سوئٹزرلینڈ کے عوام آج ایک تاریخی فیصلہ کرنے جا رہے ہیں کہ آیا اپنی آبادی کو 2050 تک ایک کروڑ تک محدود کیا جائے یا نہیں۔ یہ دنیا کا پہلا ملک ہو گا جو اس طرح کا فیصلہ کرے گا۔ پاکستان آبادی کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے لیکن اس قسم کا کوئی بڑا فیصلہ کرنے سے قاصر رہا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب مسلسل آبادی میں تیزی سے اضافے کو ’وجود کا مسئلہ‘ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ہفتے کو اخباری کانفرنس میں کہنا تھا کہ حکومت ایک نیا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔ حکومت نے نئے بجٹ میں مانع حمل کی ادویات پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ تاہم آبادی کو کنٹرول کرنے میں سرکاری اقدامات خاطرخواہ نتائج نہیں دے سکے۔ سوئٹزرلینڈ کی آبادی اس وقت تقریباً 91 لاکھ ہے۔ ملک کی آبادی کو 2050 تک ایک کروڑ تک محدود کرنے کی تجویز سوئس پیپلز پارٹی نے پیش کی ہے اور حالیہ سروے کے مطابق تقریباً 52 فیصد افراد اس کی حمایت کرتے ہیں۔ عوامی حمایت کی صورت میں دو بڑے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ پہلے تو سوئٹزرلینڈ کی آبادی 95 لاکھ سے تجاوز کرنے کی صورت حکومت پناہ گزینوں کی پالیسی اور فیملی ری یونین کے قوانین کو مزید سخت کر دے گی۔ اس ملک نے 2025 میں سات ہزار تارکین وطن کو سیاسی پناہ دی۔ اس کے علاوہ یہاں اس وقت دو لاکھ سے زائد تارکین وطن کسی قسم کی قانونی تحفظ کے تحت رہ رہے ہیں جن میں اکثریت یوکرین کے باشندوں کی بتائی جاتی ہے۔ یہ ہی نقل مکانی ہے جو اسے تشویش میں مبتلا کر رہی ہے۔ اس کے باوجود اگر آبادی مسلسل دو سال تک ایک کروڑ سے زیادہ رہتی ہے تو دوسرے مرحلے میں سوئٹزرلینڈ یورپی یونین کے ساتھ آزاد نقل و حرکت کا معاہدہ ختم کر دے گا۔ اس کے ذریعے یورپی یونین کے شہری سوئٹزرلینڈ میں اور اسے طرح اس کے شہری یورپی یونین میں کام، تعلیم اور رہائش حاصل کر نہیں کر سکیں گے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی مقامی انفراسٹرکچر، سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی حد کو پہنچ رہی ہے اور ساتھ ہی کرائے اور جرائم کو بڑھا رہی ہے۔ تاہم کمپنیوں اور آجروں کو خدشہ ہے کہ ’ہاں‘ کا ووٹ سوئٹزرلینڈ کی ہنر مند مزدوروں تک رسائی کو محدود کر دے گا اور اس کی سب سے بڑی برآمدی منڈی یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچائے گا۔ مارٹن وون موس، ایک کمپنی کے سی ای او کہتے ہیں ’ایک سوئس شہری کے طور پر مجھے ہمارے ملک کے مستقبل اور اس کی خوشحالی کے لیے بہت فکر مند ہے۔‘ انہوں نے کہا ان کے ہوٹل کے 115 عملے میں سے تقریباً نصف سوئٹزرلینڈ سے باہر سے آئے تھے۔ ’اگر ہم نے اپنا تمام غیر ملکی عملہ کھو دیا تو ہوٹل نہیں چلے گا۔‘ یہ فیصلہ یورپی اتحاد کو کمزور کر سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یورپ کا یہ چھوٹا خوبصورت ملک کتنا بڑا فیصلہ کرتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ آبادی ووٹ یورپ بڑھتی آبادی دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی نے سوئٹزرلینڈ کی آبادی کو 2050 تک ایک کروڑ تک محدود کرنے کی تجویز دی ہے اور تقریباً 52 فیصد لوگ اس تجویز کے حامی ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو اتوار, جون 14, 2026 – 07: 45 Main image:
24 مئی، 2016 کو سوئس ٹاؤن ایسکونا کے بازار کا منظر (اے ایف پی)
ماحولیات jw id: wqwEeMK5 type: video related nodes: ڈونرو ڈاکٹرائن، امریکہ کا نیا نوآبادیاتی منصوبہ؟ یورپ نے نوآبادیاتی نظام کے ذریعے کیسے دنیا کو محکوم بنایا؟ ایک کروڑ آبادی والے تہران سے انخلا کیسے ممکن ہے؟ بچے کی پیدائش پر چھٹیوں کا بل: بڑھتی آبادی روکنے کی کوشش؟ SEO Title: کیا سوئٹزرلینڈ اپنی آبادی محدود کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



