70.2 F
Pakistan
Monday, September 21, 2026
HomeBusiness'کپڑے نہیں جہاز ٹھیک کرو': پی آئی اے کے نئے یونیفارم پر...

‘کپڑے نہیں جہاز ٹھیک کرو’: پی آئی اے کے نئے یونیفارم پر صارفین کی تنقید

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اپنے فضائی میزبانوں کے لیے نیا یونیفارم متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کا مقصد قومی ایئرلائن کو ایک نیا اور جدید انداز دینا ہے۔ تاہم نئے یونیفارم کی نمائش کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا رخ فیشن سے زیادہ ایئرلائن کی کارکردگی، مسافروں کی سہولیات اور انتظامی مسائل کی طرف ہے۔ پی آئی اے کے مطابق 16 ستمبر کو نئے پاکستانی ڈیزائنرز نے 2026 کے لیے فضائی عملے کی نئی وردیوں کے اپنے ڈیزائن پیش کیے۔ ایئرلائن نے اس تقریب کو پاکستانی فیشن اور فضائی سفر کے مستقبل کے درمیان ایک امتزاج قرار دیا۔ پی آئی اے کی جانب سے ایکس پر جاری کی گئی ویڈیو میں بتایا گیا کہ ڈیزائنرز نے نئی وردیوں میں فیشن، عملی ضرورت، قومی شناخت اور مقصد کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے نئی وردیوں کے بجائے ایئرلائن کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ صارفین نے طیاروں کی حالت، پروازوں کی بروقت روانگی، عملے کے رویے، کسٹمر سروس اور مجموعی سفری تجربے سے متعلق شکایات کا حوالہ دیا۔ ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ ایئرلائن کو نئی وردیوں کے بجائے اپنے نظام، طیاروں، خدمات اور ساکھ کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اسی صارف نے بتایا کہ اس کا خاندان رواں ماہ سفر کرنے والا ہے، لیکن انہوں نے پی آئی اے کے کرایوں تک کو دیکھنے پر غور نہیں کیا، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ سفر کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک اور صارف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کو نئی وردی سے زیادہ بہتر آپریشنز، جواب دہی، کسٹمر سروس اور ایسا دورانِ پرواز تجربہ درکار ہے جو مسافروں کے لیے مشکل نہ ہو۔ ان کے مطابق صرف نئے کپڑے ایئرلائن کے انتظامی مسائل حل نہیں کر سکتے۔ ایک صارف نے لکھا کہ سب سے پہلے سروس اور طیاروں کے اندرونی حصے کو بہتر بنائیں۔ عملے کی وردی کی وجہ سے ہم امارات ایئر لائن یا قطرایئر لائن سے نہیں جاتے، مقصد بہترین سروس ہے نا کہ یونیفارم۔ کچھ صارفین نے نئی وردیوں کی نمائش کو وسائل کے استعمال کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو ایسے اقدامات کے بجائے اپنی اصل خدمات بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ نئے یونیفارم ایئر لائن سروس کو بہتر نہیں بنائے گے۔ آپ کو ہوائی جہاز کے اندرونی حصے، بروقت روانگی اور آمد، اور بہتر کسٹمر سروس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا نئی وردی مسافروں کو پی آئی اے سے سفر کرنے پر آمادہ کرے گی۔ ان کے مطابق مسافر اس بات میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کہ طیارے بہتر حالت میں ہوں، پروازیں وقت پر روانہ ہوں، عملہ مناسب رویہ اختیار کرے اور دورانِ سفر صاف ستھرا اور آرام دہ ماحول فراہم کیا جائے۔ ایک صارف نے طیاروں کی سہولیات، عملے کی کسٹمر سروس اور پروازوں کی بروقت روانگی کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا، جبکہ ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ ایئرلائن کے یونیفارم کے بجائے ان شعبوں پر رقم خرچ کرنی چاہیے جہاں مسافروں کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔ نئے یونیفارم کو بعض حلقوں کی جانب سے ثقافتی حوالے سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ صارفین نے سوال کیا کہ آیا پیش کیے گئے ڈیزائن پاکستانی ثقافت کی مناسب نمائندگی کرتے ہیں یا نہیں۔ بعض نے قومی لباس کے عناصر کو شامل کرنے کی تجویز دی، جبکہ کچھ دیگر صارفین نے بین الاقوامی مسافروں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید اور عملی لباس پر زور دیا۔ ایک تبصرے میں فضائی عملے کے لباس میں عملی سہولت کو اہم قرار دیتے ہوئے پتلون، مختصر جیکٹ نما ٹاپ اور مخصوص سرپوش جیسے عناصر تجویز کیے گئے۔ تاہم یہ آراء سوشل میڈیا صارفین کی ذاتی تجاویز تھیں اور پی آئی اے کی جانب سے ان تجاویز کو اختیار کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ نیا یونیفارم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی آئی اے کئی دہائیوں سے مالی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرتی رہی ہے۔ پاکستان نے دسمبر 2025 میں ایئرلائن کی نجکاری کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز فروخت کیے تھے۔ تقریباً 135 ارب پاکستانی روپے کی کامیاب بولی عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے دی تھی۔ پی آئی اے کی نجکاری کی کوششیں 1990 کی دہائی سے جاری تھیں، لیکن مختلف حکومتوں کو کئی دہائیوں تک خریدار تلاش کرنے اور ایئرلائن کے مالی و انتظامی مسائل حل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ 75 فیصد شیئرز کی فروخت کو ایئرلائن کو سرکاری ملکیت سے نکال کر زیادہ تجارتی بنیادوں پر چلانے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔ نئے یونیفارم کا مقصد بلاشبہ پی آئی اے کی ظاہری شناخت کو جدید بنانا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تبصروں سے یہ واضح ہے کہ مسافر ایئرلائن سے اس سے کہیں زیادہ بنیادی تبدیلیوں کی توقع رکھتے ہیں۔ ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ نئے یونیفارم کے ساتھ، کیا طیاروں، پروازوں کی پابندیِ وقت، عملے کے رویے اور مسافروں کی مجموعی سہولت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ یوں پی آئی اے نے اپنے فضائی عملے کے لیے نئی شکل ضرور پیش کی ہے، لیکن مسافروں کی جانب سے اٹھایا جانے والا بڑا سوال اب بھی یہی ہے کہ ایئرلائن کی عملی خدمات میں نئی تبدیلی کب نظر آئے گی۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments