کراچی میں پروفیسر عارف کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں عدالت نے ملزم نین شاہ کی ضمانت منظور کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق عدالت نے ملزم نین شاہ کو 20 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کے عوض رہا کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کونین شاہ پروفیسر عارف پر تشدد کے مقدمے میں پہلے ہی ضمانت پر ہے۔ عدالت کی جانب سے دھمکیوں کے مقدمے میں بھی ضمانت منظور ہونے کے بعد ملزم کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں 8 ستمبر کو صفورا چورنگی کے قریب جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین عارف ساقی کو بااثر افراد اور ان کے گارڈز کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے تین ملزمان کو حراست میں لے لیا تھا۔ پروفیسر عارف ساقی پر اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب وہ آن لائن ٹیکسی کے ذریعے صفورا چورنگی کے قریب سے گزر رہے تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر عارف خان ساقی نے آج نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سندھ گرین ہوٹل کے مالک کونین شاہ راشدی اور اس کے سیکیورٹی گارڈز نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ پروفیسر عارف ساقی کا کہنا تھا کہ ہوٹل سے نکلنے والے ایک ویگو ڈالے نے غلط انداز میں گاڑی ریورس کرتے ہوئے ان کی کار کو ٹکر ماری، اور جب انہوں نے گاڑی کے نقصان کا ازالہ کرنے کی درخواست کی تو ویگو میں سوار شخص مشتعل ہو گیا اور رائفلوں کے بٹ سے مارنا شروع کر دیا جس سے ان کا سر پھٹ گیا اور وہ لہولہان ہو گئے۔ اس کے بعد ملزمان انہیں ہوٹل کے اندر لے گئے اور حبسِ بیجا میں رکھ کر دوبارہ مارا پیٹا تھا۔



