کیا کوئی انسان صرف ایک پھیپھڑے کے ساتھ اپنی پوری زندگی عام طریقے سے گزار سکتا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں کے ذہن میں آتا ہے کیونکہ قدرت نے ہمیں دو پھیپھڑے دیے ہیں اور یہی سوچا جاتا ہے کہ ایک کے بغیر زندگی بہت مشکل ہو جائے گی۔ لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پھیپھڑوں کا بنیادی کام جسم کے اندر آکسیجن پہنچانا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی فاضل گیسوں کو جسم سے باہر نکالنا ہوتا ہے۔ جسم میں دو پھیپھڑوں کا ہونا یقیناً بہتر ہے لیکن بہت سے ایسے معاملات دیکھے گئے ہیں جہاں ایک پھیپھڑا نکالنے کے بعد بھی انسان اپنی روزمرہ کی عام سرگرمیاں بہت آسانی کے ساتھ جاری رکھ سکتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جب کسی مریض کے جسم سے ایک پھیپھڑا نکال دیا جاتا ہے تو باقی رہ جانے والا پھیپھڑا وقت کے ساتھ ساتھ مزید پھیل جاتا ہے تاکہ جسم کی ضرورت کو پورا کر سکے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسانی جسم اس نئی حالت کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے اور آکسیجن کی کمی کو پورا کرنا سیکھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض افراد ایک پھیپھڑے کے ساتھ کام کرنے، سفر کرنے اور عام گھریلو سرگرمیاں انجام دینے کے قابل رہتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کی جسمانی صلاحیت بالکل پہلے جیسی رہتی ہے۔ ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ایک پھیپھڑے کے ساتھ سانس لینے کی صلاحیت اتنی زیادہ نہیں رہتی جتنی دو پھیپھڑوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ایسے افراد کو کو تیز چلنے، دوڑنے، سیڑھیاں چڑھنے یا زیادہ محنت والا کام کرنے کے دوران جلد سانس پھولنے یا تھکن محسوس ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔ اس لیے جسمانی سرگرمی کے دوران اپنی استطاعت کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ کچھ خطرناک اور سنگین طبی حالات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مجبورا ڈاکٹروں کو مریض کا ایک پھیپھڑا نکالنا پڑتا ہے۔ ان وجوہات میں پھیپھڑوں کا کینسر، ٹی بی، شدید فنگل انفیکشن، پھیپھڑوں کی پیدائشی بیماریاں، سگریٹ نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچنا اور کسی بڑے حادثے میں گہری چوٹ لگنا شامل ہے۔ طب کی زبان میں جسم سے ایک پھیپھڑے کو مکمل طور پر نکالنے کے اس عمل کو نیومونیکٹومی کہا جاتا ہے جو کہ ایک بڑی اور پیچیدہ سرجری ہے۔ اس آپریشن کے بعد کچھ خطرات بھی جڑے ہوتے ہیں جن میں سانس لینے میں دشواری، ضرورت سے زیادہ خون بہنا، دل کی دھڑکن کا بے قاعدہ ہو جانا، نمونیا ہونا اور خون کے جمنے جیسی پیچیدگیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ ایسے مریض کو مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں اور اس دوران ڈاکٹر مریضوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی جسمانی صلاحیتوں اور حدود کا خاص خیال رکھیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک پھیپھڑے کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن ہے، لیکن اس کا انحصار مریض کی مجموعی صحت، دوسرے پھیپھڑے کی حالت، عمر اور اس وجہ پر بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک پھیپھڑا نکالنا پڑا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ہر شخص ایک پھیپھڑے کے ساتھ بالکل اسی طرح زندگی گزارے گا جیسے دو پھیپھڑوں کے ساتھ۔ کچھ افراد اپنی زیادہ تر معمول کی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں، جبکہ کچھ کو جسمانی محنت کے دوران زیادہ احتیاط اور آرام کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ نوٹ: کسی فرد کے لیے ایک پھیپھڑے کے ساتھ زندگی، ورزش یا صحت یابی کے بارے میں حتمی فیصلہ اس کے اپنے ڈاکٹر ہی مریض کی حالت دیکھ کر کرسکتے ہیں اس لیے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور لیں۔



