75.3 F
Pakistan
Sunday, September 13, 2026
HomeLifestyleکہیں نیند میں کمی کی وجہ آپ کا جبڑا تو نہیں؟

کہیں نیند میں کمی کی وجہ آپ کا جبڑا تو نہیں؟

اگر آپ رات کو پوری نیند لینے کے باوجود صبح اٹھ کر خود کو تھکا ہوا محسوس کرتے ہیں تو اس کی وجہ صرف ٹینشن، مصروف زندگی یا کام کا بوجھ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے آپ کے چہرے اور جبڑے کی بناوٹ بھی ہو سکتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق جبڑے کا چھوٹا ہونا یا پیچھے کی طرف ہونا سوتے وقت سانس کی نالی کو تنگ کر سکتا ہے جس سے نیند بار بار خراب ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کچھ لوگوں کا نچلا جبڑا چھوٹا یا معمول سے کچھ پیچھے ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں منہ کے اندر زبان کے لیے جگہ کم ہوسکتی ہے۔ جب انسان سوتا ہے تو جسم کے پٹھے ڈھیلے ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے زبان پیچھے کی طرف جا سکتی ہے اور سانس لینے کا راستہ تنگ ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نیند کے دوران بار بار سانس لینے میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ اسے سلیپ ایپنیا کہا جاتا ہے۔ انڈیا ٹو ڈے کے مطابق ایس پی اے آر ایس ایچ اسپتال کے ماہر ڈاکٹر گنیشیکر ووپالاپتی کا کہنا ہے کہ کسی شخص کو نیند کے دوران سانس لینے میں مشکل ہو تو صرف وزن یا طرز زندگی کو ہی وجہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ چہرے اور جبڑے کی ساخت کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ سلیپ ایپنیا میں نیند کے دوران سانس کی نالی بار بار تنگ یا بند ہوجاتی ہے۔ اس وجہ سے انسان کو کئی مرتبہ مختصر وقت کے لیے جاگنا پڑ سکتا ہے، اگرچہ اسے خود اس کا احساس بھی نہ ہو۔ رات میں نیند بار بار خراب ہونے کی وجہ سے صبح اٹھنے کے بعد بھی جسم کو مکمل آرام نہیں ملتا اور انسان دن بھر تھکا ہوا رہ سکتا ہے۔ صرف خراٹے ہی علامت نہیں سلیپ ایپنیا کی سب سے عام علامت تیز خراٹے لینا ہے، لیکن ہر شخص میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔ نیند میں سانس رکنا، اچانک ہانپنا یا گھٹن محسوس ہونا بھی اس کی علامات ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ صبح اٹھتے ہی سر میں درد، دن کے وقت بہت زیادہ نیند آنا، کام پر توجہ نہ دے پانا اور معمولی باتوں پر چڑچڑا پن بھی اس مسئلے کی نشانیاں ہوسکتی ہیں۔ اگر کوئی شخص پوری نیند لینے کے باوجود مسلسل تھکاوٹ محسوس کرتا ہے تو اسے اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ جبڑے کا مسئلہ کیسے سامنے آتا ہے؟ رپورٹ کے مطابق بعض لوگوں میں نچلا جبڑا پیچھے ہونے، اوپری جبڑا تنگ ہونے یا چہرے کی ہڈیوں کی ساخت کی وجہ سے زبان کے لیے جگہ کم ہوسکتی ہے۔ نیند کے دوران جب جسم کے پٹھے ڈھیلے ہوتے ہیں تو زبان پیچھے کی طرف جاسکتی ہے اور سانس کی نالی کو تنگ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں میں جبڑے اور چہرے کی ساخت نیند کے دوران سانس لینے کے مسئلے سے جڑی ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر مریض کا معائنہ کرتے وقت جبڑے، دانتوں کی ترتیب، زبان کی جگہ اور ناک سے سانس لینے کے راستے کو دیکھ سکتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر نیند کا ٹیسٹ بھی کیا جاسکتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ سلیپ ایپنیا ہے یا نہیں۔ علاج کیسے ہوتا ہے؟ سلیپ ایپنیا کا علاج ہر شخص کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر مریض کی حالت اور مسئلے کی وجہ دیکھ کر علاج تجویز کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو سانس لینے میں مدد دینے والی سی پی اے پی مشین کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جبکہ بعض افراد کے لیے طرز زندگی میں تبدیلی یا خاص قسم کا منہ میں لگانے والا آلہ مددگار ہوسکتا ہے۔ اگر مسئلہ جبڑے کی ساخت کی وجہ سے زیادہ شدید ہو تو بعض صورتوں میں دانتوں کی ترتیب درست کرنے کے علاج یا سرجری پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج کا مقصد صرف خراٹے روکنا نہیں بلکہ نیند کے دوران سانس لینے کا عمل بہتر بنانا اور جسم کو مکمل آرام دلانا ہے۔ اگر آپ روزانہ مناسب وقت سونے کے باوجود تھکے رہتے ہیں اور ساتھ میں تیز خراٹے، صبح سر درد، دن میں زیادہ نیند یا نیند کے دوران سانس رکنے جیسی علامات بھی ہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ مسلسل تھکاوٹ کو صرف مصروف زندگی یا کمزوری سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments