78.8 F
Pakistan
Thursday, September 3, 2026
HomeHealthکون سا آٹا بیماریوں سے بچانے کے لیے بہترین ہے؟

کون سا آٹا بیماریوں سے بچانے کے لیے بہترین ہے؟

روٹی ہمارے روزمرہ کے کھانوں کا ایک بہت اہم حصہ ہے اور ہم میں سے اکثر لوگ دن اور رات کے کھانے میں اسے لازمی کھاتے ہیں۔ لیکن ہر آٹے سے بنی روٹی صحت کے لیے ایک جیسی فائدہ مند نہیں ہوتی۔ مختلف آٹوں میں فائبر، پروٹین، کیلشیم اور کاربوہائیڈریٹس کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ہم جو آٹا استعمال کرتے ہیں وہی یہ طے کرتا ہے کہ ہم صحت مند رہیں گے یا بیمار پڑ جائیں گے۔ میدے کا آٹا ماہرین کا کہنا ہے کہ میدہ صحت کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ میدے میں کسی قسم کے ضروری غذائی اجزاء اور فائبر بالکل نہیں پائے جاتے۔ میدے سے بنی چیزیں کھانے سے جسم میں خون کی شوگر اچانک بڑھ جاتی ہے اور وزن کے ساتھ چربی بھی بڑھتی ہے، اس لیے اس سے بنی چیزوں سے حتی الامکان بچنا چاہیے۔ عام گیہوں کا آٹا ماہرین کے مطابق عام گیہوں کا آٹا میدے کے مقابلے میں کچھ بہتر ضرور ہے، لیکن پیکٹ والے صاف کیے ہوئے آٹے سے چوکر نکال دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس میں فائبر کی مقدار بہت کم ہو جاتی ہے اور کیلوریز بڑھ جاتی ہیں۔ خاص طور پر موٹاپے اور شوگر کے مریضوں کے لیے یہ اتنا اچھا انتخاب نہیں ہے۔ باجرے اور جوار کا آٹا مارین صحت کا کہنا ہے کہ باجرے اور جوار کے آٹے میں فائبر وافر مقدار میں ہوتا ہے اور یہ گلوٹین سے بھی پاک ہوتے ہیں۔ یہ آٹے خون میں شوگر کی مقدار کو قابو میں رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ سردیوں کے دنوں میں باجرے کی روٹی کھانا بہت فائدہ مند ہوتا ہے جبکہ گرمیوں کے موسم میں جوار کا استعمال ایک اچھا متبادل مانا جاتا ہے۔ بیسن یا چنے کا آٹا بیسن پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے۔ اسے کھانے سے خون میں شوگر کی سطح بہت کم بڑھتی ہے، اس لیے یہ شوگر کے مریضوں کے لیے بہترین آپشن ہے۔ بیسن کی روٹی کھانے سے انسان کا پیٹ کافی دیر تک بھرا رہتا ہے جس کی وجہ سے وزن کو قابو میں رکھنے میں بھی بڑی مدد ملتی ہے۔ راگی کا آٹا صحت کے لیے سب سے بہترین اور نمبر ایک آٹا راگی کا آٹا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ راگی کا آٹا کیلشیم سے مالا مال ہوتا ہے اور اس میں ایسے کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں جو جسم میں بہت آہستہ آہستہ گھلتے ہیں۔ یہ ہڈیوں کی مضبوطی اور شوگر کے کنٹرول دونوں کے لیے انتہائی زبردست ہے۔ راگی کو سردی اور گرمی دونوں موسموں میں آسانی سے کھایا جا سکتا ہے، اس لیے اسے اپنے روزانہ کے کھانے میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔ نوٹ: ہر شخص کی غذائی ضرورت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ذیابیطس، موٹاپے یا کسی دوسری بیماری میں مبتلا افراد کو اپنی خوراک میں بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے ماہرِ صحت سے مشورہ کرنا چاہیے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments