مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 123وقت مقررہ پر جہاز نے اُڑان بھری اور ہُوا خلاء کے دوش پر سوار۔ بمشکل ایک گھنٹہ گذرا ہوگا کہ میزبان پُر تکلف کھانے کے ساتھ حاضر ہوئیں اور پیٹ پوجا شروع ہوئی۔ اور اس سے جو خمار اُٹھا تو ہوئیں اکثر کی آنکھیں بوجھل بوجھل اور پھر نیند کے تابڑ توڑ حملے، کوئی بچ گیا کوئی رَوندا گیا۔ آخر ڈیڑھ بجے رات اُڑان نے پر تولے اور کی زمان و مکاں سے شناسائی اور پھر مدینہ منورہ ائیرپورٹ سے کی ہمنوائی۔ائیرپورٹ لاؤنج میں آئے تو ایک ایجنٹ نے کیا ہم 7 سواریوں کا گھیراؤ۔ پاسپورٹ دیکھے اور باہر لے گیا۔ وہاں کھڑی ایک جہازی سائز کی بس اور سواریاں صرف 7 یعنی ہاتھی کے منہ میں زیرہ۔ بس فراٹے بھرتی جا پہنچی جہاں ہوٹل میں کمرہ نمبر 310 پہلے سے الاٹ تھا۔ ہوٹل جگمگ کرتا دن کا سا سماں پیش کر رہا تھا۔ ندیم اور اُس کی بیگم ثمینہ بچّوں کے ساتھ کھانا لے کر ہوٹل آئے اور ساتھ عائشہ کا خاوند بھی تھا۔ کھانا کھایا اور وہ کچھ دیر ٹھہرے اور پھر عائشہ کو لے گئے اور ہم دونوں نے بستر سنبھالے اور سو گئے۔اگلے دن 6: 30 بجے صبح اُٹھ کر غسل کیا اور مسجد نبویؐ کی طرف درودُ و سلام پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے۔ لوگوں کا ایک ہجوم، ایک شخص نے رہنمائی کی کہ نماز کے بعد ہم (میاں بیوی) کس جگہ ملیں کہ مردوں اور عورتوں کے حصّے بالکل علیٰحدہ علیٰحدہ ہیں۔سعودی حکومت کی مسجد نبوی میں بڑی فراخدلانہ توسیع، خوبصورتی کو چار چاند لگانے کے لیے بہترین میٹریل کا استعمال، سبحان اللہ پہلی ہی نگاہ سے نووارد گنبد خضریٰ کی ہیبت اور مسجد کی بدرجہ اُتم خوبصورتی کو دیکھ کر کچھ کھو کھو سا جائے اور ایسے میں سب کچھ پا جائے۔فجر کی نماز با جماعت ادا کی اور دروُد و سلام پڑھتے ہوئے واپس ہوٹل کی طرف چل دئیے۔ راستے میں 150 ریال کی موبائل میں سِم ڈلوائی کہ سب سے رابطہ کرنے میں سہولت ہو۔دوپہر کا کھانا کھا کر درود و سلام پڑھتے پھر مسجد نبوی صلى الله عليه وسلم کی طرف چل دئیے۔ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا وہاں بیس کے قریب کلاسیں جاری و ساری ہیں۔ کچھ بلیک بورڈ پر بچّوں کی، کچھ جوانوں کی، کچھ بڑوں کے لیے علماء کے لیکچرز، یہاں بچّوں کے باقاعدہ امتحان ہوتے ہیں اور سرٹیفکیٹ دئیے جاتے ہیں اور آگے ہائی سکول اور کالج میں داخلہ لیتے ہیں۔ مغرب کی نماز سے آدھ گھنٹہ پہلے ایک دعوت عام کا اہتمام کیا گیا۔ مغرب کی نماز کے بعد ریاض الجنّہ کی طرف جانے کی کوشش کی لیکن بے پناہ رش۔ باہر ایرانی لوگوں کی نقل و حرکت ایک منظم طریقہ کار کے تحت ایک شخص پلے کارڈ اُٹھائے سب سے آگے آگے چلے۔ 16-4-2014. .. .. . نماز فجر کے لیے درود و سلام پڑھتے علی الصبح ہوٹل سے مسجد نبوی ؐ کے لیے روانگی، 3 نمازیں فجر، ظہر، عصر ادا کرنے کے بعد ہوٹل واپسی اور پھر دوبارہ جا کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کر کے واپس آئے۔ چونکہ رش بڑھ گیا تھا لہٰذا مسجد کے صحن میں قالین بچھا کر جگہ بنائی گئی۔ ندیم اور اُس کی بیگم ثمینہ کھانا لے کر آئے تو وہاں کپڑا بچھا کر کھانا کھایا اور پھر واپس ہوٹل آئے۔17-4-2014. .. .. . صبح کینیڈا سے احمد ندیم کے فون نے جگا دیا، پھر Straberry اور سلائس کھا کر نیچے ہوٹل سے جا کر چائے پی۔ مسجد نبوی ؐ میں ظہر، عصر اور پھر مغرب کی نمازیں پڑھیں اور روضہ رسول صلى الله عليه وسلم کی زیارت بھی کی۔ عاشقان رسول صلى الله عليه وسلم کا بے پناہ رش۔ عشاء کی نماز کے بعد ندیم فیملی نے رابطہ کیا۔ ندیم کی بیگم ثمینہ میری بیگم طاہرہ یاسمین کو ساتھ لے گئیں اور روضہ رسول صلى الله عليه وسلم کی زیارت کروائی۔ ندیم کھانا لایا تھا۔ وہاں پر ہی ایک جگہ کپڑا بچھا کر کھانا کھایا اور ہوٹل کی راہ لی۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ خوشگوار رابطے کالج لائف سے لیکر آج تک قائم دائم ہیں، سمندری جہاز کے ذریعے منوڑہ کی سیر کروائی، ایک دوسرے کے گھروں میں قیام ہوتا رہا
وقت مقررہ پر جہاز نے اُڑان بھری اور ہُوا خلاء کے دوش پر سوار۔آنکھیں بوجھل بوجھل اور پھر نیند کے تابڑ توڑ حملے، کوئی بچ گیا کوئی رَوندا گیا
RELATED ARTICLES



