71.1 F
Pakistan
Thursday, September 3, 2026
HomeEnvironmentکائنات کے چھپے راز: ڈارک میٹر کی تلاش میں سائنس دانوں کو...

کائنات کے چھپے راز: ڈارک میٹر کی تلاش میں سائنس دانوں کو بڑا سراغ مل گیا؟

امریکا کی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا میں زمین سے تقریباً ایک میل یعنی ایک اشاریہ چھ کلومیٹر نیچے کی جانے والی ایک تحقیق کے دوران سائنسدانوں کو کائنات کے سب سے پراسرار عنصر ڈارک میٹر یعنی تاریک مادے کی موجودگی کا ایک ممکنہ اشارہ ملا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ کائنات کی اس ان دیکھی حقیقت کو سمجھنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم فی الحال اسے حتمی دریافت قرار نہیں دیا گیا ہے۔ یہ اہم اعلان جاپان میں ہونے والی ایک سائنسی کانفرنس کے دوران کیا گیا اور اس سے متعلق ایک تحقیقی مقالہ معروف سائنسی جریدے فزیکل ریویو لیٹرز میں بھی جمع کرایا گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ تجربہ ساؤتھ ڈکوٹا کے بلیک ہلز علاقے میں سونے کی ایک پرانی کان میں قائم سینفورڈ انڈر گراؤنڈ ریسرچ فیسیلٹی میں کیا گیا۔ اس منصوبے کو لکس زیپلن (ایل زیڈ) کا نام دیا گیا ہے جس کا انتظام امریکی محکمہ توانائی کی لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کے پاس ہے۔ اس تجربے میں ایک بڑے برتن کے اندر دس ٹن مائع زینان کیمیاوی عنصر استعمال کیا گیا ہے۔ تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے دیکھا کہ ایک پراسرار ذرہ مائع زینان کے ایٹمی مرکزے سے ٹکرایا جس سے الٹرا وائلٹ روشنی کی ایک دھیمی چمک پیدا ہوئی اور ایٹم کا مرکزہ تھوڑا سا آگے کی طرف دھکیلا گیا۔ یہ تعامل ٹھیک اسی طرح ہوا جس کی توقع سائنسدان ویمپ نامی ایک فرض کیے گئے ذرے سے کر رہے تھے جو ڈارک میٹر کا ایک اہم امیدوار مانا جاتا ہے۔ عام مادہ جس سے ستارے، سیارے، انسان اور دیگر تمام دکھائی دینے والی اشیاء بنی ہیں، وہ کائنات کے کل مادے کا صرف پندرہ فیصد حصہ ہے۔ باقی پچاسی فیصد حصہ ڈارک میٹر پر مشتمل ہے جو نہ تو روشنی خارج کرتا ہے اور نہ ہی اسے منعکس کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ انسانوں اور دوربینوں دونوں کے لیے ناظر ہوتا ہے۔ اس کے باوجود سائنسدانوں کو اس کے وجود پر پورا یقین ہے کیونکہ یہ اپنی کشش ثقل کے ذریعے کہکشاؤں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسے ایک ایسے کائناتی گوند کی مانند سمجھا جا سکتا ہے جس نے ہماری ملکی وے جیسی کہکشاؤں کی تشکیل میں مدد کی، اور اس کے بغیر کائنات کا وجود اس شکل میں نہ ہوتا جیسا کہ آج ہے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل کے ذراتی طبیعیات دان اور اس تحقیق کے اہم مصنف سیم ایرکسن کا کہنا ہے کہ یہ ڈارک میٹر کی مشاہداتی تلاش میں پہلا اشارہ ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ چونکہ یہ ابھی صرف ایک واحد واقعہ ہے اس لیے وہ فوری طور پر ڈارک میٹر کی دریافت کا دعویٰ نہیں کر رہے اور اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اسی طرح امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس یعنی یو سی ایل اے سے تعلق رکھنے والی نجمی طبیعیات دان اور اس تحقیق کی شریک مصنفہ الوین کاماہا نے بتایا کہ ہر سیکنڈ میں ہمارے جسموں سے لاکھوں ڈارک میٹر کے ذرات گزر سکتے ہیں لیکن وہ ہمارے ایٹموں سے کوئی تعامل نہیں کرتے۔ انہوں نے زور دیا کہ حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تمام دیگر امکانات کو رد کرنا ضروری ہے۔ سائنسدان کائنات کے اس راز کو افشا کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ وہ کہکشاؤں پر اس کے کشش ثقل کے اثرات کا مطالعہ کرتے ہیں، پارٹیکل ایکسلریٹر میں ان ذرات کو بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اور زمین کے نیچے گہرائی میں ایل زیڈ جیسے تجربات کرتے ہیں تاکہ خلائی شعاعوں کی رکاوٹ سے بچ کر ڈارک میٹر کے عام مادے کے ساتھ ہونے والے انتہائی نایاب تعامل کو ریکارڈ کیا جا سکے۔ فی الحال سائنس دان اس پراسرار مشاہدے کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کیا واقعی کائناتی فزکس کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہونے جا رہا ہے یا پھر یہ کسی نئے سائنسی معمے کا پیش خیمہ ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments