جنوبی کوریا میں دو مشیلین اسٹار رکھنے والے ایک معروف ریستوران کے مالک کو چیونٹیوں سے سجی مٹھائی پیش کرنا مہنگا پڑ گیا۔ سرکاری استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ریستوران کے مالک کو ایک سال قید کی سزا دی جائے، جبکہ ریستوران چلانے والی کمپنی پر 2 کروڑ جنوبی کوریائی وون جرمانہ بھی عائد کیا جائے، یہ رقم ڈالرز میں 13 ہزار 500 اور پاکستانی روپوں میں تقریباً 37 لاکھ 80 ہزار بنتی ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب جنوبی کوریا کی وزارت خوراک و ادویات کی حفاظت کے حکام نے انٹرنیٹ پر صارفین کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر اور تبصرے دیکھے، جن میں مٹھائیوں اور دیگر کھانوں پر خشک چیونٹیاں چھڑکی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ ان پوسٹس کے بعد حکام نے تحقیقات شروع کیں۔ جنوبی کوریا کے قوانین کے مطابق اس وقت صرف 10 اقسام کے حشرات کو انسانی خوراک کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ ان میں ٹڈے، لوکسٹ، دو دھبوں والے کرکٹ اور چند دیگر اقسام شامل ہیں، تاہم چیونٹیاں اس فہرست میں شامل نہیں ہیں، اس لیے انہیں خوراک میں استعمال کرنا قانونی طور پر منظور شدہ نہیں۔ استغاثہ کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ریستوران نے امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں چار سال کے دوران مختلف ڈشز میں استعمال کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان چیونٹیوں کو خاص طور پر سوربے نامی ٹھنڈی مٹھائی پر بطور ٹاپنگ پیش کیا جاتا تھا۔ مقامی اخبار دی چوسن ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق صحت کے حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ استعمال کی جانے والی چیونٹیوں میں عام طور پر خوراک کے لیے منظور شدہ حشرات کے مقابلے میں 55 گنا تک زیادہ بھاری دھاتیں موجود تھیں، جس کی وجہ سے ان کے استعمال پر مزید سوالات اٹھے۔ عدالت میں ریستوران کے مالک نے اس بات کا اعتراف کیا کہ چیونٹیاں استعمال کی گئی تھیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف 15 کورسز پر مشتمل مینو کے ایک بہت چھوٹے حصے میں شامل تھیں۔ ان کے مطابق چیونٹیاں صرف سوربے نامی مٹھائی پر بطور ٹاپنگ پیش کی جاتی تھیں اور ہر گاہک کو پہلے سے بتایا جاتا تھا کہ اگر وہ چاہے تو چیونٹیوں کے بجائے خمیر شدہ سرکے یا کھانے کے قابل پھولوں کی ٹاپنگ بھی منتخب کر سکتا ہے۔ ریستوران کے مالک نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ صرف تقریباً 60 فیصد گاہکوں نے چیونٹیوں والی ٹاپنگ کا انتخاب کیا، جبکہ باقی گاہکوں نے متبادل ٹاپنگ استعمال کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریلیا، ڈنمارک اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے ریستورانوں میں بھی چیونٹیاں مختلف کھانوں میں بطور جزو استعمال کی جاتی ہیں۔ عدالتی دستاویزات میں نہ تو ریستوران کا نام ظاہر کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کے مالک کی شناخت سامنے لائی گئی ہے۔ جنوبی کوریا میں اس وقت صرف 10 ریستوران ایسے ہیں جنہیں دو مشیلین اسٹار حاصل ہیں اور یہ تمام دارالحکومت سیول میں واقع ہیں۔ مشیلین گائیڈ دنیا بھر کے ریستورانوں کو کھانوں کے معیار، ذائقے، پکانے کی مہارت، شیف کی انفرادیت اور مستقل معیار کی بنیاد پر ایک سے تین اسٹار دیتا ہے۔ دو مشیلین اسٹار اس بات کی علامت سمجھے جاتے ہیں کہ ریستوران کا کھانا غیر معمولی معیار کا ہے اور وہاں کھانے کے لیے خاص طور پر راستہ بدل کر جانا بھی قابلِ قدر سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا میں کسی بھی انسیکٹ کو خوراک کے طور پر منظور کرنے سے پہلے کئی پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان میں خوراک کی حفاظت، زہریلے اثرات، غذائی اہمیت، اور یہ بات شامل ہوتی ہے کہ آیا اس حشرے کی افزائش اور پراسیسنگ صاف اور محفوظ طریقے سے کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اس مقدمے میں عدالت کی جانب سے سزا کا حتمی فیصلہ 2 ستمبر کو سنایا جائے گا۔



