سیاست میں کبھی بھی دوستی یا دشمنی مستقل نہیں ہوتی کل کے حریف حلیف بن جاتے ہیں اور کل کے ہی حلیف حریف بن جاتے ہیں کیونکہ سیاستدانوں کو صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں ماضی کے جھروکوں کو ٹٹولتے ہیں ابھی 6 سال کی ہی بات ہے جب 2020 میں تحریک انصاف کےخلاف پی ڈی ایم وجود میں آیا تو نواز شریف نے سربراہی کےلئے مولانا فضل الرحمان کا نام تجویز کیا تھاآج کے پی. .. ۔
نیرو تو آج بھی بانسری بجا رہا ہے
RELATED ARTICLES



