81.9 F
Pakistan
Monday, July 27, 2026
HomeBreaking Newsنواز شریف پاکستانی سیاست کیلئے ناگزیر ۔۔۔

نواز شریف پاکستانی سیاست کیلئے ناگزیر ۔۔۔

پاکستان کی سیاست بہت تلخ تاریخی پس منظر رکھتی ہے۔ عدم استحکام، انتشار ، خلفشار، اندرونی و بیرونی دباو¿ اسٹیبلشمنٹ سے تکرار ،براہ راست آمریت، عدالتی دخل اندازی، پھانسیوں ، کوڑوں قید و بند سمیت جلا وطنی جیسے دل خراش واقعات ہماری سیاسی تاریخ کے اہم محرکات اور عوامل ہیں۔ ان حالات و واقعات میں گزشتہ چالیس سال انتہائی اہم اور پاکستان کے مستقبل کیلئے کبھی امید نو اور کبھی مایوسی کے بادل ثابت ہوئے ۔ درحقیقت سیاست اور سیاسی سوچ کو پنپنے ہی نہیں دیا گیا یہاں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ سیاستدان بھی کہیں نہ کہیں قصوروار ہیں کہ ان کے ہاں بھی سیاسی سوچ، تحمل مزاجی اور برداشت سمیت معاملہ فہمی کا شدید فقدان رہا بالخصوص 90 کی دہائی کی سیاست آج بھی ایک سیاہ باب کی طرح یاد کی جاتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان سیاسی دشمنی ذاتی حد تک بڑھی اور پھر تیسری قوت کو رستہ ملا اور یوں طویل عرصے کیلئے لولی لنگڑی جمہوریت نے بھی اپنا وجود کھو دیا۔ بالآخر سیاست دانوں نے اپنا احتساب کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں ایک دوسرے کے نقطہ نظر اور سوچ کو برداشت کرنا چاہئے اور اختلاف رائے سیاسی انداز میں ہو اور جمہوریت کو رستہ دینا چاہئے تاکہ ہمارے آپسی اختلافات کی آڑ میں کسی اور کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔ چنانچہ 14 مئی 2006 کو پاکستان کی دو اہم اور بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے سربراہان نے لندن میں طویل جدو جہد کے بعد میثاقِ جمہوریت پر دستخط کئے تاریخ میں پہلی بار محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف ایک نقطے پر اکٹھے ہوئے اور اس بات کا عزم کیا کہ ہم خلاف جمہور کوئی کام نہیں کریں گے اور نہ کسی کیلئے استعمال ہوں گے ۔ اس کے بعد پرویز مشرف کا تختہ بھی الٹا گیا اور نتیجتاً محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت بھی ہوئی اور میاں نواز شریف پر بھی فیلڈنگ سیٹ کر دی گئی۔ طاقتور حلقوں نے میثاق جمہوریت سے گھبرا کر بغل بچہ یعنی پراجیکٹ عمران خان پر کام تیز کیا اور یوں حقیقی جمہوریت کا رستہ روکنے کے تمام وسائل کے ساتھ گراو¿نڈ بنانا شروع کر دی گئی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی سیاستدانوں کی بالغ نظری تھا بالخصوص میاں نواز شریف نے کمال حسن ظن سے ملک میں سیاسی سوچ کو پروان چڑھانے کیلئے دل بڑا کیا اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کو برداشت کیا اور کوشش کی کہ ملک میں سیاست اور جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوں۔ پاکستانی سیاست میں نواز شریف کا ناگزیر ہونا اس نظریے یا دعوے کو ظاہر کرتا ہے کہ ملکی نظام، معیشت اور سیاسی استحکام کو چلانے کے لیے ان کا کردار انتہائی ضروری ہے۔ طویل سیاسی تجربہ، فیصلہ سازی کی صلاحیت اور پاکستان کیلئے خدمات ان کا طرہ امتیاز ہے۔ میاں نواز شریف کا شمار پاکستان کے ان چند سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ملک کی تاریخ اور سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ وہ تین بار پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے، جو کہ ملکی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ ہے۔ ان کا سیاسی سفر چار دہائیوں سے زائد پر محیط ہے، جس کے دوران انہوں نے عروج و زوال کے کئی دور دیکھے۔ پاکستانی سیاست میں ان کی اہمیت اور ضرورت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ نواز شریف یقینا اس سسٹم کے ڈسے ہوئے، اپنوں کی کج ادائی اور کچھ ناقابلِ بیان ظلم و جبر کی داستانوں کے امین ہیں۔ ایک ایسا شخص جس کے کریڈیٹ پر پاکستان کی ایٹمی طاقت، میزائل ٹیکنالوجی، ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنا ، عالمی سطح پر سفارتی کامیابیوں سمیت بے شمار کارہائے نمایاں ہوں اسے جب سیاست سے الگ تھلگ کیا جائے گا تو یقینا اس کے بھیانک نتائج ہی سامنے آئیں گے ۔ نواز شریف ناراضی کے ساتھ ساتھ دکھی بھی ہیں۔ وہ موجودہ سسٹم کا حصہ تو ہیں مگر وہ شاید لاشعوری طور پر اسے تسلیم نہیں کر پا رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 21 اکتوبر 2023 کو وطن واپسی کے بعد مینار پاکستان کے جلسہ عام کے بعد عوام انہیں وزیر اعظم دیکھنا چاہتے تھے۔ اور پھر 2024 کے انتخابات کے بعد سے وہ سیاسی سرگرمیوں سے الگ تھلگ ہو گئے جو عوامی حلقوں میں تشویش کا باعث بنا۔ تاہم گلگت بلتستان اور اب کشمیر کے انتخابات میں ان کی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ہی ایک امید کی کرن سامنے آئی ہے کہ پاکستان کے سب سے سینئر، زی شعور، تجربہ کار اور ہر قسم کے بحرانوں سے نکلنے کی صلاحیت رکھنے والے رہنما پھر سے سیاست کے میدان میں اترے ہیں میاں نواز شریف کا ملکی بحرانوں سے نمٹنے میں کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ وہ اس وقت سیاست کے میدان میں بڑے کھلاڑی ہیں۔ میاں محمد نواز شریف کی ملکی سیاست میں واپسی اور ان کا ممکنہ کردار اس وقت پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا موضوع ہے۔ ملک کو درپیش موجودہ معاشی، سیاسی اور آئینی بحرانوں کے تناظر میں ان کی قیادت کو اہم زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے ۔معاشی بحالی اور ترقی کا بیانیہ ان کا مضبوط قلعہ ہے ۔ موجودہ شدید معاشی بحران اور مہنگائی کے دلدل سے نکالنے کی صلاحیت صرف ان کے پاس ہے۔ اس بیانیے کی بنیاد ماضی کا ناقابلِ فراموش ریکارڈ ہے 1990 کی دہائی کی معاشی اصلاحات اور 2013 سے 2017 کے درمیان سی پیک کے تحت بجلی کے کارخانے اور موٹرویز کا جال بچھانا ان کے کریڈٹ پر ہے۔ معاشی استحکام نواز شریف نے کر کے دکھایا تھا۔ نواز شریف کے دور میں ڈالر کی قیمت مستحکم رہی، جی ڈی پی گروتھ 5. 8 فیصد تک پہنچی اور مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں تھی۔کاروباری برادری، تاجر اور سرمایہ کار روایتی طور پر نواز شریف کی کاروباری دوست پالیسیوں پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں، جس سے ملک میں دوبارہ سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔ موجودہ دور میں ملک شدید سیاسی پولرائزیشن یعنی تقسیم کا شکار ہے۔ نواز شریف کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں تاکہ ملک میں وہ سیاسی استحکام آ سکے جو معاشی ترقی کے لیے پہلی شرط ہے۔ اس وقت نواز شریف کے نام پر بننے والی حکومت کے فیصلے عوامی حلقوں میں تنقید اور مایوسی کا سبب بن رہے ہیں بالخصوص انرجی سیکٹر میں روز بروز بڑھتی مہنگائی حکومتی وزرا کی نا اہلی اور عوامی حلقوں سے دوری ن لیگ کی سیاست کیلئے نقصان دہ ہے۔ عوامی سطح پر میاں نواز شریف کی سیاست میں فعالیت سے ایک امید بندھی ہے کہ اب مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کیلئے زندگی آسان ہو گی۔ نواز شریف نے ہمیشہ عوام کو ترجیح دی ہے اور بلا تفریق عوام کیلئے آسانیاں اور روزگار پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ عوام یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ نواز شریف اپنی وفاقی حکومت سے عوام کیلئے ریلیف لیں گے۔ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ نواز شریف بلا شبہ پاکستان کے سینئر ترین سیاستدان ہیں اور ان کا تجربہ ملکی بحرانوں کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم آج کے حالاتِ زندگی اور بدلتے ہوئے تقاضے نواز شریف کیلئے ایک چیلنج ہیں۔ سیاسی عدم استحکام عالمی حالات اور خطے کی صورتحال کا بھی پاکستان پر گہرا اثر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نواز شریف ایوان میں ہاو¿س ان آرڈر کریں اور اپنے تجربات اور بصیرت سے عوام کیلئے اس گھٹن زدہ ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments