گرمی کے موسم میں ہر کوئی دھوپ اور تپش سے بچنے کے لیے ٹھنڈی لسی پینا پسند کرتا ہے۔ لسی پینے سے جسم میں پانی کی کمی تو پوری ہوتی ہے، لیکن بہت سے لوگوں کے ساتھ یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ ٹھنڈی لسی پیتے ہی ان کا پیٹ پھول جاتا ہے، گیس بن جاتی ہے اور بھاری پن محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کے اندرونی درجہ حرارت اور اچانک ٹھنڈے مشروب کے درمیان فرق نظامِ ہضم پر اثر ڈالتا ہے۔ ’پروبائیوٹکس اینڈ اینٹی مائیکرو بیل پروٹینز’ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ جسم کے اندر اچانک سرد درجہ حرارت کا پہنچنا معدہ خالی ہونے کے عمل کو سست کر سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ خوراک ہاضمے کے نظام سے زیادہ سست رفتاری سے گزرتی ہے۔ اس اچانک لگنے والے ٹھنڈے جھٹکے کی وجہ سے ہمارے پیٹ کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں اور کھانا ہضم ہونے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔ ۔ جب کھانا آہستہ ہضم ہوتا ہے تو پیٹ میں گیس پھنس جاتی ہے اور اگر لسی خالی پیٹ پی جائے تو حالت اور زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لسی میں ڈالی گئی چینی خون میں شوگر کی مقدار کو بھی فوراً بڑھا دیتی ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ٹھنڈی لسی پیٹ پھولنے کا سبب بن رہی ہے، تو آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟ ایک اور بڑی وجہ دودھ اور دہی میں پائی جانے والی ایک قدرتی چیز ہے جسے لیکٹوز کہتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کا معدہ دودھ یا دہی کو ہضم نہیں کر پاتا۔ جب یہ لسی پیٹ میں جاتی ہے تو ہضم نہ ہونے کی وجہ سے وہاں سڑنے لگتی ہے، جس سے پیٹ میں مروڑ، گیس اور بھاری پن شروع ہو جاتا ہے۔ انٹرنیشنل ڈیری جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ بالغ آبادی کا تقریباً 70 فیصد حصہ ڈیری (دودھ کی مصنوعات) کو مؤثر طریقے سے ہضم کرنے کے قابل نہیں ہے اور وہ معدے کی علامات کا شکار ہو سکتے ہیں، جو بے سکونی کا سبب بن سکتی ہیں۔ ویسے تو لسی صحت کے لیے اور معدے کے لیے بہت اچھی مانی جاتی ہے کیونکہ اس میں ایسے اچھے جراثیم یعنی پروبائیوٹکس ہوتے ہیں جو ہاضمے کو درست رکھتے ہیں۔ لیکن خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب ہم بہت زیادہ ٹھنڈی لسی، بہت زیادہ مقدار میں یا غلط وقت پر پی لیتے ہیں۔ خاص طور پر جب لسی بھاری کھانے کے فوراً بعد پی جائے، یا شام کے وقت دیر سے پی جائے تو معدہ پہلے ہی تھکا ہوا ہوتا ہے اور لسی ہضم نہیں ہو پاتی۔ دودھ یا دہی سے بنی چیزیں کھانے کے آدھے گھنٹے سے لے کر دو گھنٹے کے اندر اندر اگر پیٹ میں گیس بن جائے یا پیٹ پھول جائے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ آپ کا جسم دودھ اور دہی کو ہضم نہیں کر پا رہا۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ اگر آپ لسی کے فائدے اٹھانا چاہتے ہیں اور پیٹ کی خرابی سے بھی بچنا چاہتے ہیں تو لسی کو بہت زیادہ ٹھنڈا یا برف والا نہ بنائیں۔ لسی عام درجہ حرارت پر ہونی چاہیے تاکہ پیٹ کو ٹھنڈا جھٹکا نہ لگے۔ لسی ہمیشہ کم مقدار میں پییں، اس میں چینی کم رکھیں اور ہاضمے کو اچھا کرنے کے لیے اس میں پودینہ یا بھنا ہوا زیرہ ملا لیں۔ جن لوگوں کا ہاضمہ بہت زیادہ حساس ہے، وہ لسی کی جگہ پتلی چھاچھ کا استعمال کر سکتے ہیں تاکہ گرمی بھی دور ہو جائے اور پیٹ بھی خراب نہ ہو۔



