69 F
Pakistan
Saturday, April 25, 2026
HomeCrimeپہلے ائیرانڈیا حادثے میں بیوی، بیٹی کو کھویا، اب برطانیہ سے نکال...

پہلے ائیرانڈیا حادثے میں بیوی، بیٹی کو کھویا، اب برطانیہ سے نکال رہے ہیں: انڈین شہری

محمد شیتھ والا اور ان کی اہلیہ صادقہ بانو تاپیلی والا ایک نوجوان جوڑا تھے جن کے پاس ایک خواب تھا۔ انہوں نے اپنا سب کچھ بیچ دیا اور ہمسایوں سے قرض لے کر انڈیا سے برطانیہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، جہاں صادقہ بانو کو السٹر یونیورسٹی کے لندن کیمپس میں ماسٹرز پروگرام میں داخلہ ملا تھا۔ انہوں نے 2023 میں گریجویشن مکمل کی، اسی سال ان کی پہلی بیٹی فاطمہ پیدا ہوئی۔ میاں بیوی دونوں نے کام ڈھونڈا اور آہستہ آہستہ اپنی زندگی سنوارنا شروع کی، یہاں تک کہ وہ اپنے خاندان اور ان دوستوں کو بھی تھوڑی مالی مدد بھیجنے لگے جنہوں نے ان پر یقین کیا تھا۔ گذشتہ سال 12 جون کو چند ہی لمحوں میں ان کا روشن مستقبل ایک خوفناک حادثے میں تباہ ہو گیا۔ تاپیلی والا اور دو سالہ فاطمہ ایئر انڈیا فلائٹ 171 میں سوار تھیں، جو احمد آباد سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد مغربی انڈیا میں ایک ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں 260 افراد مارے گئے، جن میں طیارے میں سوار تقریباً تمام افراد شامل تھے۔ اس وقت شیتھ والا لندن میں تھے اور وہ یہ خبر سن کر ٹوٹ کر رہ گئے۔ اب 10 ماہ بعد انہیں ایک اور صدمے کا سامنا ہے: برطانیہ چھوڑنے کا خطرہ، وہ ملک جہاں ان کے مطابق ان کے خاندان کی ہر یاد وابستہ ہے۔ 28 سالہ شیتھ والا نے دی انڈپینڈنٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’میں انہیں پہلے ہی کھو چکا ہوں۔ ’اب میں کم از کم اس خواب کو تھامے رکھنا چاہتا ہوں اور اسے پورا کرنا چاہتا ہوں، تاکہ اپنی یادوں کو احترام دے سکوں۔‘ جب 2022 میں تاپیلی والا کو سٹوڈنٹ ویزا ملا تو شیتھ والا بطور ڈیپنڈنٹ ان کے ساتھ برطانیہ آ گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا یہ سفر دولت نہیں بلکہ قربانیوں سے ممکن ہوا۔ ’ہمارے پاس برطانیہ میں تعلیم کے اخراجات اٹھانے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ محلے کے لوگوں نے قرض دیا، اور ہم دونوں کی ماؤں نے اپنے زیورات، جو ان کی زندگی کی جمع پونجی تھے، بیچ کر ہمیں باہر بھیجا۔‘ ان کے والد انڈیا میں ایک چھوٹی دکان چلاتے تھے جہاں ماہانہ آمدنی 10 ہزار سے 15 ہزار روپے (78 پاؤنڈز سے 118 پاؤنڈز) کے درمیان تھی جبکہ تاپیلی والا کے والد سائیکل پر گھر گھر جا کر سامان فروخت کرتے تھے۔ برطانیہ پہنچ کر دونوں نے سخت محنت کی۔ شیتھ والا کے مطابق ان کی اہلیہ کے سٹوڈنٹ ویزا پر کام کے محدود اوقات تھے، اس لیے انہوں نے ڈیلیوری سمیت کئی ملازمتیں کیں۔ ’پہلے سال انہوں نے قرض واپس کیا، اور بعد میں دونوں خاندانوں کی مدد کرنے کے قابل ہو گئے۔ ابتدا میں وہ مستقل رہائش کا ارادہ نہیں رکھتے تھے، مگر وقت کے ساتھ برطانیہ انہیں گھر جیسا لگنے لگا۔ ’کچھ عرصہ یہاں گزارنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ یہاں مستقل رہنا بہتر ہوگا۔ انڈیا میں ہمارا خاندانی پس منظر مضبوط نہیں تھا، لیکن یہاں آ کر ہم دونوں خاندانوں کی مدد کر سکتے تھے۔ ایسا ہم انڈیا میں نہیں کر سکتے تھے۔‘ 2025 کے موسم بہار تک ان کی زندگی درست سمت میں جا رہی تھی۔ شیتھ والا کے مطابق ان کی اہلیہ کو تعلیم کی مناسبت سے کام مل گیا تھا اور وہ پروبیشن کے بعد سکلڈ ورکر ویزا حاصل کرنے کی تیاری کر رہی تھیں، جس سے خاندان کو مزید استحکام مل جاتا۔ پھر ایک خاندانی شادی کے لیے انڈیا جانا پڑا۔ دونوں اکٹھے جانا چاہتے تھے مگر چھٹی نہ مل سکی، اس لیے شیتھ والا لندن میں رہ گئے جبکہ ان کی اہلیہ اور بیٹی پہلے روانہ ہو گئیں۔ جس دن تاپیلی والا اور فاطمہ کی واپسی تھی، شیتھ والا نے فون کیا۔ وہ ایئرپورٹ پر تھیں۔ ’میرے خاندان والے کہہ رہے تھے کہ بیٹی کو انڈیا میں ہی چھوڑ دیں، میری اہلیہ نے مجھ سے پوچھا، لیکن میں ہچکچا رہا تھا۔ وہ ایک ماہ سے مجھ سے دور تھی۔‘ انہوں نے بتایا کہ فاطمہ ایئرپورٹ پر رو رہی تھی۔ ان کی اہلیہ نے کہا کہ وہ چیک اِن مکمل کرنے جا رہی ہیں اور جہاز میں بیٹھ کر دوبارہ کال کریں گی۔ ’وہ کال کبھی نہیں آئی۔‘ بعد میں جب وہ انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہے تھے تو حادثے کی خبریں آنے لگیں۔ ٹکٹ بک کرنے والے دوست سے بات کی، پھر تصدیق ہو گئی: یہی وہی پرواز تھی۔ ’میں سکتے میں آ گیا تھا۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا ہو رہا ہے۔‘ 12 جون 2025 کو انڈیا کے شہر احمد آباد سے لندن جانے والا طیارہ پرواز کے ایک منٹ بعد ہی کریش ہو گیا تھا (AFP PHOTO / CENTRAL INDUSTRIAL SECURITY FORCE (CISF)) فلائٹ 171، بوئنگ 787-8، احمد آباد سے لندن گیٹ وک جا رہی تھی اور اڑان کے فوراً بعد گر کر ایک میڈیکل کالج کی عمارت سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں 241 مسافروں اور عملے کے ساتھ زمین پر موجود 19 افراد بھی مارے گئے۔ شیتھ والا پہلی دستیاب پرواز سے فوری طور پر انڈیا روانہ ہوئے۔ راستے میں اہل خانہ نے انہیں حقیقت سے بچانے کی کوشش کی اور کہا کہ ان کی اہلیہ اور بیٹی ہسپتال میں محفوظ ہیں۔ احمد آباد پہنچ کر جب وہ ہسپتال گئے تو ان سے خون کا نمونہ لیا گیا۔ ’مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ لاش کی شناخت کے لیے ہے۔‘ ڈاکٹروں نے بتایا کہ صرف ایک شخص زندہ بچا ہے۔ ان کے ساتھ موجود دوست نے حقیقت بتائی۔ انہوں نے کہا ’ہم نے آپ کو اس لیے نہیں بتایا کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ آپ خیریت سے انڈیا پہنچ جائیں۔‘ 17 جون کو بیٹی کی باقیات ان کے خاندان کے حوالے کی گئی اور 21 جون کو اہلیہ کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لاش تابوت میں تھی، میں نے تدفین سے پہلے اسے نہیں کھولا۔‘ کئی دن تک وہ اس حقیقت کو قبول نہیں کر سکے۔ ’ایسا لگتا تھا جیسے یہ ڈراونہ خواب ہے اور میں کسی بھی لمحے جاگ جاؤں گا اور دونوں کو اپنے سامنے موجود پاؤں گا۔‘ لیکن پھر ایک اور صدمہ سامنے آیا۔ ’جیسے ہی میں نے خود کو سنبھالا، ویزے کا مسئلہ خنجر کی طرح آیا۔‘ ان کی امیگریشن کی حیثیت ان کی اہلیہ کے ویزا پر منحصر تھی، اس لیے ان کی وفات کے بعد ان کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کی اہلیہ زندہ ہوتیں تو وہ سکلڈ ورکر ویزا حاصل کر لیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ کا جاب آفر لیٹر ابھی تک ان کے پاس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر میری اہلیہ زندہ ہوتی تو ہمارے پاس سکلڈ ورکر ویزا ہوتا، حالات مختلف ہوتے۔‘ انہوں نے ہمدردی کی بنیاد پر مزید قیام کی درخواست دی اور دلیل دی کہ ان کے حالات غیر معمولی تھے اور اپنی ذہنی حالت کی رپورٹ بھی جمع کرائی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) لیکن نو اپریل کو، حادثے کے نو ماہ بعد، ان کی درخواست مسترد کر دی گئی، اور انہیں ملک چھوڑنے کے لیے عارضی امیگریشن بیل دے دی گئی۔ ’مجھے اپیل کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔‘ برطانوی ہوم آفس نے دی انڈپینڈنٹ کی درخواست کے باوجود اس کیس پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ان کا کیس غیر معمولی رعایت کے معیار پر پورا نہیں اترتا اور انڈیا میں انہیں طبی اور خاندانی تعلق کی معاونت دستیاب ہو سکتی ہے۔ ایسے میں شیتھ والا اس فلیٹ میں جاگ کر راتیں گزار رہے ہیں جہان کبھی نرسری کی نظمیں بجتی رہتی تھی، اب شیتھ والا وکلا سے مشورہ کر رہے ہیں کہ کیا وہ اپیل کر سکتے ہیں۔ چیو نوما لا فرم کے کیس مینیجر ایوش ایس راجپال نے کہا کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ یہ ایک حقیقی انسانی ہمدردی کا کیس ہے اور ہم منصفانہ غور کی درخواست کرتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے کائنٹ چار سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں، کام کر رہے ہیں اور اپنی زندگی بنا چکے ہیں، انہیں انڈیا میں ایسا کام ملنے میں مشکل ہو گی۔ جبکہ اہلیہ کی وفات کے بعد وہ مالی اور جذباتی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان حالات میں ہم درخواست کرتے ہیں کہ انہیں ہمدردی کی بنیاد پر برطانیہ میں رہنے کی اجازت دی جائے۔‘ شیتھ والا کا کہنا ہے کہ انڈیا واپسی انہیں سکون نہیں دے گی۔ ’میرے رشتہ دار ہیں کہتے تم لندن میں کیا کروے گے، واپس آ جاؤ، لیکن میرے لیے اس ملک کو چھوڑنا ان یادوں کو چھوڑنے کے برابر ہے جو یہاں سے جڑی ہیں۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی قانون کا غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے نہ ہی کوئی قانون دوبارہ لکھنا چاہتے ہیں بلکہ صرف وقت چاہتے ہیں، کام کرنے کے لیے، سنبھلنے کے لیے، اور اس جگہ رہنے کے لیے جہاں ان کا خواب اور مستقبل کچھ وقت کے لیے حقیقت بنا تھا۔ انڈیا برطانیہ ایئر انڈیا فضائی حادثہ مسافر طیارہ شیتھ والا کے مطابق ان کی اہلیہ کو تعلیم کی مناسبت سے کام مل گیا تھا اور وہ پروبیشن کے بعد سکلڈ ورکر ویزا حاصل کرنے کی تیاری کر رہی تھیں، جس سے خاندان کو مزید استحکام مل جاتا۔ نمیتا سنگھ جمعہ, اپریل 24, 2026 – 12: 15 Main image:

13 جون، 2025 کو احمد آباد میں گرنے والے ایئر انڈیا کے طیارے کا ملبہ نظر آ رہا ہے(اے ایف پی)

دنیا type: news related nodes: ’فلائٹ ٹو نو وئیر‘: ایئر انڈیا کی پرواز آٹھ گھنٹے بعد واپس لوٹ آئی ایئر انڈیا طیارہ حادثہ: مقدمہ واپس لینے پر 10 لاکھ روپے کی پیشکش ایئر انڈیا کا 13سال تک ’لاپتہ‘ طیارہ کولکتہ ایئرپورٹ پارکنگ بے سے برآمد پاکستانی پابندی: ایئر انڈیا کی سنکیانگ کی فضائی حدود استعمال کرنے کی کوششیں SEO Title: پہلے ائیرانڈیا حادثے میں بیوی، بیٹی کو کھویا، اب برطانیہ سے نکال رہے ہیں: انڈین شہری copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/news/uk/home-news/air-india-crash-ahemdabad-tragedy-mohammad-shethawala-b2963399. html show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments