72.4 F
Pakistan
Saturday, October 3, 2026
HomePoliticsکام سے بچنے کے لیے بیت الخلا جانے کا بہانہ، 'ویپنائزڈ پوپنگ'...

کام سے بچنے کے لیے بیت الخلا جانے کا بہانہ، ‘ویپنائزڈ پوپنگ’ کیا ہے؟

ہر گھر میں ہی کبھی نہ کبھی ایسا ضرور ہوتا ہے جب گھر کے کام بکھرے ہوں، بچوں کا شور عروج پر ہو یا کسی بات پر بحث چل رہی ہو، اور عین اسی وقت گھر کے کسی فرد کو اچانک باتھ روم جانے کی حاجت محسوس ہو۔ بظاہر یہ ایک عام اور فطری بات لگتی ہے، لیکن اگر یہ وقفہ ضرورت سے زیادہ لمبا ہو جائے اور بندہ اس وقت تک باہر نہ آئے جب تک سارا کام ختم نہ ہو جائے، تو یہ محض اتفاق نہیں رہتا۔ انٹرنیٹ پر اب اس دلچسپ رویے کو ’ویپنائزڈ پوپنگ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کوئی طبی مسئلہ نہیں، بلکہ باتھ روم کو کاموں اور الجھنوں سے عارضی فرار کے لیے استعمال کرنے کا ایک نیا رجحان ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ پریشان ہوں، یہ جان لیں کہ ویپنائزڈ پوپنگ کا تعلق ڈائریا یا پیٹ خراب ہونے سے بالکل نہیں ہے۔ یہاں باتھ روم کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ انسان گھریلو ذمہ داریوں، مشکل گفتگو اور باہر کے شور و غل سے بچ کر ایک پرسکون پناہ گاہ میں چھپ سکے۔ میاں بیوی کے درمیان کسی معاملے پر بحث جاری ہے اور اچانک ایک فریق کہتا ہے کہ اسے واش روم جانا ہے۔ وہ اندر جاتا ہے اور چند منٹ بعد واپس آنے کے بجائے کافی دیر وہیں رہتا ہے۔ اسی طرح گھر میں کسی سے برتن دھونے، چائے بنانے یا بچوں کو سنبھالنے کے لیے کہا جائے اور وہ عین اسی وقت واش روم جانے کا اعلان کر دے، پھر ضرورت سے کہیں زیادہ وقت اندر گزارے، تو یہی صورتحال اس نئے انٹرنیٹ ٹرینڈ کی مثال بن سکتی ہے۔ اس رجحان میں اصل بات واش روم جانا نہیں بلکہ اس وقفے کا استعمال ہے۔ بعض اوقات انسان واقعی ضرورت کے باعث باتھ روم جاتا ہے، لیکن وہاں پہنچنے کے بعد موبائل فون نکال لیتا ہے۔ ایک ویڈیو دیکھنے سے بات شروع ہوتی ہے اور پھر سوشل میڈیا پر اسکرولنگ جاری رہتی ہے۔ یوں چند منٹ کا وقفہ 20 یا 30 منٹ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ صورتِحال خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب باتھ روم جانے کا وقت کسی گھریلو کام یا ناخوشگوار گفتگو کے عین درمیان ہو۔ برتن دھونے کی باری ہو، بچوں کو کھانا کھلانا ہو یا گھر کا کوئی دوسرا کام سامنے ہو، تو ’’مجھے باتھ روم جانا ہے‘‘ ایک ایسا جملہ بن سکتا ہے جس پر عموماً دوسرا شخص اعتراض نہیں کرتا۔ اس رجحان کو مصنفہ اور طلاق سے متعلق امور کی کوچ اولیویا ہاویل نے اپنی ایک تحریر میں بیان کیا۔ ان کے مطابق ایک بالکل جائز ’باتھ روم بریک‘ بعض اوقات گھر کے شور، کاموں اور ذمہ داریوں سے عارضی فرار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہاویل نے اس پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی کہ گھریلو زندگی میں خواتین، خصوصاً ماؤں، سے اکثر ہر وقت دستیاب رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق بعض خواتین کو نہانے، کھانے، سونے حتیٰ کہ باتھ روم استعمال کرنے کے دوران بھی بچوں یا گھر کے دیگر افراد کی ضروریات کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ اسی تناظر میں باتھ روم میں گزارا گیا اضافی وقت بعض لوگوں کے لیے چند لمحوں کی تنہائی حاصل کرنے کا موقع بھی بن سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ’’ویپنائزڈ پُوپِنگ‘‘ کی اصطلاح کے بعد اس موضوع پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اسے گھریلو زندگی میں ذمہ داریوں سے بچنے کی عام حکمت عملی قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے محض ایک مزاحیہ نام دیا ہے۔ بہت سے افراد کے لیے یہ کوئی باقاعدہ سماجی نظریہ نہیں بلکہ گھر گھر میں نظر آنے والی ایک عام صورتحال معلوم ہوتی ہے۔ یہ معاملہ صرف میاں بیوی تک محدود نہیں۔ والدین اور بچوں، بہن بھائیوں یا ایک ہی گھر میں رہنے والے دوسرے افراد کے درمیان بھی ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ کسی شخص کو کام کے لیے بلایا جائے اور وہ غیر معمولی طور پر طویل وقت کے لیے واش روم میں چلا جائے تو گھر کے دوسرے افراد اسے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم باتھ روم میں زیادہ وقت گزارنے کی ہر صورتحال کو جان بوجھ کر ذمہ داری سے فرار قرار دینا بھی درست نہیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں باتھ روم کو کچھ دیر سکون سے بیٹھنے اور ذہنی دباؤ کم کرنے کی جگہ کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان بھی زیر بحث ہے۔ بعض افراد کے لیے یہ گھر کے شور سے دور رہ کر چند لمحے اکیلے گزارنے کی ایک آسان جگہ بن چکا ہے۔ اسی سے جڑا ’’باتھ روم کیمپنگ‘‘ کا رجحان بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا ہے، جس میں لوگ کچھ وقت کے لیے واش روم میں بیٹھ کر موبائل استعمال کرتے، ذہنی سکون حاصل کرتے یا دوسروں سے دور رہتے ہیں۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے تو باتھ روم کو باقاعدہ آرام دہ جگہ بنانے کے لیے سجاوٹ اور دیگر اشیا کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے، جسے ’’ٹوائلٹسکیپنگ‘‘ جیسے نام دیے گئے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک عام باتھ روم بریک کب مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ کوئی شخص کتنے منٹ واش روم میں رہا، بلکہ اس بات سے ہے کہ وہ وقت کس مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ چند اضافی منٹ سکون حاصل کرنے کے لیے معمول کی بات ہو سکتی ہے، لیکن اگر کوئی شخص مسلسل گھر کے کام، بچوں کی دیکھ بھال یا مشکل گفتگو سے بچنے کے لیے باتھ روم کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرے تو اس سے گھر کے دوسرے افراد پر ذمہ داریوں کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اس معاملے کا ایک جسمانی پہلو بھی ہے۔ بیت الخلا پر ضرورت سے زیادہ دیر بیٹھے رہنے سے مقعد کے گرد دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے بواسیر جیسے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ طویل عرصے تک وہاں بیٹھنے کی عادت آنتوں کی معمول کی کارکردگی اور رفع حاجت کی عادات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے باتھ روم میں چند اضافی منٹ تنہائی یا سکون کے لیے گزارنا اور باتھ روم کو مسلسل گھریلو ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے استعمال کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کوئی شخص کتنی دیر اندر رہا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد گھر کے کام اور ذمہ داریاں کس کے حصے میں آتی ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments