71.4 F
Pakistan
Thursday, April 23, 2026
HomeHealthپنجاب: نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں میں کمی کا رجحان

پنجاب: نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں میں کمی کا رجحان

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کے مطابق، پنجاب کے 33 نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں اس سال مجموعی طور پر 574 نشستیں خالی رہ گئیں ہیں، جو گذشتہ تین سالوں میں ریکارڈ اضافہ ہے اور اس کی وجہ نجی طبی تعلیمی اداروں کی پانچ سالہ کورس کے لیے ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے تک فیس بتائی جا رہی ہے۔ نجی میڈیکل وڈینٹل کالجز کی جانب سے ایڈمیشنز کے لیے دو ماہ کا وقت بڑھانے کے باوجود ان اداروں میں خالی نشستوں کے لیے کسی امیدوار نے فارمز جمع نہیں کروائے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی مجموعی تعداد 125 سے 130 ہے۔ سرکاری میڈیکل کالجز و یونیورسٹیوں میں زیادہ میرٹ کی وجہ سے داخلہ حاصل کرنے میں ناکام رہنے والے طلبہ نجی میڈیجکل کالجز کا رخ کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نجی میڈیکل تعلیمی اداروں کی حد سے زیادہ فیسوں کے خلاف از خود نوٹس لیا تھا، لیکن فیسیں کم نہ ہو سکیں۔ نجی طبی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ اور ان کے والدین کے احتجاج کے بعد حکومت نے گذشتہ برس ڈپٹی وزیر اعظم اسحق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی، جس نے نجی طبی کالجز و یونیورسٹیوں کو 18 سے 20 لاکھ روپے تک اضافہ اور سالانہ پانچ فیصد بڑھانے کی اجازت دی اس فیصلے کے بعد پہلے ہی سال گذشتہ سالوں کی نسبت زیادہ نشستیں خالی رہ گئی ہیں۔ ترجمان یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پنجاب عاطف علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز ویونیورسٹیز میں مقررہ میرٹ پر داخلوں کے بعد ہر سال نجی کالجز کو 5500 نشستوں پر داخلوں کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ داخلے سنٹرل پالیسی کے تحت یو ایچ ایس کا بورڈ میرٹ پر ہی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن گذشتہ تین سالوں سے نجی طبی تعلیمی اداروں میں داخلوں کا روحجان بڑھتا جا رہا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ پانچ سالوں کی ایک کروڑ روپے تک فیس ہے۔‘ لاہور کی نجی میڈیکل یونیورسٹی کے عہدیدار عابد شیروانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہر پرائیویٹ یونیورسٹی حکومت کی اجازت سے اپنے اخراجات کے مطابق فیسیں مقرر کرتی ہے۔ میڈیکل کی تعلیم کے لیے سہولیات بھی اسی معیار ی کی فراہم کرنا پڑتی ہیں اس لیے فیس بھی زیادہ رکھنا مجبوری ہے۔‘ نجی طبی اداروں میں داخلوں میں کمی کیوں؟ ’میٹرک اور ایف ایس سی میں دن رات پڑھائی کر کے زیادہ سے زیادہ نمبر لینے کی کوشش کی۔ میٹرک میں 1100 میں سے 1029 نمبر جبکہ ایف ایس سی میں 1200 میں سے 1016 نمبر حاصل کیے۔ اس کے بعد ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں بھی نمایاں نمبر لیے جس سے میرٹ 87 تک بنا لیا۔ لیکن سرکاری میڈیکل کالج یا یونیورسٹی میں زائد میرٹ کی وجہ سے داخلہ نہ ملا۔ نجی کالجز میں آسانی سے میرٹ بن گیا لیکن ایک سے ڈیرھ کروڑ روپے فیس ادا نہیں کر سکتے تھے۔‘ یہ کہنا تھا لاہور سے تعلق رکھنے والے طالب علم حماد عاطف کا جنہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں مزید کہا کہ ’نجی کالج میں فیس کی وجہ سے داخلہ نہ حاصل کر سکنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ انوائرمنٹل سائنسز میں داخلہ لے لیا۔ اب وہاں زیر تعلیم ہوں لیکن افسوس ہے کہ ڈاکٹر بننے کا خواب پورا نہیں ہوسکا۔‘ اسی طرح لاہور سے تعلق رکھنے والی طالبہ خدیجہ شاہد نے بتایا کہ انہوں نے اسی سال ایف ایس سی میں پونے 1075 نمبر حاصل کیے اور ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ دینے کے بعد مجموعی طور پر 88 فیصد تک پوزیشن بنائی لیکن کسی سرکاری کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ ’نجی کالجز میں آسانی سے میرٹ بنتا تھا لیکن وہاں ایک کروڑ روپے تک پانچ سال کی فیس ناقابل برداشت تھی۔ اس لیے داخلہ نہیں لیا۔ لہذا اب دوبارہ تیاری کر رہی ہوں تاکہ آئندہ سال 90 فیصد تک نمبرز حاصل کرنے کی کوشش کروں گی۔‘ نجی کالجز میں گذشتہ تین سال میں داخلوں کی شرح؟ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ریکارڈ کے مطابق، پنجاب کے مختلف شہروں میں کل 17 سرکاری میڈیکل جبکہ چار ڈینٹل کالجز ہیں، جن میں ان دنوں میڈیکل کی 3400 اور ڈینٹل کی 300 سیٹیں ہیں۔ ان میں داخلوں کے لیے سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیے جاتے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق صوبے کے 33 میڈیکل اور 18 ڈینٹل نجی کالجوں 2023-24 کے دوران میڈیکل کی 82 جبکہ ڈینٹل کی 95 سیٹیں خالی رہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اسی طرح 2024-25 میں ڈینٹل کالجز کی 222 جبکہ میڈیکل کی 35 نشستیں خالی رہیں، جو 2023۔24 کی نسبت 80 سیٹیں زیادہ تھیں۔ سال رواں کے لیے حیران کن طور پر ڈینٹل کالجز کی 1100 میں سے 519 اور میڈیکل کی 4400 میں سے 55 سیٹیں خالی رہیں، جو مجموعی طور پر 574 بنتی ہیں۔ خاص طور پر ڈینٹل کالجز میں داخلوں کی شرح 45 فیصد تک کم ہوئی۔ عاطف کے بقول: ’اس شرح میں تین سال سے مسلسل ریکارڈ کمی کے باعث اس بار 31 جنوری سے 31 مارچ تک نجی کالجز کو داخلوں کے لیے دو ماہ اضافی وقت دیا گیا تھا، لیکن اس دوران بھی ڈاکٹر بننے کے خواہش مند طلبہ نے داخلوں میں زیادہ دلچسپی نہیں لی۔‘ ملکی نجی اداروں کے بجائے بیرون ملک داخلوں میں اضافہ عاطف علی کے بقول، ’ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال 4000 تک پاکستانی بچے ترکمانستان، تاجکستان، یوکرین، چین یا دیگر ایسے ممالک کے میڈیکل و ڈینٹل تعلیمی اداروں میں داخلے لیتے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حیران کن طور پر وہاں پاکستان کی پرائیویٹ اداروں کی نسبت آدھی فیسں لی جاتی ہیں۔ لیکن مسئلہ تب آتا ہے جب وہاں سے تعلیم حاصل کر کے یہ طلبہ واپس یہاں نوکری تلاش کرتے ہیں۔ ہمارے محکمہ صحت یا ہسپتالوں میں ان اداروں سے پڑھے بچوں کو پاکستانی کالجز کے مقابلہ میں کم اہمیت دی جاتی ہے۔‘ پاکستان کے ہسپتالوں میں نوکریاں کم ہونے کی وجہ سے ہر سال میڈیکل یا ڈینٹل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی نئے ڈاکٹروں کو بیرون ملک روزگار کے لیے جانا پڑتا ہے۔‘ نجی تعلیمی اداروں میں فیسیں زیادہ کیوں؟ عابد شیروانی کے بقول، ’پاکستان میں ہر سال دو لاکھ تک مجموعی طور پر طلبہ میڈیکل اور ڈینٹل تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے ٹیسٹ دیتے ہیں۔ جن میں سے ایک لاکھ کے قریب صرف پنجاب سے ہوتے ہیں۔ لہذا جن طلبہ کو سرکاری کالجز میں داخلے نہیں ملتے وہ نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کا رخ کرتے ہین۔ ان کالجز میں بھی اگرچہ یو ایچ اسی کا بورڈ ہی داخلوں کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی نجی ادارے اپنے طور پر میرٹ طے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ’نجی کالجز کیونکہ خالص کمرشل بنیادوں پر بنائے جاتے ہیں۔ اس لیے ہر نجی ادارہ سہولیات کے حساب سے فیسیں طے کرتا ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے اب یہ حد 18 سے 20 لاکھ روپے سالانہ مقرر کی گئی ہے، جبکہ سرکاری اداروں میں یہی فیس تین چار لاکھ روپے ہوتی ہے۔‘ عابد کے قبول: ’سرکاری ادارے حکومتی فنڈز سے چلتے ہیں اساتذہ کی فیسیں اور لیبارٹریز کا خرچہ بھی سرکاری فنڈز سے ہوتا ہے۔ پرائیویٹ کالجز جگہ لے کر عمارت بھی خود بناتے ہیں اساتذہ کی فیسوں سمیت ساری سہولیات فیسوں سے ہی ادا کرتے ہیں۔ اس لیے فیسیں زیادہ رکھنا مجبوری ہوتی ہے۔‘ خیال رہے کہ پاکستان میں میڈیکل یا ڈینٹل کے نجی تعلیمی ادارے زیادہ تر بااثر شخصیات کی ملکیت ہیں۔ جن کی اجازت حکومت نے 90 کی دہائی میں دینا شروع کی تھی۔ سب سے پہلا نجی میڈیکل کالج آغا خان 1983 سے کراچی میں قائم ہے۔ ماہر طبی تعلیم ڈاکٹر خالد اقبال گوندل نے بتایا کہ ’نجی کالجز میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ خرچ کرنے سے بہتر بندہ کوئی دوسرا کام کر لے۔ میڈیکل کالج پرائیویٹ طلبہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مطابق، داخلوں میں کمی کی وجہ نجی طبی تعلیمی اداروں کی پانچ سالہ کورس کے لیے ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے تک فیس بتائی جا رہی ہے۔ ارشد چوہدری بدھ, اپریل 22, 2026 – 19: 15 Main image: کیمپس jw id: NDCU54bS type: video related nodes: نجی میڈیکل کالجز کی فیس 18 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کتنی قابل عمل؟ میڈیکل کالجز میں فلسطینی طلبہ کے لیے انتظام کریں: وزیراعظم کراچی: ڈینٹل کالج کی طالبہ کا بٹیر پالنے کے شوق سے کمرشل فارمنگ تک کا سفر میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے طلبہ کا اسلام آباد میں دھرنا جاری SEO Title: پنجاب: نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں میں کمی کا رجحان copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments