69.7 F
Pakistan
Wednesday, October 21, 2026
HomeHealthپاکستان: خودکشیوں کی وجوہات، قانونی چیلنجز اور آگے کا راستہ

پاکستان: خودکشیوں کی وجوہات، قانونی چیلنجز اور آگے کا راستہ

خودکشی صحتِ عامہ کا ایک سنگین، پیچیدہ اور کثیر الجہتی مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں جانیں لے رہا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشرے میں یہ ناپسندیدہ عمل طویل عرصے سے خاموشی، بدنامی، مذہبی حساسیات اور شماریاتی ابہام میں لپٹا رہا ہے۔ اسلام آباد میں اسلامی انٹرنیشنل یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے گذشتہ دنوں خودکشی کے واقعے نے ایک مرتبہ پھر اس رجحان کی سنگینی کی جانب توجہ دلائی ہے۔ قومی سطح پر کسی جامع اور معیاری رجسٹریشن نظام (National Registry) کی عدم موجودگی کے باعث خودکشی کے واقعات کا ایک بڑا حصہ رپورٹ نہیں ہو پاتا۔ اس کے باوجود، دستیاب مطالعات اور عالمی اداروں کے تخمینے اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان میں خودکشی ایک قابلِ روک بحران ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ایک منظم اور سائنسی بنیاد پر قومی ردعمل کی شدید ضرورت ہے۔ شماریاتی حقائق پاکستان میں خودکشی سے متعلق اعداد و شمار میں شدید فرق پایا جاتا ہے، جو ڈیٹا جمع کرنے کے نظام میں موجود خلا کو ظاہر کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں سالانہ اموات کی تعداد تقریباً 13, 000 سے 19, 000 تک ہو سکتی ہے جبکہ خودکشی کی کوششوں کی تعداد سالانہ چار لاکھ تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ مختلف طبی و جائزہ شدہ (Peer-reviewed) مطالعات کے مطابق روزانہ 15 سے 53 افراد خودکشی کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اعداد و شمار کے باریک بینی سے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ متاثرین میں 30 سال سے کم عمر افراد اور نوجوان بالخصوص زیادہ شامل ہیں۔ پنجاب کے مختلف دیہی اضلاع میں کیے گئے ایک پانچ سالہ پوسٹ مارٹم مطالعے کے مطابق خودکشی کرنے والوں میں 64. 9 فیصد افراد کی عمریں 30 سال سے کم تھیں جبکہ مردوں اور خواتین کا تناسب تقریباً مساوی (1. 1: 1) ریکارڈ کیا گیا۔ خودکشی کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقوں میں زہر (بشمول کیڑے مار ادویات اور پیرا فینائلین ڈائیامین یعنی کالا پتھر)، پھانسی اور آتشیں اسلحہ کا استعمال سرفہرست ہیں۔ محرکات پاکستان میں خودکشی کے محرکات کسی واحد واقعے کی بجائے سماجی، معاشی، نفسیاتی اور خاندانی دباؤ کا مجموعہ ہوتے ہیں: 1. ذہنی صحت کا بوجھ اور علاج کا خلا: پاکستان میں ہر تین میں سے ایک شخص (34 فیصد) کسی نہ کسی نفسیاتی عارضے یا شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہے۔ تاہم، بنیادی ڈھانچے کی شدید عدم موجودگی کے باعث عام ذہنی عوارض میں مبتلا 90 فیصد سے زائد افراد علاج سے محروم رہتے ہیں۔ ملک میں ماہرینِ نفسیات (Psychiatrists) کی شرح فی 100, 000 آبادی صرف 0. 19 ہے، جو عالمی اوسط کے مقابلے میں انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) 2. سماجی و خاندانی تنازعات: پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کے ڈیٹا کے مطابق امدادی کالوں میں 48 فیصد کی بنیادی وجہ گھریلو تنازعات، ازدواجی ناچاقی اور خاندانی تشدد پر مبنی تھی۔ بالخصوص خواتین میں سسرالی دباؤ اور خاندانی تشدد خودکشی کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتے ہیں۔ 3. معاشی و تعلیمی دباؤ: نوجوانوں میں بے روزگاری، مالی مشکلات اور تعلیمی میدان میں ناکامی کا خوف شدید مایوسی پیدا کرتا ہے۔ نیشنل یوتھ ہیلپ لائن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 25 سال سے کم عمر افراد کی زیادہ تر کالیں نفسیاتی و معاشی مسائل اور تعلیمی دباؤ سے متعلق ہوتی ہیں۔ 4. میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ کوریج: خودکشی کے واقعات کی سنسنی خیز کوریج اور طریقوں کی تفصیلی وضاحت کمزور افراد میں ’خودکشی کے پھیلاؤ‘ (Contagion Effect) کا سبب بنتی ہے۔ اس کے برعکس اگر میڈیا بین الاقوامی اصولوں (WHO Guidelines) پر عمل کرتے ہوئے امید اور بحالی کی داستانیں پیش کرے تو ’پاپاگینو اثر‘ کے ذریعے خودکشی کے رجحان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ قانونی فریم ورک اور اصلاحاتی پیش رفت پاکستان میں خودکشی کی کوشش کو تاریخی طور پر تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی دفعہ 325 کے تحت قابلِ سزا جرم قرار دیا جاتا رہا ہے، جس کی سزا ایک سال قید یا جرمانہ تھی۔ اس قانون کی موجودگی کے باعث متاثرہ خاندان مجرمانہ کارروائی اور سماجی بدنامی کے خوف سے واقعات کو چھپانے پر مجبور ہوتے تھے۔ دسمبر 2022 میں ایک تاریخی قانون سازی کے ذریعے دفعہ 325 کو منسوخ کر کے خودکشی کی کوشش کو جرم کے زمرے سے نکال دیا گیا تاکہ اسے مجرمانہ عمل کی بجائے طبی و نفسیاتی مسئلہ سمجھا جائے۔ تاہم، مئی 2026 میں وفاقی شرعی عدالت کے ایک فیصلے کے ذریعے اس ترمیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قانون کو بحال کر دیا گیا، جسے بعد ازاں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ یہ قانونی اتار چڑھاؤ اور نافذ العمل طریقہ کار میں تعطل، بین الاقوامی معیارات اور عالمی ادارہ صحت کی ان سفارشات کے منافی ہے جو خودکشی کے خاتمے کے لیے اسے غیر مجرمانہ قرار دینے کی تاکید کرتی ہیں۔ علاج و تدارک کی تدابیر اس بحران سے نمٹنے کے لیے متعدد سطحی اقدامات شروع کیے گئے ہیں جو ایک امید افزا سمت کی نشاندہی کرتے ہیں: ● ہیلپ لائنز: پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی ہیلپ لائن (15 کے ذریعے ماہرِ نفسیات کی سہولت) نے شدید ذہنی دباؤ کے شکار ہزاروں افراد میں سے 98 فیصد کی بروقت مدد کر کے جانیں بظاہر بچائی ہیں۔ اسی طرح HEC اور UNFPA کی ‘نیشنل یوتھ ہیلپ لائن’ اور سندھ میں ‘ٹیلی طبیب (1123)’ جیسی خدمات فوری نفسیاتی مدد فراہم کر رہی ہیں۔ ● پالیسیاں اور فریم ورک: سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز (SIEHS) نے ’ٹاک دی ہوپ‘ جیسے اقدامات کے تحت متعدد اداروں کو ملا کر تھرپارکر، بدین اور سانگھڑ جیسے حساس اضلاع کے لیے روڈ میپ تشکیل دیا ہے۔ ● بنیادی صحت میں انضمام: عالمی ادارہ صحت کے ‘mhGAP’ پروگرام کے ذریعے بنیادی صحت کے معالجین (PCPs) کو ابتدائی تشخیصی تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ماہرین کی کمی کا ازالہ کیا جا سکے۔ مستقبل کی حکمت عملی پاکستان میں خودکشی کے تدارک کے لیے درج ذیل اقدامات کا فوری نفاذ ضروری ہے: 1. قومی رجسٹری: شفاف اور درست اعداد و شمار کی جمع آوری کے لیے ایک مرکزی قومی ڈیٹا بیس قائم کیا جائے۔ 2. قومی حکمتِ عملی کا قیام: بین الصوبائی ہم آہنگی اور مخصوص فنڈنگ کے ساتھ قومی خودکشی انسداد پالیسی نافذ کی جائے۔ 3. مہلک اشیا تک رسائی پر پابندی: کالا پتھر اور زہریلی کیڑے مار ادویات کی کھلے عام فروخت پر سخت قانونی ضوابط نافذ کیے جائیں۔ 4. قانونی و سماجی اصلاحات: قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت کے ساتھ ساتھ خودکشی کو جرم کے بجائے طبی ایمرجنسی کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ 5. تعلیمی اداروں میں گیٹ کیپر تربیت: سکولوں اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ اور مشیروں کو ذہنی صحت کی ابتدائی علامتوں کو پہچاننے کی تربیت دی جائے۔ پاکستان میں خودکشی ایک ایسا سنگین چیلنج ہے جسے صرف قانونی یا اخلاقی نقطہ نظر سے دیکھنا ناکافی ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک قابلِ علاج صحتِ عامہ کا بحران ہے۔ اگر سیاسی عزم، باضابطہ قومی پالیسی، سائنسی تحقیق اور سماجی رویوں میں مثبت تبدیلی کو یکجا کیا جائے تو ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ مصنف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈی جی ہیں جو آئی جی پنجاب اور خیبر پختونخوا بھی رہ چکے ہیں۔ اب وہ کراچی کی ایک لا یونیورسٹی میں وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ خودکشی پاکستان نوجوان ذہنی صحت ذہنی دباؤ پاکستان میں خودکشی ایک ایسا سنگین چیلنج ہے جسے صرف قانونی یا اخلاقی نقطہ نظر سے دیکھنا ناکافی ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک قابلِ علاج صحتِ عامہ کا بحران ہے۔ ثنا اللہ عباسی بدھ, اکتوبر 21, 2026 – 06: 30 Main image: نئی نسل type: news related nodes: ’غلطی میری تھی، بیٹی کی نہیں‘: لائبہ مبینہ فراڈ کا شکار کیسے ہوئی؟ میرا بیٹا میر رضا کسی صورت خودکشی نہیں کر سکتا: والد مشرق وسطیٰ تعیناتی: ’امریکی بحریہ کے 8 اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی‘ کاش کسی نے لائبہ کی بات سنی ہوتی SEO Title: پاکستان: خودکشیوں کی وجوہات، قانونی چیلنجز اور آگے کا راستہ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments