78.5 F
Pakistan
Thursday, July 16, 2026
HomeCrimeڈاکٹر آکاش کا قتل: ملزمان کا گینگ کیسے بنا، لوٹے گئے پیسوں...

ڈاکٹر آکاش کا قتل: ملزمان کا گینگ کیسے بنا، لوٹے گئے پیسوں کا بٹوارا کیسے ہوا؟

کراچی کے علاقے کلفٹن میں تین تلوار کے پاس ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش کے قتل کے معاملے میں گرفتار تین ملزمان سے پولیس کی تفتیش جاری ہے اور اس دوران انتہائی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس لرزہ خیز واردات کو انجام دینے والے گینگ کا سرغنہ اسلم عرف بابا اور اس کے دیگر کارندے قائد آباد کے رہائشی ہیں، جبکہ واردات کے وقت کار میں اسلم بابا کے ہمراہ ایک لڑکی بھی سوار تھی جو اس گینگ کا حصہ ہے۔ پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے واردات کے فوراً بعد آپس میں چھینے گئے پیسوں کا بٹوارا کر لیا تھا۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے ایک ملزم کے حصے میں ایک لاکھ پچیس ہزار روپے آئے تھے، جس نے ایزی پیسہ کی دکان سے یہ تمام رقم اپنے بھائی کشور کو گاؤں بھجوا دی تھی۔ اسی طرح دوسرے گرفتار ملزم رام چند کے حصے میں ستر ہزار روپے آئے جس میں سے اس نے تیس ہزار روپے اپنے مکان مالک کو کرائے کی مد میں دیے۔ رام چند بھی قائد آباد کا رہائشی ہے اور فرمان نامی شخص کے گھر کرائے پر رہتا ہے۔ گرفتار ملزم رام چند نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ اس کی گینگ کے سرغنہ اسلم بابا سے ملاقات 2021 میں لانڈھی جیل میں ہوئی تھی، جہاں ان کی دوستی ہوئی اور انہوں نے مل کر یہ گینگ بنایا۔ پولیس کے مطابق، رام چند نے اعتراف کیا کہ ان کے گینگ نے صرف ایک مہینے کے بارہ دنوں میں بینکوں کے باہر سے تین بڑی ڈکیتیاں کیں، جن میں ایک واردات کے دوران ایک لاکھ اور دوسری میں دو لاکھ روپے چھینے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایک پولیس ٹیم اندرونِ سندھ بھی بھیجی گئی ہے۔ دوسری جانب، واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے جس میں ایک ملزم بھاگتا ہوا گاڑی کے قریب آتا ہے اور پہلے گارڈ پر فائرنگ کرتا ہے، جس کے بعد وہ کار کا دروازہ کھول کر پیسوں سے بھرا ہوا ایک بیگ اٹھا لیتا ہے۔ ملزم نے ہڑبڑاہٹ میں ایک ہی بیگ اٹھایا جبکہ دوسرا بیگ خود مقتول کے ہاتھ میں تھا، جس پر ڈاکو نے ڈاکٹر آکاش کو گولی مار دی اور موقع سے فرار ہو گیا۔ اٹھائیس سالہ غیر شادی شدہ ڈاکٹر آکاش پچھلے دو سال سے جناح اسپتال کراچی میں بطور ڈاکٹر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کی آخری رسومات گارڈن کے علاقے میں واقع شمشان گھاٹ میں ادا کی گئیں۔ اس بھیانک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مقتول ڈاکٹر آکاش کے چچا کھیم چند نے غم اور غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جس وقت یہ فائرنگ ہوئی، اس وقت گاڑی میں ڈاکٹر آکاش کے ساتھ ان کے والد اور کزن بھی موجود تھے۔ کھیم چند نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ”بینک کے باہر سب کے سامنے دن دہاڑے فائرنگ کر کے میرے معصوم بھتیجے کو قتل کر دیا گیا، ہمارا تعلق ایک کاروباری خاندان سے ہے اور ہم ملک کے نامور صنعت کار ہیں۔“ انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ”شہر میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ہمارے بچوں کو سرعام قتل کیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اگر اس طرح سڑکوں پر ہمارے پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کو مارا جائے گا تو پھر کون سا نوجوان یہاں پاکستان میں رہنا پسند کرے گا۔“

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments