78.6 F
Pakistan
Saturday, September 5, 2026
HomeBusinessپاکستان روپے میں بانڈ کے اجرا، یوروبانڈ قرض کو ٹوکنائز کرنے کا...

پاکستان روپے میں بانڈ کے اجرا، یوروبانڈ قرض کو ٹوکنائز کرنے کا خواہاں

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعے کو کہا ہے کہ پاکستان روپے میں مالیت رکھنے والے ایسے بانڈ کے اجرا کا خواہاں ہے جس کی ادائیگی ڈالر میں ہو، جبکہ اپنے یوروبانڈ قرض کو ڈیجیٹل ٹوکن میں تبدیل کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے۔ حکومت پاکستان زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع سے فائدہ اٹھانے اور بیرونی فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک روز قبل ہی پاکستان کی وزارت خزانہ نے بین الاقوامی مارکیٹ میں یوروبانڈز کے اجرا کے ذریعے تین ارب ڈالر حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں پاکستان نے بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں سے فنڈز حاصل کرنے کے طریقوں کو متنوع بنانے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جن میں روپے میں مالیت رکھنے والے بانڈز بھی شامل ہیں، جیسا کہ حکومت سات ارب ڈالر کے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرض پروگرام کے تحت معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا: ’دو دیگر اقدامات بھی ہیں جنہیں ہم آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ ایک روپے میں مالیت رکھنے والا اور ڈالر میں سیٹل ہونے والا بانڈ ہے اور ہم نے پہلے ہی ایسے اداروں کو ذمہ داری سونپ دی ہے جو اس معاملے پر ہمارے ساتھ کام کریں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے موجودہ یوروبانڈ قرض کے کچھ حصے کو بھی ٹوکنائز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ٹوکنائزیشن سے مراد روایتی اثاثوں کی بلاک چین یا اسی نوعیت کے ڈسٹری بیوٹڈ لیجر انفرا سٹرکچر پر ڈیجیٹل نمائندگی تیار کرنا ہے، جس کے ذریعے مالیاتی اثاثوں کو ممکنہ طور پر ڈیجیٹل انداز میں جاری، خرید و فروخت اور سیٹل کیا جا سکتا ہے۔ رواں مالی سال میں 4 فیصد سے زائد معاشی شرح نمو کا ہدف پاکستان کی مجموعی معاشی صورت حال پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت رواں مالی سال کے دوران مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو چار فیصد سے زیادہ رکھنے کا ہدف رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 30 جون تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 18. 4 ارب ڈالر تھے اور حکومت مالی سال 2027 کے اختتام تک انہیں بڑھا کر 21 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتی ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس سطح پر پاکستان کے پاس تین ماہ سے کچھ زیادہ عرصے کی درآمدات کے لیے زرمبادلہ موجود ہوگا، جو عالمی سطح پر ایک اچھا معیار سمجھا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بعض بیرونی عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، جن میں سب سے اہم مشرق وسطیٰ میں جاری امریکہ اور ایران کی جنگ ہے۔ اس تنازعے کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے پاکستان جیسے ممالک متاثر ہو رہے ہیں جو اپنی ایندھن کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا: ’یہ تنازع اب بھی جاری ہے اور گورنر اور میں خود اس بات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ اس کے ہماری شرح نمو کے اندازوں اور مہنگائی کے تخمینوں پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔‘ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری محمد اورنگزیب نے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں (SOEs) کی نجکاری کے لیے حکومت کی جاری کوششوں پر بھی بات کی اور کہا کہ بعض ادارے ’قابل اصلاح نہیں رہے۔‘ اسلام آباد نے گذشتہ سال دسمبر میں قومی ایئرلائن کو عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کاروباری کنسورشیم کو فروخت کیا تھا۔ یہ اقدام ان سرکاری اداروں میں نجی انتظام متعارف کروانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ تھا جو کئی دہائیوں سے قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پاکستان نے اسی پروگرام کے تحت آنے والے مہینوں میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں آئیسکو (IESCO)، فیسکو (FESCO) اور گیپکو (GEPCO) کی نجکاری کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے 27 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کو فروخت کے لیے منتقل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’ہم نے انہیں بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ چاہے وہ یوٹیلیٹی سروسز کارپوریشن ہو، پاسکو (پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن) ہو یا پی ڈبلیو ڈی (پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ)، یہ مشکل فیصلے ہیں۔ لیکن ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔‘ اسلام آباد نے طویل مدتی مالیاتی اصلاحات متعارف کروانے کی کوششیں تیز کی ہیں۔ 2022 میں پاکستان ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے باعث ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان نے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت اشیائے خورونوش اور ایندھن پر دی جانے والی سبسڈیز ختم کیں، سرکاری اداروں کی نجکاری کی اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات متعارف کروائیں۔ معیشت نجکاری آئی ایم ایف ڈیجیٹل ادائیگیاں وزیرخزانہ کے بقول آنے والے مہینوں میں حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, ستمبر 5, 2026 – 08: 15 Main image:

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب 4 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ايشيائی ترقياتی بينک کے زير ابتمام پبلک پرائيویٹ پارٹنرشپ اور نجكاری سے متعلق قومى سٹرٹیجک مکالمے میں خطاب کر رہے ہیں(پی ٹی وی سکرین گریب)

معیشت type: news related nodes: پاکستان کا 5 اور 10 سالہ یوروبانڈ جاری کرنے کا عمل شروع پانڈا بانڈ کیا ہے اور پاکستان نے چین میں ان کا اجرا کیوں کیا؟ یورو بانڈ کیا ہے اور پاکستانی معیشت کے لیے کیوں اہم ہے؟ پاکستان میں قرضوں میں کمی کے لیے پھر سکوک بانڈز کا سہارا SEO Title: پاکستان روپے میں بانڈ کے اجرا، یوروبانڈ قرض کو ٹوکنائز کرنے کا خواہاں copyright: show related homepage: Show on Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments