76.2 F
Pakistan
Monday, September 21, 2026
HomeTechnologyپاکستان میں آن لائن شدت پسندی کے خطرات اور اس کا سدباب

پاکستان میں آن لائن شدت پسندی کے خطرات اور اس کا سدباب

پاکستان میں عسکریت پسندی کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظر نامے میں، انٹرنیٹ اور مختلف ڈیجیٹل و سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے مرکزی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ عسکریت پسندوں کی بھرتی مالی اعانت، مواصلات، نیٹ ورکنگ اور منصوبہ بندی انٹرنیٹ پر منتقل ہو چکی ہے۔ ان عوامل نے ذہن سازی اور نظریہ سازی کے لیے جغرافیائی پناہ گاہوں کی ضرورت کو کم کر دیا ہے۔ لہٰذا، معرکہ آرائی کا میدان جسمانی حدوں سے نکل کر سائبر سپیس تک پھیل چکا ہے، جس نے شدت پسندی کے سدباب اور اس کی روک تھام کے چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب سوشل میڈیا پر شدت پسندی کی روک تھام اور اس کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملیاں اتنی ہی اہم ہیں جتنا کہ انتہا پسندانہ نظریات اور پیغامات کے خلاف جوابی بیانیہ اہم ہے۔ پاکستان کے گنجان اور شدید اثر و رسوخ رکھنے والے عسکری منظرنامے میں، اہم دہشت گرد نیٹ ورکس نے اپنے مخصوص میڈیا ونگ قائم کر لیے ہیں، جن کے تحت سوشل میڈیا یونٹس ذیلی شعبوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا میدان وہ بنیادی شکار گاہ ہے جہاں دہشت گردوں کی بھرتی کرنے والے افراد نازک اور متاثر کن ذہن رکھنے والے لوگوں کی تلاش کرتے ہیں اور انہیں باریک بینی و مہارت سے اپنے جال میں پھانستے ہیں۔ انکرپشن (پیغامات کی پوشیدگی)، گمنامی اور عدم مرکزیت جیسی اہم خصوصیات نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو اپنی شناخت اور سکیورٹی کو خطرے میں ڈالے بغیر ممکنہ شدت پسندوں کو ہدف بنانے کے قابل بنایا ہے۔ سوشل میڈیا کے چیٹ رومز، چینلز اور صفحات ایسے بند فکری دائرے قائم کرتے ہیں جہاں ہم خیال افراد مشترکہ شکایات (چاہے وہ حقیقی ہوں یا فرضی)، محرومیوں اور مشترکہ تجربات کی بنیاد پر مرکزی دھارے سے کٹ کر ایک الگ شناخت تشکیل دیتے ہیں۔ 21 اپریل، 2017 کو کوئٹہ میں بلوچ علیحدگی پسند ایک تقریب میں ہتھیار ڈال رہے ہیں (اے ایف پی) یہ شکایات، جنہیں پروپیگنڈا ویڈیوز، شاعری اور ترانوں کے ذریعے مزید ہوا دی جاتی ہے، دہشت گرد گروہوں کو متاثرہ افراد کی موجودہ حالت زار کا ذمہ دار مرکزی دھارے کو ٹھہرانے میں مدد دیتی ہیں۔ اسی بنیاد پر، وہ ’اندرونی گروہ‘ اور ’بیرونی گروہ‘ کی شناخت بنا کر حد بندیاں قائم کرتے ہیں۔ اندرونی گروہ کو مرکزی دھارے کا مظلوم اور شکار بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ مرکزی دھارے کو اصل ظالم اور ولن کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ یوں باہمی اختلافات کو حل کرنے کے دیگر متبادل طریقوں کے برعکس، تشدد کو ہی واحد موثر اور قابلِ عمل لائحہ عمل کے طور پر فروغ دیا جاتا ہے۔ جنریٹیو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے پاکستانی دہشت گرد نیٹ ورکس کو اپنے پروپیگنڈا آپریشنز کو وسعت دینے، ان میں تیزی لانے اور انہیں لسانی لحاظ سے متنوع بنانے میں بہت بڑی مدد فراہم کی ہے۔ انہیں اپنے بیانیے کا علاقائی زبانوں میں ترجمہ کرنے اور مختلف لسانی پس منظر رکھنے والے افراد تک رسائی حاصل کرنے میں بالکل وقت نہیں لگتا۔ بیانکا ناوارو نے 10 دسمبر 2025 کو مغربی سڈنی میں اپنے گھر پر عمر کی تصدیق کا پیغام موصول ہونے کے بعد سوشل میڈیا سائٹ کو غیر مقفل کرنے کی کوشش کی (اے ایف پی) نتیجتاً، عسکریت پسندی کسی ایک مخصوص جغرافیے یا کمیونٹی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے پنجےاگرچہ مختلف تناسب سے، ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکے ہیں۔ اس لسانی تنوع نے ان لوگوں کو بھی اپنی طرف راغب کر لیا ہے جو ماضی میں لسانی اور ثقافتی رکاوٹوں کی وجہ سے دہشت گرد نیٹ ورکس میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ دوسرے لفظوں میں، جنریٹیو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے باعث حاصل ہونے والے لسانی تنوع نے پاکستان میں پرتشدد شدت پسندی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کم کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر، اگرچہ ٹی ٹی پی میں زیادہ تر پختون، بالخصوص محسود قبیلے کے عناصر شامل ہیں، لیکن اس دہشت گرد گروہ کا اہم ترین پروپیگنڈا کرنے والا، چوہدری منیب جٹ، ایک پنجابی ہے جو اس سے قبل القاعدہ کے ‘الصحاب میڈیا’ کے میڈیا آپریشنز چلاتا رہا ہے۔ اسی طرح، گذشتہ چند سالوں کے دوران، بلوچستان کے بلوچ علاقوں سے مختلف عسکریت پسند دھڑے ٹی ٹی پی میں شامل ہوئے ہیں، جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی بدولت ممکن ہونے والی وسیع رسائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اگرچہ یہ نشان دہی کرنا اہم ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ان متعدد دیگر معاون عوامل میں سے ایک ہے جو ٹی ٹی پی کو اپنا نیٹ ورک بڑھانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ طالبان کی فتح، جس نے ٹی ٹی پی کے لیے ایک نصرت اور طاقت کا کام کیا، تنظیمی کامیابیاں، مالی مراعات اور طاقت کے مظاہرے کی صلاحیت بھی اس دہشت گرد گروہ کے بلوچستان میں اپنا نیٹ ورک پھیلانے میں اتنی ہی اہم ہیں ڈیجیٹل دور میں، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز وہ بنیادی میدان جنگ ہیں جہاں افکار اور بیانیوں کی جنگ لڑی جاتی ہے، جس میں حریف فریق پروپیگنڈے، غلط اور گمراہ کن معلومات اور سازشی نظریات کو اپنے ہتھیاروں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کچھ لحاظ سے، دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے میدان جنگ میں جسمانی یا واقعی کامیابیوں سے زیادہ پروپیگنڈے معلومات اور ذہنی و ادراکی جنگ کو جیتنا زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ دہشت گرد نیٹ ورکس اپنی بھرتیوں اور مالی وسائط کو برقرار رکھنے کے لیے خود حقیقت سے زیادہ حقیقت کے بارے میں لوگوں کے ادراک اور سوچ کو ڈھالنے پر وقت صرف کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، پاکستانی عسکریت پسند نیٹ ورکس نے اپنی غیر متوازن جنگ کے لیے ہائبرڈ وارفیئر (ترکیبی جنگ) کی حکمت عملیاں اپنانا شروع کر دی ہیں، جن میں عوام کی رائے کو متاثر کرنا اور ادراک کو شکل دینا ان کی دہشت گردانہ حملے کرنے کی صلاحیت کی طرح ہی اہم ہے۔ اس نقطہ نظر سے، تشدد ان متعدد حکمت عملیوں میں سے ایک ہے جو وہ اپنے سٹریٹجک اور نظریاتی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اسی طرح، اگرچہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کا بڑا حصہ اب بھی غیر قانونی سرگرمیوں جیسے کہ تاوان کے لیے اغوا، بینک ڈکیتیوں، بھتہ خوری اور سمگلنگ سے حاصل ہوتا ہے، لیکن اس کا ایک چھوٹا حصہ ان ڈیجیٹل ایپس میں بھی جڑیں پکڑ چکا ہے جو رقم منتقل کرنے اور وصول کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، داعش خراسان نے اپنی مختلف پروپیگنڈا مطبوعات میں منیرو اور ٹیتھر جیسی کرپٹو کرنسیوں میں عطیات وصول کرنے کے لیے کوڈز شیئر کیے ہیں۔ اسی طرح، ٹی ٹی پی بھی سمندر پار دیارِ غیر میں مقیم ہمدردوں سے کراؤڈ فنڈنگ (عوامی عطیات) جمع کرنے کے لیے ڈیجیٹل والٹس اور بائیننس و ٹورن جیسے اہم پلیٹ فارمز کا استعمال کرتی ہے۔ ان گروہوں کی ٹیلی گرام جیسی انکرپٹڈ میسجنگ ایپس پر کوڈز کے ذریعے عطیات کی اپیلیں سامنے آئی ہیں۔ ڈیجیٹل اثاثوں کی منتقلی ٹی ٹی پی اور داعش خراسان جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس کو سخت بین الاقوامی بینکنگ نگرانی اور روایتی حوالہ/ہنڈی کی ٹریکنگ سے بچ نکلنے میں مدد دیتی ہے۔ سماجی شعبے میں، ڈیجیٹل خواندگی اور تنقیدی سوچ کے ذریعے سائبر لچک اور بیداری پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ چیز صارفین کو معلومات کا زیادہ تنقیدی انداز میں جائزہ لینے کے قابل بنائے گی، خاص طور پر اس وقت جب وہ شدید خوشی یا غصے کی حالت میں ہوں۔ ایسی صورت حال میں، جذبات عقل و منطق پر غالب آ جاتے ہیں اور ہم چیزوں کو ظاہر کی بنیاد پر سچ مان لیتے ہیں، بالخصوص اگر وہ ہماری فکری سوچ اور نظریاتی تعصبات کے مطابق ہوں۔ ان ہتھکنڈوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا دہشت گرد نیٹ ورکس کی اس صلاحیت کے سامنے ایک مضبوط بند باندھ سکتا ہے جس کے ذریعے وہ متاثر کن افراد کے جذبات، ان میں تعلق کا احساس پیدا کرنے کی تڑپ اور زندگی میں مقصد کی تلاش کا استحصال کرتے ہیں۔ مصنف ایس راجاراتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ سوشل میڈیا عسکریت پسندی پروپیگنڈا پاکستان داعش خراسان نے اپنی مختلف پروپیگنڈا مطبوعات میں منیرو اور ٹیتھر جیسی کرپٹو کرنسیوں میں عطیات وصول کرنے کے لیے کوڈز شیئر کیے ہیں۔ عبدالباسط خان سوموار, ستمبر 21, 2026 – 08: 00 Main image:

سال 2004 میں اس وقت کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک شدت پسند شخص کی تصویر جو کیمرے سے چہرہ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے (ہارون رشید/انڈپینڈنٹ اردو)

ٹیکنالوجی type: news related nodes: دو صوبوں میں افغان طالبان کے حملے پروپیگنڈا: پاکستان فلمیں یا پروپیگنڈا؟ ایران پر ہالی وڈ کا سیاسی منظرنامہ فوج کے خلاف پروپیگنڈا ناقابل برداشت، پتہ لگا کر سر کچلنا ہوگا: وزیراعظم فائر وال سے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا نہیں روکا جا سکتا: پی ٹی اے SEO Title: پاکستان میں آن لائن شدت پسندی کے خطرات اور اس کا سدباب copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments