بہت زیادہ ہو اور ساتھ تلی ہوئی، نمکین یا بہت زیادہ چکنائی والی غذائیں بھی ہوں تو یہ صحت کے لیے اچھا انتخاب نہیں ہوگا۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو چاول سے مکمل پرہیز کرنے کے بجائے اپنی پلیٹ میں مختلف غذاؤں کا توازن برقرار رکھنا چاہیے۔ سفید چاول کی مقدار کم رکھ کر سبزیوں، سلاد، دالوں، چنے، پھلیاں اور مناسب پروٹین کو کھانے کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق ہائی بلڈپریشر کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ سفید چاول کی بجائے بھورے (براؤن) چاول، سرخ چاول یا دیگر ہول گرین چاول استعمال کریں۔ اس طرح کے چاولوں میں فائبر، میگنیشیم اور پوٹاشیم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، کم جسمانی سرگرمی کے ساتھ سفید چاول کا کثرت سے استعمال صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ نمک کا استعمال بھی کم رکھیں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے صرف چاول کی قسم ہی اہم نہیں بلکہ کھانے میں نمک کی مقدار پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ بہت زیادہ نمک بلڈ پریشر بڑھانے میں کردار ادا کرسکتا ہے، اس لیے چاول کے ساتھ کھائے جانے والے سالن، اچار، پاپڑ اور دیگر نمکین اشیا کی مقدار بھی محدود رکھنا بہتر ہے۔ اسی طرح باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب وزن برقرار رکھنا اور مجموعی طور پر متوازن غذا بلڈ پریشر کو بہتر طریقے سے سنبھالنے میں مدد دے سکتی ہے۔ کیا سفید چاول بالکل چھوڑنے چاہئیں؟ ضروری نہیں۔ اگر کسی شخص کو ہائی بلڈ پریشر ہے تو صرف اس وجہ سے سفید چاول کو مکمل طور پر خوراک سے نکالنا لازمی نہیں۔ اصل توجہ مقدار اور پوری غذا کے توازن پر ہونی چاہیے۔ البتہ اگر کسی شخص کو بلڈ پریشر کے ساتھ ذیابیطس، وزن کا مسئلہ یا کوئی اور طبی بیماری بھی ہے تو اس کے لیے خوراک کی ضرورت مختلف ہوسکتی ہے۔ اس لیے ہائی بلڈ پریشر کے مریض اپنی مرضی سے چاول یا کسی دوسری بنیادی غذا کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے اپنے ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرکے مناسب خوراک طے کریں۔ مختصر یہ کہ چاول خود ہائی بلڈ پریشر کی واحد وجہ نہیں ہیں۔ مناسب مقدار میں چاول کھائے جاسکتے ہیں، لیکن بہتر یہی ہے کہ پلیٹ میں سبزیوں، دالوں اور دیگر صحت بخش غذاؤں کو بھی مناسب جگہ دی جائے اور نمک کا استعمال کم رکھا جائے۔



