68.5 F
Pakistan
Thursday, September 17, 2026
HomeEntertainmentپیرس ڈکیتی کیس: کیم کارڈیشین کے لیے 10 سال بعد عدالت سے...

پیرس ڈکیتی کیس: کیم کارڈیشین کے لیے 10 سال بعد عدالت سے صرف 1 یورو کا ہرجانہ منظور

پیرس کی ایک عدالت نے امریکی ٹی وی اسٹار کیم کارڈیشین کو 2016 میں فرانس کے دارالحکومت میں ہونے والی مسلح ڈکیتی کے معاملے میں صرف ایک یورو ہرجانہ دینے کا حکم دے دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیم کارڈیشین نے عدالت سے معاوضے کے طور پر خود بھی صرف ایک یورو دینے کی درخواست کی تھی۔ امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس(اے پی) کے مطابق یہ فیصلہ اس مقدمے میں گزشتہ سال 8 افراد کو کیم کارڈیشین کے خلاف ہونے والی ڈکیتی میں کردار ادا کرنے پر مجرم قرار دیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ 2 اکتوبر 2016 کو پیرس فیشن ویک کے دوران پیش آیا تھا۔ کیم کارڈیشین پیرس کے ہوٹل ڈی پورٹالیس میں قیام پذیر تھیں، جہاں ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے انہیں نشانہ بنایا۔ مقدمے کے مطابق دو ملزمان پولیس اہلکاروں کے بھیس میں ان کے کمرے میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کیم کارڈیشین کو قابو کیا، ان کے ہاتھ زِپ ٹائی اور ٹیپ سے باندھے اور 60 لاکھ ڈالر سے زیادہ مالیت کے ہیرے اور قیمتی زیورات لے کر فرار ہوگئے۔ چونکہ اس چوری میں ملوث افراد کی عمریں زیادہ تھیں فرانس میں انہیں ”لے پاپی براکور“ یعنی ”دادا ڈاکو“ کے نام سے بھی جانا گیا۔ مقدمے کے دوران چھ ملزمان کی عمریں 60 اور 70 سال کے درمیان تھیں۔ ان پر مسلح ڈکیتی، اغوا اور جرائم پیشہ گروہ سے تعلق سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔ گزشتہ سال عدالت نے اس مقدمے میں 8 افراد کو مجرم قرار دیا تھا۔ تاہم چونکہ وہ مقدمے سے پہلے ہی حراست میں وقت گزار چکے تھے، اس لیے سزا کے بعد کسی کو دوبارہ جیل نہیں بھیجا گیا۔ کسی بھی مجرم نے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی نہیں کی۔ کیم کارڈیشین نے اس سے قبل ملزمان کو مجرم قرار دیے جانے کے بعد فرانسیسی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انصاف کی کارروائی پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ عدالت کے فیصلے کے بعد کیم کارڈیشین اور ان کی اسٹائلسٹ سیمون ہروش نے، جو اس واقعے کے وقت وہیں موجود تھیں، ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ تجربہ ان کے لیے انتہائی خوفناک تھا اور اس کا اثر آج بھی ان کے دل و دماغ پر موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے اس فیصلے کا مقصد کوئی بڑی رقم یا معاوضہ حاصل کرنا ہرگز نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد گناہوں کی جوابدہی اور انصاف کا حصول تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم عدالت اور ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا اور اب ہم اس تکلیف کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اس مقدمے میں عدالت نے ہوٹل کے ایک پرانے استقبالیہ کارکن کو ایک لاکھ نو ہزار سے زائد یورو دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارکن 2016 کے زیورات کی چوری کے واقعے کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ اور تکلیف کا شکار ہو گیا تھا اور اس نے عدالت سے ساڑھے پانچ لاکھ یورو کا معاوضہ مانگا تھا۔ اس کارکن کے وکیل موہند اوویجیدا نے عدالت کے اس فیصلے کو ایک بڑی فتح قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے ہوٹل کو پچاس ہزار یورو اور کیم کارڈیشین کی اسٹائلسٹ سیمون ہروش کو بھی ایک یورو دینے کا حکم دیا ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments