عصرِ حاضر میں جب علم و تحقیق نے ریاستی طاقت کے مفہوم کو محض عسکری قوت سے نکال کر سائنسی برتری اور تکنیکی مہارت کے دائرے میں داخل کر دیا ہے تو ایسے میں کسی بھی ملک کے حساس سائنسی ماہرین کی حیثیت محض فرد کی نہیں رہتی بلکہ وہ قومی سلامتی کے خاموش ستون تصور کیے جاتے ہیں۔



