پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ سال مئی میں ہونے والی فضائی جنگ کے دوران لاہور کے قریب واقع سرحدی گاؤں واہگہ کے لوگ انڈیا کی طرف سے آنے والے ڈرون پکڑ کر کباڑیوں کو لوہے کے بھاؤ فروخت کرتے رہے۔ آج اس لڑائی کو سال مکمل ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے لیکن اس گاؤں میں زندگی معمول کی رفتار سے چل رہی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستانی پنجاب میں انڈیا کے ساتھ ملنے والی500 کلومیٹر سے زائد طویل سرحد کے ساتھ تقریباً 200 گاؤں آباد ہیں۔ سرحدی اضلاع میں سیالکوٹ، نارووال، لاہور، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر اور رحیم یار خان شامل ہیں۔ 1947 کے بعد سے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات کم ہی خوشگوار رہے ہیں۔ تین باقاعدہ جنگیں لڑی جا چکی ہیں، جبکہ سیز فائر کی خلاف ورزیاں معمول کا حصہ رہی ہیں۔ مئی 2025 میں انڈیا نے پہلے فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستان فضائیہ نے پڑوسی ملک کے جدید رافیل جنگی طیارے سمیت متعدد طیارے مار گرائے اور پھر انڈیا کے دفاعی نظام اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ ’جنگ لگی ہی نہیں‘ انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے واہگہ کا دورہ کیا تو رہائشی اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف دکھائی دیے۔ مسجد میں خدمات انجام دینے والے مبارک علی نے بتایا کہ پہلے کی جنگوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا تھا لیکن گذشتہ سال مئی کی جنگ میں پاکستان فوج خود گاؤں میں موجود تھی۔ انہوں نے کہا ’مسجد سے اعلانات ہوتے تھے کہ رات کو لائٹ بجھا دیں اور چھتوں پر نہ چڑھیں۔ ’جو ڈرون انڈیا کی طرف سے آئے، وہ بی آر بی نہر کے قریب سے لوگ پکڑ کر لوہے کے بھاؤ کباڑیوں کو بیچ دیتے تھے۔‘ 82 سالہ محمد یونس، جنہوں نے 1965 کی جنگ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھی، نے بتایا کہ اس وقت انڈین فوج واہگہ اور مانواں تک پہنچ گئی تھی لیکن پاکستان فوج نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ ’وہ جنگ واقعی بڑی جنگ تھی جس میں ہر پاکستانی نے نعرے لگاتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’لیکن پچھلے سال کی جنگ میں یہاں کوئی خطرناک صورت حال نہیں تھی بلکہ ہمیں تو لگا ہی نہیں کہ کوئی جنگ ہے۔‘ لکڑی کا کام کرنے والے دانش نے بتایا کہ جنگ کے دوران گاؤں میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ صرف رات کو لائٹس بند کرائی جاتی تھیں اور چھتوں پر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ’مرد گاؤں میں رہے، خواتین کو شہر بھیجا‘ محمد الیاس نے بتایا کہ جب ڈرون آئے تو خواتین خوف زدہ ہو گئیں، اس لیے انہیں لاہور میں رشتہ داروں کے گھر بھیج دیا گیا، لیکن گاؤں کے مرد ڈٹے رہے۔ ’ہم انڈیا سے نہیں ڈرتے۔ بارڈر پر فوج موجود ہے۔ پہلے بھی انہوں نے ہمارا تحفظ کیا اور اب بھی ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ البتہ حالات کشیدہ ہیں اور جنگ کا دوبارہ خدشہ تو ہے۔‘ جنگ بندی، لیکن کشیدگی برقرار انڈیا نے اس جنگ کو آپریشن سندور کا نام دیا اور مریدکے و بہاولپور میں حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے تحت جوابی کارروائی کی۔ جنگ بندی تو ہو گئی لیکن دونوں ممالک کے درمیان سرحد اور فضائی حدود ابھی تک بند ہیں۔ لاپور واہگہ انڈیا پاکستان بھارت کشیدگی معرکہ حق بنیان مرصوص واہگہ گاؤں کے ایک رہائشی نے بتایا کہ ’پچھلے سال کی جنگ میں یہاں کوئی خطرناک صورت حال نہیں تھی بلکہ ہمیں تو لگا ہی نہیں کہ کوئی جنگ ہے۔‘ ارشد چوہدری ہفتہ, مئی 9, 2026 – 09: 45 Main image:
عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص میں فتح اول میزائل استعمال کیے (سکیورٹی ذرائع)
پاکستان jw id: r6FFBbGv type: video related nodes: معرکہ حق میں پاکستانی فضائیہ کے کردار سے دنیا حیران: وزیراعظم پاکستان نے انڈیا کے خلاف فوجی آپریشن کا نام ’بنیان مرصوص‘ کیوں رکھا؟ چینی ٹیکنالوجی بمقابلہ یورپین ٹیکنالوجی: ’رفال گرانے والا‘ جی 10 سی انڈیا کے رفال ہمارے شاہینوں کے نشانے پر آئے اور فیل ہوگئے: وزیراعظم پاکستان SEO Title: پاکستان انڈیا جنگ کا ایک سال: ’واہگہ کے لوگ انڈین ڈرون کباڑ میں بیچتے رہے‘ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



