امریکی شہری جے میلون نیویارک کے علاقے ہیمنڈز پورٹ کے ایک بار میں بیٹھے ٹی وی پر فٹ بال میچ دیکھ رہے تھے کہ برابر میں بیٹھے دو جوڑوں سے ان کی بات چیت شروع ہو گئی۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ ’فٹ بال‘ کیوں دیکھ رہے ہیں۔ ٹی جے میلون نے بتایا کہ وہ اس سال کے آخر میں پرتگال منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کھیل کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ جب انہوں نے پرتگال منتقل ہونے کی وجوہات بتائیں، جن میں ایک وجہ وہاں برف باری نہ ہونا تھی اور دوسری یہ کہ وہ میگا (میک امریکہ گریٹ اگین)، آئی سی ای (امریکن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) اور ٹرمپ سے ہزاروں میل دور ہے، تو گفتگو کا رخ بدل گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں آپ کو بتاؤں، وہاں بالکل خاموشی چھا گئی۔‘ بار میں موجود ان کے ساتھی گاہک آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے، جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہوں۔ چنانچہ میلون نے اپنی بیئر ختم کی اور وہاں سے چلے گئے۔ وہ کہتے ہیں: ’اس وقت میری نظر میں ٹرمپ اس پھوڑے کا سر ہیں، لیکن اس پھوڑے کے نیچے اتنی زیادہ پیپ بھری ہوئی ہے کہ امریکہ کا مستقبل سخت سوالوں کی زد میں ہے۔‘ میلون اگلے ماہ 79 برس کے ہو جائیں گے۔ وہ کبھی بیرون ملک نہیں رہے، لیکن اکتوبر میں وہ پرتگال کے علاقے الگاروو روانہ ہو جائیں گے اور غالب امکان ہے کہ پھر کبھی رہنے کے لیے امریکہ واپس نہیں آئیں گے۔ اور وہ اکیلے نہیں ہیں۔ درحقیقت، اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی اتنی بڑی تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہیں جتنی 1930 کی دہائی کے عظیم معاشی بحران کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔ امیگریشن کے خلاف سخت کارروائیوں اور شہریوں میں کسی دوسرے ملک جا کر زندگی گزارنے کی بڑھتی خواہش کے باعث اندازہ ہے کہ 2025 میں امریکہ سے جانے والوں کی تعداد وہاں آنے والوں سے ایک لاکھ 50 ہزار زیادہ رہی۔ 1930 کی دہائی کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب امریکہ آنے والوں کے مقابلے میں ملک چھوڑنے والوں کی تعداد زیادہ رہی۔ امریکہ کے سرکاری اعداد و شمار میں موجود خامیوں کے باعث درست تعداد معلوم کرنا مشکل ہے، تاہم عوامی پالیسی کے تحقیقی ادارے بروکنگز انسٹی ٹیوشن کا اندازہ ہے کہ 2025 میں امریکہ آنے والوں میں سے ملک چھوڑنے والوں کی تعداد نکالنے کے بعد، یہ کمی 10 ہزار سے دو لاکھ 95 ہزار تک ہو گی۔ اس کا درمیانی اندازہ ایک لاکھ 50 ہزار بنتا ہے۔ مزید یہ کہ 2009 سے پہلے ہر سال 200 سے 400 امریکی اپنی شہریت چھوڑتے تھے، لیکن 2025 تک یہ تعداد بڑھ کر تقریباً پانچ ہزار ہو گئی۔ امریکہ کی آزادی کے 250ویں سال میں کیا امریکی خواب بکھر رہا ہے؟ جو ملک کبھی اپنے وسیع مواقع کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، اب ایسی جگہ محسوس ہوتا ہے جہاں لالچ، تقسیم اور لوگوں کے مفاد پر منافع کو ترجیح دینے کی نہ ختم ہونے والی دوڑ جیسی بدترین زیادتیوں نے ان اصولوں کو دبا دیا ہے جن پر یہ ملک قائم ہوا تھا۔ اس کے علاوہ وہاں کی جنون کی حد تک پہنچی ہوئی سیاست بھی آئے دن خبروں پر چھائی رہتی ہے۔ تو اب امریکہ کا مستقبل کیا ہے؟ میلون وسطی نیویارک ریاست کے شہر ایلمائرا میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ انہوں نے پہلی بار 2024 میں پرتگال کا دورہ کیا اور کرائے کی گاڑی میں اکیلے پورا ملک گھومتے رہے۔ اگرچہ اس سفر میں انہیں کئی مشکلات پیش آئیں، جیسے جی پی ایس کا قابل اعتماد نہ ہونا، لیکن ایک واقعے نے پرتگال منتقل ہونے کے ان کے فیصلے کو پکا کر دیا۔ لزبن میں ایک شام بارش ہو رہی تھی اور اندھیرا چھا چکا تھا کہ انہیں احساس ہوا کہ وہ راستہ بھول گئے ہیں۔ چالیس کے پیٹے میں ایک خاتون ان کی مدد کے لیے رکیں اور انہیں اپنی گاڑی میں ان کی منزل تک پہنچانے کی پیش کش کی۔ وہ کہتے ہیں، ’امریکہ میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ کوئی اکیلی خاتون مجھے اپنی گاڑی میں بٹھانے کی پیش کش نہیں کرے گی۔‘ میلون کو ریٹائر ہوئے تقریباً 14 برس ہو چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ پانچ سال پہلے چل بسی تھیں۔ ان کے دونوں بچے بڑے ہو چکے ہیں، شادی شدہ ہیں اور ان کا اپنے بچے پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘اب پوتے پوتیوں یا نواسے نواسیوں کی آمد کا کوئی امکان نہیں۔ مجھے ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی انہیں میری فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ’ہم تقریباً ہر ہفتے زوم پر بات کرتے ہیں اور آمنے سامنے شاید سال میں صرف ایک یا دو بار ملتے ہیں، اس لیے میرے خیال میں پرتگال سے زوم پر بات کرنا زیادہ مختلف نہیں ہو گا۔‘ میلون کہتے ہیں کہ وہ خوش قسمت تھے کہ 1950 اور 1960 کی دہائی میں امریکہ میں پلے بڑھے۔ ان کے بقول وہ ایک مختلف دور اور مختلف جگہ تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت امریکہ میں پروان چڑھنا بہت مشکل ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں بہت زیادہ بندوقیں ہیں، سیاست خراب ہے اور تعلیمی نظام بچوں کو اچھی تعلیم دینے میں بری طرح ناکام ہو رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑتے رہیں گے۔ میں یہ بکواس مزید برداشت نہیں کرنا چاہتا۔‘ سویڈن سے پرتگال منتقل ہونے والی ایلیس سلوٹے واو گائیڈ پرتگال چلاتی ہیں۔ یہ کمپنی پرتگال منتقل ہونے والے غیر ملکیوں کو مختلف خدمات اور وہاں آباد ہونے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ ان کے زیادہ تر گاہک امریکی ہیں۔ سلوٹے نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’میرے تقریباً تمام گاہک یا تو ہم جنس پرست ہیں، یا یہودی، یا دونوں۔ اس سے بہت کچھ ظاہر ہوتا ہے، کیوں کہ ان گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اب امریکہ میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 جنوری، 2026 کو مشی گن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے (اے ایف پی) ’کسی بھی وجہ سے اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا افسوس ناک ہے، لیکن مجھے خاص طور پر یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ 2026 میں ان گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنا ہی ملک چھوڑ رہے ہیں۔ وہ سب سے پہلے محفوظ جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بہتر معیار زندگی اور بہتر خوراک کی خواہش آتی ہے۔‘ ہیدر گرین ورجینیا میں پلی بڑھیں اور کینٹکی میں بھی رہیں، لیکن بعد میں اپنے خاندان کے ساتھ پرتگال منتقل ہو گئیں۔ وہ پورٹو کے شمال میں واقع شہر براگا میں رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرا تعلق جنریشن ایکس سے ہے۔ اگست میں میری عمر 47 برس ہو جائے گی اور میرا خیال ہے کہ شاید ہم آخری نسل ہیں جو واقعی امریکی خواب پورا کرنے میں کامیاب ہو سکی۔ ’میرے بہت سے ہم عمروں اور میں نے محنت کی، مشکلات برداشت کیں، آگے بڑھتے رہے اور آخرکار منزل تک پہنچ گئے۔ لیکن پیچھے مڑ کر دیکھیں تو سوچتے ہیں کہ کیا یہ سب اس کے قابل تھا؟ وہ سب کچھ جو آپ نے قربان کیا، وہ سب کچھ جو آپ نے چھوڑ دیا۔ ہمارے جسم بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں اور ذہن بھی۔‘ گرین کہتی ہیں کہ وہ بیرون ملک منتقل ہونے کے خواہش مند امریکیوں سے بار بار سنتی ہیں کہ وہ کس قدر تھک چکے ہیں اور امریکہ کتنا بدل گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’علاج معالجہ مسلسل مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ اپنا گھر ہونے سے اب اتنا تحفظ حاصل نہیں ہوتا جتنا مجھے 2000 میں اپنا پہلا گھر خریدتے وقت محسوس ہوتا تھا۔ دوسرے ملکوں میں علاج معالجے کو بنیادی انسانی حق سمجھا جاتا ہے اور یہ بات ہمارے اس نظریے سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے کہ آمدن خواہ کتنی بھی ہو، ہر شخص کو ڈاکٹر سے علاج کرانے کی سہولت ملنی چاہیے۔‘ گرین کے بڑے بیٹے ٹرانس جینڈر ہیں اور یہ بات ان کے خاندان کے پرتگال منتقل ہونے کی ایک بہت اہم وجہ تھی۔ وہ کہتی ہیں، ‘اسے اس معاشرے میں پھلتے پھولتے اور اپنے دوست بناتے دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ اسے ملازمت مل گئی، اس نے فلیٹ لے لیا اور وہ واقعی بہت اچھی زندگی گزار رہا ہے۔‘ گرین کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ میں ہر شخص کے صرف اپنے بارے میں سوچنے کے رویے سے تنگ آ چکی تھیں۔ ان کا خاندان جس ملک میں منتقل ہونا چاہتا تھا، وہاں ایک دوسرے کا ساتھ دینے والی برادری کا ہونا ان کے لیے بہت اہم تھا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وہ کہتی ہیں: ’امریکہ میں ہماری حکومت زیادہ مستحکم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی رہی ہی نہیں۔ ہر چار سال بعد اصول بدل جاتے ہیں کہ آپ کو کس سے محبت کرنی چاہیے اور کس سے نفرت۔ آپ سخت محنت کرتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں، لیکن علاج معالجہ آپ کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے اور اچھی چھٹیاں گزارنا بھی اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ ’یہ بات بچپن ہی سے ہمارے ذہنوں میں بٹھا دی جاتی ہے۔ ہم ہر صبح سکول میں کھڑے ہو کر قومی وفاداری کا عہد دہراتے ہیں کہ ہمارا ملک دنیا کا عظیم ترین ملک ہے، لیکن یہ محض پراپیگنڈا ہے۔‘ برسلز میں یونیورسٹی آف کینٹ میں نقل مکانی اور سیاست کی استاد امانڈا فان کوپن فیلز نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی جانب سے ایک لاکھ 50 ہزار افراد کے امریکہ چھوڑنے کی تعداد محض ایک اندازہ ہے، لیکن بعض دوسرے شواہد بھی اس کی تصدیق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق صرف اپنے آبا و اجداد کی بنیاد پر آئرلینڈ کی شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند امریکیوں کی تعداد 2025 میں 63 فی صد بڑھ گئی۔ یہ تعداد 2024 میں 11 ہزار 601 تھی جو 2025 میں بڑھ کر 18 ہزار 910 ہو گئی۔ 2013 میں ڈیجیٹل ریکارڈ شروع ہونے کے بعد یہ سب سے بڑی تعداد تھی۔ فان کوپن فیلز کہتی ہیں، ’اب لوگوں میں یہ شعور بڑھ گیا ہے کہ یورپ رہنے کے قابل جگہ ہے اور اب یہ وہ خطہ نہیں رہا جہاں سے ان کے پڑدادا اور پرنانا جان بچا کر نکلے تھے۔ لوگ اب بھی ملازمت کا بہترین موقع ملنے، کسی شریک حیات یا ساتھی سے ملنے یا ماسٹرز پروگرام میں داخلہ ملنے کی وجہ سے ملک چھوڑتے ہیں، لیکن اب وہ بہتر معیار زندگی کی تلاش میں بھی جا رہے ہیں۔‘ ٹفٹس یونیورسٹی میں سماجیات کی پروفیسر اور نقل مکانی اور بیرون ملک آباد ہونے کے امور کی ماہر ہیلن میرو کہتی ہیں کہ 2008 کے شدید معاشی بحران کے بعد ہی ملک چھوڑنے والے امریکیوں کی تعداد میں نمایاں تبدیلی نظر آنا شروع ہوئی تھی۔ ان کے مطابق اس وقت تقریباً ایک تہائی سے دو پانچواں حصہ امریکی کسی نہ کسی انداز میں بیرون ملک رہنے کے بارے میں سوچتے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر اس پر سنجیدگی سے عملی غور نہیں کرتے۔ میرو کہتی ہیں کہ گذشتہ دس برس میں اس صورت حال میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ 19 جولائی، 2026 کو ٹیکسس کے شہر ہیوسٹن میں ہونے والے مظاہرے میں شریک خاتون نے پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے جس پرامیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ختم کرنے کا مطالبہ درج ہے (اے ایف پی) وہ کہتی ہیں کہ یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے باعث پناہ کے خواہش مندوں اور یہاں تک کہ قانونی طور پر امریکہ آنے والوں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔ ’اس لیے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ آنے والوں کے مقابلے میں ملک چھوڑنے والوں کی تعداد زیادہ ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگوں کو ملک بدر کر دیا گیا یا وہ خود ہی ملک چھوڑ گئے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ قدامت پسندوں میں بیرون ملک منتقل ہونے کی خواہش کم ہوئی ہے، جبکہ آزاد خیال لوگوں میں یہ خواہش قدرے زیادہ ہے۔ ’جب لوگ بیرون ملک رہنے کے بارے میں سوچتے ہیں تو اس کی بڑی وجوہات میں معیار زندگی اور یہاں امریکہ میں زندگی گزارنے کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ وہ ایسی جگہ رہنا چاہتے ہیں جہاں زندگی گزارنا زیادہ سستا ہو، انہیں علاج معالجے کی سہولت حاصل ہو اور انہیں یقین ہو کہ وہ محفوظ ہیں۔‘ ٹی جے میلون کے والد 97 برس اور والدہ 98 برس تک زندہ رہیں۔ ٹی جے میلون کے بقول: ’میں اتنی طویل عمر پاؤں گا یا نہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کا خاصا امکان ہے۔‘ ان کے بقول اگلی دو دہائیاں نیویارک میں گزارنے کی بجائے پرتگال میں رہنا کہیں بہتر انتخاب معلوم ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’وہاں زندگی زیادہ سادہ ہے اور موسم اچھا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی اسی شہر میں گزاری ہے اور اب اس عمر میں تھوڑی سی مہم جوئی کرنے سے نہیں ڈرتا۔ ایلمائرا میں بہت سے دن درجہ حرارت صفر سے بھی نیچے رہتا ہے اور میں برف ہٹانے والا بیلچہ اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘ امریکہ شہری امیگریشن یورپ امریکہ کے قیام کے 250 برس بعد امریکی شہری سکیورٹی، علاج معالجے اور بہتر مستقبل کی تلاش میں ریکارڈ تعداد میں اپنا محبوب ملک چھوڑ رہے ہیں۔ ایلکس ہینفورڈ اتوار, جولائی 26, 2026 – 11: 45 Main image:
امریکہ میں مارشل ایئرپورٹ پر 26 نومبر 2025 کو ایک شخص گزر رہا ہے جس کے پیچھے کھڑے جہازوں کو دیکھا جا سکتا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)
امریکہ type: news related nodes: امیگرنٹ ویزا پر عارضی وقفہ: ہیوسٹن میں پاکستانی برادری میں خوف اور غیر یقینی امریکہ نے 19 غیر یورپی ممالک کی تمام امیگریشن درخواستوں کو روک دیا ’تیسری دنیا‘ سے امریکہ کے لیے امیگریشن مکمل بند کر دیں گے: ٹرمپ پانچ ہزار امریکی شہریوں نے 2025 میں ملک چھوڑ دیا SEO Title: نیا امریکی خواب: امریکہ چھوڑ کر یورپ چلے جائیں copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/life-style/american-europe-trump-moving-abroad-b3016859. html show related homepage: Hide from Homepage



