دنیا میں اے آئی کے تیزی سے طاقتور ہوتے نظاموں کے بارے میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ مستقبل میں کوئی انتہائی جدید نظام انسانی نگرانی سے باہر نکل سکتا ہے۔ امریکی اے آئی تیار کرنے والی کمپنی اینتھروپک کے محققین کی جانب سے ایسے خطرات کی حالیہ نشاندہی کے بعد چین میں بھی اس معاملے پر توجہ بڑھ گئی ہے، جہاں حکام پہلے ہی ’اے آئی‘ کے بے قابو ہونے کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے قواعد اور حفاظتی اصول تیار کر رہے ہیں۔ امریکا اور چین اس وقت جدید ترین اے آئی کی تیاری اور دنیا بھر میں اس کے استعمال کو فروغ دینے والے دو بڑے ممالک ہیں۔ دونوں ملک اے آئی سے متعلق پالیسیوں، صنعت اور حفاظتی طریقہ کار پر ایک دوسرے سے اختلاف بھی رکھتے ہیں۔ توقع ہے کہ رواں ماہ کے آخر میں ہونے والی دوطرفہ بات چیت میں اے آئی کی حفاظت کا معاملہ بھی اہم موضوع ہوگا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اگرچہ امریکا اور چین کے درمیان زیادہ طاقتور اے آئی تیار کرنے کی دوڑ جاری ہے، لیکن چینی حکام کے بیانات اور وہاں بنائے گئے ضابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ اس امکان کو سنجیدگی سے لے رہا ہے کہ مستقبل کی اے آئی انسانی نگرانی سے نکل کر ایسے فیصلے یا اقدامات کر سکتی ہے جن پر انسانوں کا مؤثر کنٹرول نہ رہے۔ چینی حکام کو خاص طور پر امریکا میں تیار کیے جانے والے جدید بند ماڈلوں سے بھی خطرات نظر آتے ہیں۔ چین کے ریاستی سلامتی کے وزیر چن یی شِن نے اتوار کو ایک سرکاری ادارے میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا کہ اینتھروپک کے میتھوس اور اوپن اے آئی کے جی پی ٹی فائیو پوائنٹ فائیو سائبر جیسے جدید امریکی نظام چین کے اہم معلوماتی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اے آئی پر انسانی کنٹرول مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اینتھروپک اور اوپن اے آئی نے اس حوالے سے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ چین میں اے آئی بنانے والی بعض کمپنیوں نے ایسے ماڈل تیار کرنے پر زور دیا ہے جن کے بنیادی حصے کا جائزہ ماہرین لے سکتے ہیں، ان میں تبدیلی کر سکتے ہیں اور انہیں حفاظتی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ چینی کمپنی زیڈ اے آئی کا تیار کردہ جی ایل ایم فائیو پوائنٹ ٹو ایسا ہی ایک ماڈل ہے۔ ماڈلوں کے ذخیرے کے ایک معروف پلیٹ فارم ہگنگ فیس کے مطابق، جولائی میں اوپن اے آئی کے بعض بے قابو ہو جانے والے خودکار اے آئی نظاموں کی مداخلت کا جائزہ لینے کے لیے اس چینی ماڈل سے مدد لی گئی، کیونکہ زیادہ سخت پابندیوں والے امریکی ماڈل اس فرانزک جائزے میں اتنے کارآمد ثابت نہیں ہوئے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ماڈل جن کے بنیادی حصے عام دستیاب ہوں، اپنے ساتھ الگ نوعیت کے خطرات بھی لاتے ہیں۔ انہیں مختلف افراد یا ادارے اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل اور دوبارہ تقسیم کر سکتے ہیں، جس سے ان کے استعمال پر نگرانی کم ہو سکتی ہے۔ چین کے اپنے اے آئی نظاموں سے متعلق واقعات نے بھی اس خطرے کو نمایاں کیا ہے۔ گزشتہ ماہ چینی کمپنی مون شاٹ کے تیار کردہ کیمی تھری نے برطانیہ کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے حفاظتی ادارے کے ایک آزمائشی ماحول میں عائد پابندیوں کو عبور کر لیا۔ اس واقعے نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر اے آئی کو مخصوص کاموں یا وسائل تک رسائی سے روکنے کے لیے حفاظتی انتظامات کیے جائیں تو کیا انتہائی جدید نظام مستقبل میں ان پابندیوں سے بچ نکل سکتے ہیں۔ چین نے اے آئی کے انسانی کنٹرول سے باہر جانے کے امکان کو پہلی مرتبہ واضح طور پر ستمبر 2024 میں جاری کیے گئے اے آئی کے حفاظتی لائحہ عمل میں شامل کیا تھا۔ یہ دستاویز چین کے سائبر اسپیس انتظامی ادارے کی رہنمائی میں تیار کی گئی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ مستقبل کی اے آئی کے بارے میں یہ امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خودکار طریقے سے بیرونی وسائل حاصل کرے، اپنی نقل تیار کرے، خود آگاہی پیدا کرے اور مزید طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ ایسی صورت میں انسانوں اور اے آئی کے درمیان وسائل اور اختیار پر مقابلے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ستمبر 2025 میں چین نے اس حفاظتی لائحہ عمل کا مزید تفصیلی ورژن جاری کیا۔ اس میں خدشے کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا گیا کہ اے آئی کی ذہانت میں اچانک اور غیر متوقع طور پر بہت بڑا اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے بعد وہ وسائل حاصل کرنے، اپنی نقل تیار کرنے اور طاقت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ نئے اصولوں میں یہ بات بھی شامل کی گئی کہ اے آئی کا استعمال قابل اعتماد ہو اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انسانی کنٹرول ختم نہ ہو۔ بعد میں چینی سائبر اسپیس انتظامی ادارے کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک ماہر تشریح میں کہا گیا کہ اس اصول کا مقصد ایسے خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے جو انسانوں کی بقا اور ترقی کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اس میں اے آئی کے قابو سے باہر نکلنے کے ممکنہ منظرنامے کا بھی ذکر کیا گیا۔ یہ معاملہ اب چین کی اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر بھی زیادہ نمایاں ہو رہا ہے۔ جولائی میں شنگھائی میں عالمی اے آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے اے آئی سے پیدا ہونے والے بنیادی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دونوں طرح کے خطرات پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کو ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہنا چاہیے۔ چین کی وزارت خارجہ کے اے آئی سے متعلق امور کے ذمہ دار اعلیٰ عہدیدار سون شیاؤبو نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں بتایا کہ چین اے آئی سے متعلق وسیع تر قانون سازی پر تحقیق تیز کر رہا ہے۔ چین کے اقوام متحدہ میں نائب مستقل نمائندے سون لی نے بھی رواں ماہ حکومتوں پر زور دیا کہ فوجی شعبے میں اے آئی کے استعمال کے معاملے میں احتیاط سے کام لیا جائے، تاکہ غلط اندازوں، فوجی کشیدگی اور اے آئی پر مبنی ہتھیاروں کی دوڑ کے خطرے سے بچا جا سکے۔ چین نے اب اے آئی کے ایسے خودکار نظاموں، جنہیں ایجنٹس کہا جاتا ہے، کے لیے بھی زیادہ مخصوص حفاظتی اصول بنانا شروع کر دیے ہیں۔ یہ نظام عام چیٹ بوٹ کے مقابلے میں زیادہ خودمختاری رکھتے ہیں اور پیچیدہ کام خود انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چین کے سائبر اسپیس انتظامی ادارے نے مئی میں ایسے خودکار نظاموں کے لیے مشترکہ رہنما اصول جاری کیے۔ ان اصولوں کے تحت اے آئی تیار کرنے والوں کو ایسے نظام وضع کرنا ہوں گے جو غلط یا خطرناک رویے کو جلد شناخت کر سکیں، ضرورت پڑنے پر اس میں مداخلت کر سکیں، نقصان دہ کارروائی کو روک سکیں اور مسئلہ پیدا ہونے کے بعد نظام کو دوبارہ محفوظ حالت میں لا سکیں۔ ان رہنما اصولوں میں معلومات کو جان بوجھ کر خراب کرنے، الگورتھم میں چھیڑ چھاڑ، نظام کی کمزوریوں اور خودکار کارروائی کے دوران انسانی کنٹرول کھونے کو اہم حفاظتی خطرات قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی خودکار اے آئی نظام کے اہم فیصلوں پر حتمی اختیار انسانوں کے پاس رہنا چاہیے۔ چین نے ابھی تک اینتھروپک کی جانب سے تجویز کردہ ایسے آزاد نگرانوں کا نظام پیش نہیں کیا جو اے آئی بنانے والی کمپنیوں کے اندر موجود رہ کر ان کے نظاموں کی نگرانی کریں۔ تاہم چینی حفاظتی اصول کمپنیوں کو تیسرے فریق سے حفاظتی جائزے کرانے کی اجازت دیتے ہیں۔ ان میں بیرونی اداروں اور حفاظتی ماہرین کی جانب سے ایسے اے آئی ماڈلوں کی جانچ اور نگرانی کا تصور بھی شامل ہے جن کے بنیادی حصے عام دستیاب ہوں۔ مجموعی طور پر چین کا موجودہ طریقہ کار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہاں اے آئی کی ترقی روکنے کے بجائے اس کے ساتھ حفاظتی انتظامات کو آگے بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف چین جدید اے آئی کی تیاری میں اپنی صلاحیت بڑھا رہا ہے، تو دوسری طرف وہ اس امکان کے لیے بھی قوانین اور حفاظتی نظام تیار کر رہا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے غیر متوقع اور مشکل حالات پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم یہ سوال بدستور موجود ہے کہ انتہائی طاقتور اے آئی کے حقیقی خطرات کس حد تک قابو میں رکھے جا سکیں گے اور امریکا، چین سمیت دنیا کی بڑی طاقتیں اس مقصد کے لیے مشترکہ اصول بنانے پر کس حد تک متفق ہو پائیں گی۔
چین اے آئی کے بے قابو جِن کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا کر رہا ہے؟
RELATED ARTICLES



