چوپال سجی ہوئی تھی، سب براجمان تھے۔ چپ سائیں حسب عادت اخبار کے مطالعہ میں مصروف تھے۔ چاچا عبدالرشید اپنے ساتھ پوتے کو لائے، اس کی عمر لگ بھگ پندرہ برس تھی۔ نتھو اور پھتو بولے۔۔۔ چاچا جی خیرتو ہے، آج تو اس بچے کوبھی ساتھ لے کر آئے ہیں۔۔ چاچا عبدالرشید بولے۔۔ بھائیو! ۔۔ دراصل آج میں اسے چوپال کا ادب آدا ب اور بزرگی کے آداب کا سبق دینا چاہتا تھا۔۔۔ سب چپ سائیں کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔۔ چپ سائیں نے اخبار ایک طرف رکھ دیا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد بولے۔۔۔ بھائی عبدالرشید معاملہ کیا ہے؟۔۔ چاچا عبدالرشید بولے۔۔ سائیں جی۔۔ یہ میرے درمیان والے بیٹے کا بڑا بیٹا ہے۔۔دراصل یہ عمر کے لحاظ سے تو کافی سمجھدار ہے لیکن تھوڑا جلد باز ہے اور اکثر معاملات میں جلدبازی دکھاجاتا ہے،قطع نظراس کے کہ معاملہ کوئی بھی ہو۔۔ خیر سائیں جی اس کو اس بارے میں کچھ بتائیں اور سمجھائیں۔۔ چپ سائیں ساری بات سننے کے بعد گویا ہوئے۔۔ بھائیو اور دوستو بات تو سچ ہے کہ آج کی نسل ہم بزرگوں سے کافی سمجھدار ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پتہ نہیں اتنی جلد باز کیوں ہے اور کیا جلدی ہے؟۔۔۔ تحمل تو ان میں نام کا نہیں بس یہ ہماری سننے کی بجائے اپنی ہی کہتے جاتے ہیں اور چاہتے ہیںکہ ان کی بات مانی جائے۔۔دوستو! ٹھیک ہے کبھی ان کی بات مان لی جائے اور کبھی یہ بھی ہم بوڑھے بزرگوں کی بات کو مان لیں۔۔۔ صاحبو! اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ یہ نسل ہم سے زیادہ سیکھ چکی ہے ، یہ بھی درست ہے، ان کا مشاہدہ بہتر ہے ، یہ بھی درست ہے کہ یہ نسل تجربے کرنے کی بجائے عملی کام کرنا چاہتی ہے لیکن بھائی عبدالرشید کچھ باتیں اور کچھ چیزیں وقت گزرنے اور عمر کی پختگی سے ہی سمجھ آتی ہیں۔۔۔ ہماری نسل ان بچوں کو یہی سمجھا رہی ہوتی ہے ہمارے پاس تجربہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم کو بھی تو ان کی بات سمجھنی چاہئے۔۔۔ ان کے بھی جذبات ہیں ہم بزرگوں کو ان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنی چاہئے۔۔۔ سب نے چپ سائیں کی بات سن کر ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔چوپال کے بچوں اور بھائیو! نوجوان نسل کے خیالات، رویے اور فیصلے مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں نوجوانوں کو بے شمار مواقع حاصل ہیں، وہیں تیز رفتار زندگی، سوشل میڈیا کے دبا¶ اور فوری نتائج کی خواہش نے تحمل اور برداشت کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔تحمل کا مطلب صرف خاموشی نہیں بلکہ مشکل حالات میں سوچ سمجھ کر ردِعمل دینا، دوسروں کے خیالات کا احترام کرنا اور اختلاف کو مثبت انداز میں قبول کرنا ہے۔ ایک تحمل والا نوجوان غصے کے بجائے دلیل، نفرت کے بجائے مکالمے اور جلد بازی کے بجائے حکمت کو ترجیح دیتا ہے۔تحمل پیدا کرنے کےلئے خود پر قابو، مطالعہ، مثبت صحبت اور مختلف نقطہ نظر رکھنے والے لوگوں سے گفتگو ضروری ہے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں میں برداشت، احترام اور امن کے جذبات کو فروغ دیں۔بھائی عبدالرشید کامیاب نوجوان وہی ہے جو علم اور صلاحیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی مضبوطی بھی رکھتا ہو۔ تحمل نوجوانوں کو نہ صرف ذاتی زندگی میں کامیاب بناتا ہے بلکہ ایک پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔نتھو،پھتو میرے بچوں ماضی کا دور ایسا تھا کہ بچوں میں اپنے بڑوں کے آگے بولنے کی ہمت تک نہیں ہوتی تھی، اگرچہ اس دور میں بچے بات ٹھیک ہی کررہے ہوتے تھے لیکن جو بات بڑوں نے کہہ دی وہ کہہ دی۔۔ اس پر سب معاملہ ختم ہو جاتا تھا۔۔ تاہم آج کادور ہی جلدی اور انتہائی تیزی کا ہے اسی وجہ سے نئی نسل بھی کچھ زیادہ ہی تیزی میںہے اور تحمل کے معنوں سے انتہائی دور ہے۔ اس تصویر کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ماضی میں اختلاف رائے کے باوجود لوگ ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے تھے، مگر آج کے دور میں معمولی اختلافات بھی بعض اوقات تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔نوجوانی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جس میں انسان کے اندر توانائی، جذبہ اور تبدیلی لانے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ نوجوان ہی ٹرین کے انجن کی طرح سب سے آگے ہوتے ہیں اوربڑوں کا کام تو ان کی رہنمائی ہے۔۔تاہم اب یہ بھی ہے کہ بڑے اپنی بات بچوں کو کس طرح سمجھا پاتے ہیں۔۔تاکہ کامیابی ان کے قدم چومے۔۔۔ دوستو! اہم بات یہ ہے کہ اگر توانائی تحمل، مثبت سوچ اور تعمیری سرگرمیوں میں استعمال ہو تو نوجوان معاشرے کی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ تحمل پیدا کرنے کےلئے ضروری ہے کہ نوجوان خود احتسابی کی عادت اپنائیں،بزرگوں کی بات کو سننے کی عادت بنائیں، اپنے موقف کو دوسروں تک صحیح طرح سے پہنچانے کا ہنر سیکھیں۔ دوسروں کی رائے کا احترام کریں۔ والدین اور اساتذہ کا کرداربہت اہم ہے۔ اگر گھر اور تعلیمی اداروں میں بچوں کو صبر، احترام، برداشت اور مکالمے کی اہمیت سکھائی جائے تو ایک ایسی نسل تیار ہو سکتی ہے جوانتہائی ذہین ہوگی کیونکہ اس نسل کے ساتھ زندگی کا تجربہ بھی شامل ہوگا۔ آج دنیا کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو صرف جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے واقف نہ ہوں بلکہ اخلاقی اقدار سے بھی مضبوط ہوں۔ تحمل ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو کمزور نہیں بلکہ زیادہ باوقار بناتی ہے۔ نوجوان نسل اگر برداشت اور صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو وہ ایک بہتر فرد کے ساتھ ساتھ ایک بہتر معاشرے کی بنیاد بھی رکھ سکتی ہے۔بھائی عبدالرشید آپ کا یہ پوتا ہمار ابھی پوتا ہے، چپ سائیں نے بچے کو اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا اور کہا کہ دیکھو بیٹا میری بات یاد رکھو معاشرے تلوارسے نہیں بلکہ کردار، برداشت اور شعور سے پنپتے اور پروان چڑھتے ہیں۔ہمارے بزرگ کہا کہاکرتے تھے کہ جوانی کی عمر میں خون گرم ہوتا ہے اسی وجہ سے غصہ اور برداشت کم ہوتی ہے لیکن دماغ کوٹھنڈا رکھنا چاہئے۔ بات منوانے کا اصل فن یہ ہے کہ ہم اپنی بات اس انداز میں کریں کہ دوسروں کے دل میں اترجائیں اور سامنے والا ہماری بات ماننے پر خود ہی آمادہ ہوجائے اور بحث کی نوبت ہی نہ آئے۔ ہماری اقدار بھی یہی ہے کہ ہم نے بحث اور شور شرابے سے بات نہیں منوانی بلکہ دوسروں کو دلیل سے قائل کریں اگر قائنل نہ کرسکیں تو تحمل سے سامنے والے کی بات سنیں اور آخر میں انتہائی ٹھنڈے دماغ سے صحیح اور غلط کا فیصلہ کریں۔۔۔رہے نام اللہ کا!



