79.7 F
Pakistan
Monday, October 5, 2026
HomeBreaking Newsواٹس ایپ اور ٹیلیگرام کے جعلی لنکس: یو اے ای صارفین پر...

واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کے جعلی لنکس: یو اے ای صارفین پر سائبر حملے کا الرٹ

متحدہ عرب امارات میں سائبر سیکیورٹی ماہرین نے شہریوں اور رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور دیگر غیر سرکاری ذرائع سے موبائل ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں، کیونکہ ایسے لنکس کے ذریعے موبائل فون میں نقصان دہ سافٹ ویئر داخل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق ٹیک ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں موبائل ایپلی کیشنز کے استعمال اور ڈاؤن لوڈ کا حجم بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے یہ خطہ ایسے سائبر حملہ آوروں کے لیے بھی اہم ہدف بن گیا ہے جو بظاہر عام اور قابلِ اعتماد ایپلی کیشنز کے نام پر نقصان دہ پروگرام پھیلاسکتے ہیں۔ گیسک گلوبل 2026 کے موقع پر ’پروٹیکٹ ڈاٹ اے آئی‘ کے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے سربراہ پشکر سنگھ نے کہا کہ صارفین کو موبائل ایپس ہمیشہ ان کے سرکاری پلیٹ فارم سے ہی ڈاؤن لوڈ کرنی چاہییں۔ اینڈرائیڈ فون استعمال کرنے والوں کے لیے گوگل پلے اسٹور اور آئی فون صارفین کے لیے ایپل ایپ اسٹور نسبتاً محفوظ اور مستند ذریعہ ہیں۔ ماہر کے مطابق واٹس ایپ، ٹیلیگرام یا دیگر غیر رسمی ذرائع سے شیئر کی جانے والی ایپلی کیشنز میں بعض اوقات اصل پروگرام میں تبدیلی کرکے اس میں نقصان دہ کوڈ شامل کیا جاتا ہے۔ صارف کو بظاہر ایک عام ایپ نظر آتی ہے، لیکن اسے انسٹال کرنے کے بعد وہ موبائل یا اس میں موجود معلومات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض ادارے ایسے حفاظتی نظام استعمال کر رہے ہیں جو مشکوک یا تبدیل شدہ ایپلی کیشنز کو شناخت کرکے انہیں کام کرنے سے روک سکتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی ملازم غلطی سے ایسی ایپ انسٹال بھی کر لے تو وہ ادارے کے نظام اور حساس معلومات تک رسائی حاصل نہ کرسکے۔ ماہرین نے صرف جعلی ایپس ہی نہیں بلکہ اے آئی کے ذریعے ہونے والے فراڈ میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ پشکر سنگھ کے مطابق اے آئی کی مدد سے کسی شخص کی آواز اور ویڈیو کی نقل تیار کرنا پہلے کے مقابلے میں آسان ہوگیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے فراڈ کرنے والے کسی معروف شخص یا افسر کی نقل بنا کر متاثرہ فرد کو رقم منتقل کرنے یا کسی حساس کارروائی کی اجازت دینے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو ویڈیو کال یا فون کال پر کوئی ایسا فرد نظر آئے یا سنائی دے جسے وہ جانتا ہے، تب بھی صرف آواز یا چہرے کی بنیاد پر مالی لین دین کی تصدیق کرنا محفوظ طریقہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ کسی بھی مشکوک درخواست کی تصدیق کسی دوسرے قابلِ اعتماد ذریعے سے کرنا ضروری ہے۔ ماہرین نے وی پی این اور پراکسی سروسز کے غیر ضروری یا غیر محتاط استعمال کے بارے میں بھی خبردار کیا۔ ان کے مطابق صارفین کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا انٹرنیٹ ٹریفک کس راستے سے گزر رہا ہے، کیونکہ غیر محفوظ راستوں سے گزرنے والا ڈیٹا حملہ آوروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یو اے ای اور خلیجی ممالک میں فِن ٹیک، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور اے آئی پر مبنی مالی خدمات میں تیزی سے اضافہ بھی سائبر سیکیورٹی کی اہمیت بڑھا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب خطرات صرف روایتی کمپیوٹر سسٹمز تک محدود نہیں رہے بلکہ موبائل فون، ڈیجیٹل ادائیگیوں، مصنوعی ذہانت کے نظام اور کمپنیوں کے شراکت دار اداروں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ ’گیسک گلوبل 2026‘ میں سائبر سیکیورٹی سے متعلق ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت نے سائبر حملوں کی رفتار اور پیچیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ ڈیپ فیک فراڈ، جعلی شناخت، اے آئی کی مدد سے سماجی انجینئرنگ، ڈیٹا چوری اور اے آئی ماڈلز میں مداخلت جیسے خطرات اب اداروں کے لیے اہم چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ چی پی ایکس کے چیف ایگزیکٹو ہادی انور کے مطابق سائبر سیکیورٹی اب صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ کاروباری انتظام اور ادارہ جاتی نگرانی کا بھی اہم حصہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق کمپنیوں کو اے آئی کے استعمال کے پورے عمل، تیسرے فریق کے ماڈلز اور ڈیجیٹل سپلائی چین کی سیکیورٹی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ دوسری جانب ’گروپ۔آئی بی‘ کے نائب صدر اشرف کوہیل نے بتایا کہ 2025 میں خلیجی ممالک دنیا میں سپلائی چین حملوں کے لیے سب سے زیادہ ہدف بننے والے 10 خطوں میں شامل تھے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے مالیاتی شعبے کو نشانہ بنانے والے فشنگ حملوں میں سے 28. 5 فیصد حملے خطے سے متعلق تھے۔ ماہرین کے مطابق سائبر خطرہ اب کسی ایک کمپنی کے کمپیوٹر سسٹم تک محدود نہیں رہتا۔ کمپنی کے سپلائرز، فِن ٹیک شراکت دار، ادائیگی فراہم کرنے والے ادارے اور دیگر بیرونی سروسز بھی حملہ آوروں کے لیے ممکنہ راستہ بن سکتے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کی بنیادی ہدایت یہ ہے کہ صارفین واٹس ایپ یا ٹیلیگرام پر موصول ہونے والے نامعلوم ایپ لنکس پر کلک کرکے ایپ انسٹال نہ کریں، کسی مشکوک کال پر مالی لین دین کی منظوری نہ دیں اور ایپلی کیشنز ہمیشہ سرکاری ایپ اسٹور سے حاصل کریں۔ کمپنیوں کو بھی صارفین کی غلطی کے باوجود نقصان دہ پروگراموں کو نظام میں فعال ہونے سے روکنے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments